ٹرمپ کا مودی سے متعلق پرانا ویڈیو بیان زیرِ بحث، وزارتِ خارجہ کا محتاط ردعمل

سیل رواں ڈیسک

واشنگٹن/نئی دہلی: امریکی صدر Donald Trump کا وزیر اعظم Narendra Modi سے متعلق ایک پرانا ویڈیو بیان ایک بار پھر سوشل میڈیا پر گردش کر رہا ہے، جس کے بعد بھارت میں سیاسی و سفارتی حلقوں میں بحث چھڑ گئی ہے۔ اس معاملے پر Ministry of External Affairs نے محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ویڈیو کی تصدیق کے بعد ہی کوئی مناسب قدم اٹھایا جائے گا۔

رپورٹ کے مطابق، یہ ویڈیو اُس وقت کا ہے جب ٹرمپ نے میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کے دوران مودی کے حوالے سے کہا تھا کہ وہ ان کے سیاسی کیرئیر کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتے۔ ٹرمپ نے مودی کو “اچھا اور مضبوط رہنما” قرار دیتے ہوئے نیم مزاحیہ انداز میں یہ جملہ کہا، تاہم اب اس بیان کو مختلف تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

یہ گفتگو مبینہ طور پر White House میں ایک پریس انٹریکشن کے دوران ہوئی تھی، جب بھارت اور امریکہ کے درمیان روس سے تیل کی خریداری اور تجارتی معاملات پر کچھ کشیدگی پائی جاتی تھی۔

بھارت کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان Randhir Jaiswal نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے یہ ویڈیو نہیں دیکھی، تاہم اگر ایسا کوئی کلپ موجود ہے تو حکومت اس کی حقیقت جانچنے کے بعد ضروری کارروائی کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ سفارتی معاملات میں قیاس آرائیوں کے بجائے مصدقہ معلومات کو بنیاد بنایا جانا چاہیے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق پرانے بیانات کا اچانک منظرِ عام پر آنا دونوں ممالک کے تعلقات پر براہِ راست اثر نہیں ڈالتا، خصوصاً ایسے وقت میں جب بھارت اور امریکہ کے درمیان دفاعی اور تجارتی تعاون میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم اس طرح کے تبصرے سفارتی آداب اور سیاسی حساسیت کے باعث توجہ کا مرکز ضرور بن جاتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں دونوں ممالک اپنے تعلقات کو عملی تعاون کی بنیاد پر آگے بڑھا رہے ہیں، اس لیے ایسے بیانات کو زیادہ اہمیت دیے جانے کا امکان کم ہے، تاہم حکومت کی جانب سے سرکاری وضاحت سامنے آنا ضروری سمجھا جا رہا ہے۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔