یوپی ، ماب لنچنگ اور یوگی

ازقلم: شکیل رشید ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز

کبھی میں نے اس کالم میں ایک سوال اٹھایا تھا ؛ یوگی اور نیرو میں کیافرق ہے ؟ اور جواب بھی دیا تھا کہ شاید دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے ۔ جس طرح روم کے جلنے پر نیرو بانسری بجارہا تھا اسی طرح اترپردیش (یوپی) میں تشدد کے واقعات بالخصوص ماب لنچنگ کے واقعات پر یوگی کہتے پھررہے ہیں کہ ’یوپی میں سب ٹھیک ہے ‘ ۔ ابھی جمعہ کے روز ’ سینٹر فار دی اسٹڈی آف سوسائٹی اینڈ سیکولرزم ‘ ( سی ایس ایس ایس ) کی ایک رپورٹ آئی ہے ، جس نے ماب لنچنگ کے اعداد و شمار دیے ہیں ، اور بتایا ہے کہ اتر پردیش ( یو پی ) میں ماب لنچنگ کے سب سے زیادہ واقعات ہوئے ہیں ۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں میں ماب لنچنگ کے واقعات میں اٖضافہ ہوا ہے ، اور ان میں یوگی کی ریاست سرِ فہرست ہے ۔ ایک خبر مزید سُن لیں ؛ خبر یو پی کے بلند شہر کی ہے جہاں سکندر آباد کوتوالی کے بھونکھیڑا گاؤں کے مسلمانوں کو دھمکی دی گئی ہے کہ وہ ۲۴ گھنٹہ کے اندر گاؤں خالی کرکے چلے جائیں ، اگر نہیں گیے تو اُنہیں زندہ جلا دیا جائے گا ۔ یہ دھمکی پمفلٹس کے ذریعہ دی گئی ہے ، جو مسلمانوں کے گھروں پر پھینکے گیے ہیں ۔ یوگی حکومت ایسی خبروں پر ہمیشہ سُوتی رہی ہے ، اس بار بھی سو رہی ہے ۔ سچ کہیں تو یو پی ملک کی وہ ریاست ہے ، جہاں اِن دنوں نفرت کا عفریت بے لگام ہے ۔ یوگی حکومت یہ دعوے تو کر رہی ہے کہ ’ ریاست میں سب ٹھیک ہے ‘ لیکن سچ یہی ہے کہ اس دعوے کے بیچ وہاں کبھی مسجدیں شہید ہو رہی ہیں ، تو کبھی مسجدوں اور مدرسوں کو نوٹس دیا جا رہا ہے ۔ اور باقی وقت ماب لنچنگ کے لیے ہے ۔ یہ سب واقعات بے وجہ نہیں ہیں ، بلکہ یوگی حکومت ابھی سے یوپی کے آنے والے اسمبلی الیکشن کی تیاری میں جُٹ گئی ہے ، اور یہ سب اسی کی منصوبہ بندی ہے ۔ آنے والے دنوں میں اِن واقعات میں مزید تیزی یا شدت آسکتی ہے ۔ مزید عبادت گاہیں ، اور مدارس ’ غیر قانونی ‘ قرار دے کر منہدم کیے جاسکتے ہیں ، اور ماب لنچنگ کے واقعات میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے ۔ یوگی سرکار کے پاس یوپی کو ’ جیتنے‘ یا اس پر’ قابض‘ رہنے کا یہ آسان راستہ ہے کہ وہاں اس قدر فرقہ پرستی پھیلادی جائے کہ یوگی سرکار کی ناکامیاں اور لاپروائیاں چھپ جائیں اور فرقہ پرستی کے ریلے میں لوگوں کی ناراضی دَب جائے ۔ اور ووٹ دوبارہ بی جے پی کی جھولی میں گریں ۔ ویسے بھی الیکشن کمیشن مہربان ہی ہے ۔ اس بار اپوزیشن کی طرف سے بھی یوگی کے خلاف زبردست محاذ ہے ، بالخصوص سماج وادی پارٹی کے قائد اکھلیش سنگھ یادو کی طرف سے ۔ مزید یہ کہ یوگی کے لیے اس بار یوپی کی ہار اور جیت جینے یا مرنے کے مصداق ہے ۔ امیت شاہ بھی اُن کے خلاف مورچہ کھولے ہوئے ہیں ۔ اندرونی طور پر بی جے پی میں بھی اُن کے خلاف ایک گروہ سرگرم ہے ، یعنی یوگی کو کئی مورچوں پر لڑنا ہے ، اگر وہ یوپی ہارے تو اُن کی سیاست کا بیڑہ غرق ہو جائے گا ۔ لہذا یوگی فرقہ پرستی کا سہارا لے سکتے ہیں ۔ یوگی سرکار کی یہ کوشش ہوگی کہ ’ ہندوتوا ‘ کی سیاست کے ساتھ ساتھ ذات پات کی سیاست کو بھی گرم کیا جائے ۔ ان کے پاس الیکشن جیتنے کے لیے نہ ہی وکاس کے کام ہیں اور نہ ہی لوگوں کی بھلائی کے کام ، بس فرقہ پرستی اور ماب لنچنگ ہی ان کی زنبیل میں ہے ۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔