وینزویلا؛ دولت، ثقافت اور آزمائشوں کا آئینہ!

حالات کی بہتری کے لئے مفتی خالد حسین صاحب کی سایۂ کعبہ میں مخلصانہ دعائیں !

✍️: شکیل منصور القاسمی

وینزویلا جنوبی امریکہ کے شمال میں واقع ایک پہاڑوں سے گھرا ہوا ملک ہے، جو قدرتی دولت اور فطری جمال سے مالا مال ہے۔ شمال میں کیریبین سمندر، مشرق میں گیانا اور سورینام، جنوب میں برازیل اور مغرب میں کولمبیا سے اس کی سرحدیں ملتی ہیں، دارالحکومت کراکس ہے اور سرکاری زبان ہسپانوی۔

سنہ ۲۰۱۲ء میں سابق صدر شاہ ویز کے عہد میں میں نے چند رفقاء کے ہمراہ اس ملک کا چند روزہ دعوتی دورہ کیاتھا، دارالحکومت کے قلب میں سعودی حکومت نے ایک فلک بوس و عالی شان مسجد تعمیر کرائی ہے، جس میں مکتب، لائبریری اور وسیع و عریض کھیل ہال موجود تھے۔ مسجد کے بالکل سامنے ایک اسی شان و شکوہ کا چرچ واقع ہے، اور دونوں عمارتیں فن تعمیر اور بلندی میں ایک دوسرے سے سبقت لے جاتی ہوئی دکھائی دیتیں۔ یہ منظر مذہبی تنوع، روحانیت، جمال اور ہم آہنگی کی دلکش مثال پیش کرتا ہے۔

وینزویلا دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر کا حامل ملک ہے، جس کے سبب یہاں پٹرول تاریخی طور پر انتہائی سستا رہاہے۔ میرے ٹیکسی ڈرائیور نے بتایا کہ یہاں کار کا ٹینک صرف چند پیسوں میں فل کر دیا جاتا ہے، یعنی تیل تقریباً مفت ہی ملتا ہے، صرف تیل بھرنے والے ملازم کو چند سینٹ دیے جاتے ہیں۔ ملک میں بڑے اور خوبصورت مالز و سوپر مارکیٹس موجود ہیں، مگر اسی کے ساتھ چوری، ڈاکہ زنی اور لاقانونیت بھی عام تھی۔

امن و امان کے حوالے سے وینزویلا ایک پیچیدہ تصویر پیش کرتا رہا ہے۔ قانون موجود تو ہے، مگر جرائم کی شرح اور قانونی نفاذ میں مشکلات شہریوں کے لیے اکثر خطرناک ثابت ہوتی رہی ہیں۔ بڑے بڑے عرب تاجروں کے بینک اکاؤنٹس حکومت جب چاہتی ضبط کر لیتی تھی، اور یہ منظر ملکی تجارتی زندگی کے پیچیدہ حالات کی عکاسی کرتا ہے۔

مذہب کی اکثریت کیتھولک مسیحی ہے، جبکہ مسلمان کمیونٹی اور عرب تارکین وطن نسبتاً کم ہیں، جن کی تعداد تقریباً ۲۵,۰۰۰ سے ۳۰,۰۰۰ کے درمیان ہے۔ یہاں کے عرب زیادہ تر لبنانی، شامی اور فلسطینی نژاد ہیں، اور تجارتی و کاروباری سرگرمیوں میں سرگرم ہیں۔ بعض عرب تاجروں کی دولت و ترقی قابل رشک ہے، اور بڑے فلسطینی اسکول و مدارس بحمد اللہ قائم ہیں، جہاں دعوتی مراکز بھی فعال ہیں۔

ثقافتی لحاظ سے وینزویلا موسیقی، رقص اور روایتی کھانوں کی بستی ہے۔ لوگ اپنی فطری دولت اور متنوع ثقافت کے باوجود معاشی اور سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے میں مصروف رہے ہیں۔ کچھ تو حکمرانوں کی من مانی اور جبر، اور کچھ ملک کی بے پناہ قدرتی دولت وذخائر کے سبب وینزویلا نے ابتدا ہی سے عالمی سپر پاورز کی نظریں اپنی طرف مبذول کر رکھی تھیں۔ حال ہی میں، لاقانونیت اور کرپٹ سرگرمیوں کے الزام میں موجودہ صدر کو اہلیہ سمیت گرفتار کر ملک بدر کردیا گیا ہے، جو آزاد و خودمختار ریاستوں کے خلاف جبر و تسلط کی واضح مثال ہے، اور بلا شبہ مذمت کے مستحق ہے۔

اس دوران میرے کئی مخلص احباب نے فون کر کے حال احوال دریافت کیے۔ انہی میں میرے سینئر ترین دوست، نامور اور بالغ نظر عالم دین اور ممتاز فاضل محقق، دارالعلوم دیوبند کے مایہ ناز سپوت، اور انٹرنیشنل علماء کونسل قطر کے معزز رکن، جناب مفتی محمد خالد حسین صاحب نیموی قاسمی زید مجدہ ہیں، جو اس وقت عمرہ کے مبارک سفر پر مکہ مکرمہ میں مقیم ہیں۔

حضرت مفتی صاحب نے دوران طواف مطاف میں میرے لیے، دارین کی عزت و سربلندی اور امت کی بھلائی کے لیے دعائیں فرمائیں۔ انہوں نے نہ صرف میری خیریت دریافت کی، بلکہ علاقائی حالات کے بارے میں بھی سوال کیا اور سب کی بہتری، امن و امان اور سلامتی کے لیے خصوصی دعائیں کیں۔ یہ ناچیز کے حوالے سے ان کے شفقت آمیز برادرانہ خلوص، غائبانہ خیر خواہی اور دل کی نیک نیت کی اعلیٰ مثال ہے۔
میں حضرت مفتی صاحب کا دل کی گہرائیوں سے شکر گزار ہوں کہ انہوں نے سایہ کعبہ میں ناچیز کو یاد رکھا اور مخلصانہ قیمتی دعاؤں سے نوازا۔ اللہ تعالیٰ ان کے عمرے کو قبول فرمائے، انہیں صحت و سلامتی کے ساتھ وطن واپس لوٹائے، اور اس کرم فرمائی و ذرہ نوازی کا انہیں اپنی شایان شان بدلہ عطا فرمائے۔

بے لوث غائبانہ دعاؤں میں ہی اصل خیرخواہی اور اخوت ومودت پوشیدہ ہے۔ اللہ آپ کا اقبال بلند کرے اور سلامت و باکرمات رکھے۔ آمین

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔