وجود خدا پر مباحثہ کے معاشرتی اثرات

از:- ڈاکٹر ظفردارک قاسمی

وجودِ خدا کا مسئلہ انسانی فکر و شعور کے قدیم ترین اور بنیادی سوالات میں سے ایک ہے۔ انسان جب کائنات، اپنی ذات اور زندگی کے مقاصد پر غور کرتا ہے تو فطری طور پر یہ سوال اس کے ذہن میں ابھرتا ہے کہ یہ منظم اور بامقصد نظام کس نے قائم کیا؟ مذہب، فلسفہ اور عقلِ انسانی تینوں اس سوال کا جواب مختلف زاویوں سے دیتے ہیں، مگر نتیجہ ایک ہی حقیقت کی طرف رہنمائی کرتا ہے کہ اس کائنات کا ایک خالق اور مدبر موجود ہے۔

البتہ اسلامی تناظر میں وجودِ خدا ایک بدیہی اور یقینی حقیقت ہے۔ قرآنِ کریم انسان کو آفاق و انفس میں غور و فکر کی دعوت دیتا ہے اور کائنات کے نظم، توازن اور حکمت کو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور ربوبیت کی دلیل قرار دیتا ہے۔ سورج، چاند، زمین و آسمان، زندگی کا تسلسل اور فطرت کے قوانین اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ یہ سب کچھ کسی اندھے اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک قادر، علیم اور حکیم ذات کے ارادے سے وجود میں آیا ہے۔ گویا وجودِ خدا محض ایک نظری یا فلسفیانہ بحث نہیں بلکہ انسانی زندگی کی معنویت، اخلاقیات اور ذمہ داری کی بنیاد ہے۔ خدا پر ایمان انسان کو مقصد، سمت اور اخلاقی شعور عطا کرتا ہے اور اسے اس حقیقت سے آگاہ کرتا ہے کہ یہ کائنات ایک با معنی اور حکمت سے بھرپور نظام ہے، جس کا ایک واحد خالق اور پروردگار موجود ہے۔

آج کل وجود باری تعالیٰ پر ہوئے مباحثہ کا خاصا چرچا ہورہا ہے ، اب تک اس بارے میں کئی طرح کی آراء اور تجزیے نظر سے گزرے ہیں ان تمام آراء اور تجزیوں کا مطالعہ کرنے کے بعد یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس مباحثہ یا مجادلہ کو خاصی تعداد سراہ رہی ہے وہیں ایک طبقہ کے کچھ افراد مسلکی تعصب اور تنگ نظری کی بنیاد پر غیر شائستہ اورجاہلانہ باتیں کررہے ہیں ۔ جو یقیناً دینی ، شرعی ، اخلاقی اور سماجی ہر اعتبار سے غیر مناسب عمل ہے ۔ اس طرح کے لوگوں کو دوسرے پر کیچڑ اچھالنے سے قبل اپنا محاسبہ اور ایمانداری سے جائزہ لینا ہوگا ۔

وجود باری تعالیٰ پر ہوئے اس مباحثہ نے ایک مثبت پیغام یہ دیا کہ بھارت جیسی سرزمین میں اس طرح کے مباحثوں کو برداشت کیا جاسکتا ہے باجود کہ ملک میں نفرت اور تعصب کی تیز ترین لہر چل رہی ہے ۔ یہاں یہ بات بھی ذہن نشیں رہے کہ اگر اس مباحثہ کا عنوان ” خدا” کی جگہ ” اللہ ” ہوتا تو شاید اس طرح کے نتائج کی توقع نہیں کی جاسکتی تھی جو نتائج اب آئے ہیں ، کیوں کہ اس وقت یہ معاملہ مسلم کمیونٹی سے وابستہ ہوجاتا اور مسلمانوں کے حوالے سے وطن عزیز میں جو کچھ ہورہا ہے وہ کسی کی نظروں سے مخفی نہیں ہے ۔
اس مباحثہ کے بعد سے ایک بات یہ بھی سامنے آرہی ہے کہ اس طرح کے مباحثہ مزید آگے ہونے چاہیے تو وہیں کئی دانشور اس طرح کے مباحثوں کے حق میں قطعی نہیں ہیں۔ اس بابت راقم کئ رائے یہ ہے کہ علمی مباحثہ، مکالمہ ، گفتگو یا مل جل کر بیٹھ کر حساس موضوعات پر بات کرنے کی ہر وقت ضرورت ہے لیکن ضروری یہ ہے کہ اس طرح کی گفتگو کرنے والے تحمل و برداشت کے عادی ہوں تو وہیں مداح بھی جذباتی اور نفسیاتی طور پر اشتعال کے شکار نہ ہوں ۔ ہمیں تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جب بھی مکالمے کو مکالمہ رہنے دیا گیا ہے اسے مناظرے میں تبدیل نہیں کیا گیا ہے تو یقیناً معاشرے پر اس کے نتائج اطمینان بخش مرتب ہوئے ہیں ۔ اس تاریخ کو اگر آج بھی کوئی دہراتا ہے تو یقیناً اس سے معاشرے کو فائدہ ہوگا ۔

وجود باری تعالیٰ پر ہوئے اس مباحثہ کو قدر دان جس طرح کے لفظوں ، جذبات اور احساسات کا مظاہرہ کررہے ہیں وہ اگر چہ مخلص ہیں لیکن طریقہ جذباتی اور نفسیاتی طور پر غالب اور مغلوب کا ہے جو یقیناً مکالمہ کا اسلوب نہیں ہے ۔ مولانا عبد الحمید نعمانی نے اپنے فیسبک وال پر بڑی عمدہ اور وقیع بات کہی ہے کہ مفتی صاحب نے ڈبیٹ اچھی کی ہے انہیں مزید مستحکم ہونے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح انہیں مشورے یہ بھی دیا کہ انہیں زیادہ استقبالیہ قبول کرنے سے بچنا ہوگا۔
در اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس کو لوگ فتح و شکست کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں جو دعوت کا اسلوب ہر گز نہیں ہے ۔ مباحثہ ہوگیا دونوں نے اپنی اپنی لیاقت و صلاحیت کے مطابق دلائل دیئے ہاں یہ بات بالکل درست ہے کہ دلائل و شواہد جتنے مضبوط ” وجود خدا” کے ماننے والے کے تھے اتنے مستحکم دلائل ” وجود خدا” کے منکر کے نہیں تھے۔ اس بابت یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس مباحثہ میں اپنی بات کو منظم اور مربوط انداز میں ” وجود خدا” کے ماننے والے نے پیش کیا ۔ اس کو اسلام کی فتح سے تعبیر کرنا یا یہ تصور بنا لینا کہ اس مباحثہ کے بعد اسلام غالب ہوا نعوذ باللہ ، یہ سب باتیں بچکانی اور سطحی ہیں ۔ ہمیں اس طرح کی چیزوں سے گریز کرنے کی سخت ترین ضرورت ہے ۔ گویا اس مباحثہ کو اسلام کی فتح کے طور پر جو لوگ پیش کررہے ہیں اور فریق مخالف کی دل آزاری کررہے ہیں ان کا یہ مستحسن اقدام نہیں ہے اور نہ اسلامی طریقہ ۔ ایسا نہ ہو کہ ہم اپنے رویے اور جذباتی کیفیت سے فریق مخالف کو اس قدر مایوس کردیں کہ وہ مزید متنفر ہو جائے ۔ سوشل میڈیا یا دیگر پلیٹ فارم پر جو جشن کا ماحول ہے وہ تو یہی بتا رہا ہے کہ ہم اس مباحثہ کے مثبت اثرات کو خود ہی معدوم کررہے ہیں ۔ ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ اس طرح کے مباحثے ماضی میں بھی ہوئے ہوں گے اور محققین نے کتابیں بھی تصنیف کی ہیں کیا انہوں نے بھی اسی طرح کا رویہ اختیار کیا تھا؟ جو آج کیا جارہاہے ۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس مباحثہ کے بعد اسلام کی فتح و شکست کا جو تصور یا پیغام دینے کی کوشش ہورہی ہے وہ راہ اعتدال اور اسلاف کے رویے سے نہ صرف متجاوز ہے بلکہ متصادم بھی ہے ۔ ایک بھیڑ جو جو جذباتیت کا شکار ہے اور ابھی شعوری طور پر بالغ بھی نہیں ہے جو کچھ اس مباحثہ سے نتیجہ نکال رہی ہے وہ بالکل ٹھیک نہیں ہے ۔ یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ کتنی تحریکوں کی ابتداء تو ٹھیک ہوئی اور کچھ دن تک اس کے اثرات بھی مثبت طور پر مرتب ہوئے مگر جذباتی ٹولے نے جوش و خروش میں آکر اس کے اہداف و مقاصد اور معاشرتی اثرات کو ختم کردیا ۔ اس لیے اس مباحثہ کو ایک علمی نشست اور مکالمہ ہی رہنے دیجیے تاکہ اس کے مزید بہتر نتائج برآمد ہوں ۔ اگر اسے مزید کوئی رخ دیا گیا اور جشن و جلوس زیادہ کیے گئے تو پھر اس کے اثرات یقیناً معدوم ہو جائیں گے۔ فتح و شکست کا تصور اپنے آپ میں ایک ایسا نظریہ جو کہیں نہ کہیں انانیت اور خود سری میں مبتلا کرتا ہے اور فریق مخالف کی توہین پر مبنی ہوتا ہے ، اس لیے اس سے بچنا ضروری ہے ۔

ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ مکالمہ انسانی سماج میں افہام و تفہیم، فکری ارتقا اور باہمی احترام کے فروغ کا ایک اہم اور مؤثر ذریعہ ہے۔ مکالمہ کا بنیادی مقصد محض اپنی بات منوانا یا مخالف کو زیر کرنا نہیں بلکہ ایک دوسرے کے خیالات، احساسات اور نقطۂ نظر کو سمجھنا اور سمجھانا ہے۔ یہ عمل انسانوں کے درمیان فاصلے کم کرتا، غلط فہمیوں کو دور کرتا اور اختلاف کو مثبت سمت میں لے جاتا ہے۔

مکالمہ کا ایک اہم مقصد سچائی کی تلاش ہے۔ مختلف آرا اور تجربات کے تبادلے سے حقیقت کے کئی پہلو سامنے آتے ہیں، جس سے فکر میں وسعت اور نظر میں گہرائی پیدا ہوتی ہے۔ جب گفتگو دلیل، شائستگی اور دیانت پر مبنی ہو تو یہ تعصب کے بجائے انصاف اور توازن کو جنم دیتی ہے۔ اسی طرح مکالمہ علم کی ترسیل اور فکری بالیدگی کا ذریعہ بھی بنتا ہے۔ مکالمہ کا بنیادی مقصد جو ہوتا ہے وہ امن و رواداری کا قیام ہے۔ اختلافِ رائے فطری امر ہے، مگر مکالمہ اسے تصادم میں بدلنے کے بجائے تعاون میں تبدیل کرتا ہے۔ اس کے ذریعے افراد اور گروہوں کے درمیان اعتماد پیدا ہوتا ہے اور معاشرے میں برداشت، اخوت اور ہم آہنگی کو تقویت ملتی ہے۔ مذہبی، ثقافتی اور نظریاتی تنوع رکھنے والے معاشروں میں مکالمہ ایک ناگزیر ضرورت بن جاتا ہے۔

اسلامی تعلیمات میں مکالمہ کا مقصد دعوت، اصلاح اور خیر خواہی ہے۔ قرآنِ کریم بہتر انداز میں گفتگو اور حکمت کے ساتھ بات رکھنے کی تعلیم دیتا ہے، تاکہ دلوں تک رسائی حاصل ہو اور حق واضح ہو سکے۔ نبی اکرم ﷺ کی سیرت اس بات کا عملی نمونہ ہے کہ مکالمہ کے ذریعے اختلاف رکھنے والوں کو قریب لایا جا سکتا ہے۔
مختصر یہ کہ مکالمہ کا مقصد دلوں کو جوڑنا، ذہنوں کو روشن کرنا اور معاشرے کو تصادم سے بچا کر تعمیری راہ پر گامزن کرنا ہے۔ یہ انسان کو سننے کا شعور، بولنے کا سلیقہ اور اختلاف کے ساتھ جینے کا ہنر سکھاتا ہے، جو ایک مہذب اور پرامن معاشرے کی بنیاد ہے۔
اسی نہج پر ہمیں اس مباحثہ کو دیکھنا چاہیے اور اسی طرح کے نتائج اس سے ہمیں بر آمد کرنے کی ضرورت ہے ۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔