بھارت میں "رائٹ ٹو ریکال” کی مانگ: راگھو چڈھا نے پارلیمنٹ میں بحث اٹھائی

نئی دہلی: سیل رواں ڈیسک

عام آدمی پارٹی کے رکنِ پارلیمان راگھو چڈھا نے راجیہ سبھا میں ایک اہم مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی ووٹرز کو اپنے چنے ہوئے نمائندوں کو مڈ ٹرم (آدھی مدت) میں ہٹانے کا حق ملنا چاہیے۔ ان کا مؤقف ہے کہ اگر عوام کو نمائندوں کو منتخب کرنے کا حق (رائٹ ٹو الیکٹ) حاصل ہے تو انہیں یہ بھی حق ہونا چاہیے کہ وہ غیر کارکردگی یا نااہلی کی صورت میں انہیں ان کے عہدے سے واپس بلا سکیں ۔

چڈھا کا کہنا تھا کہ اگر صدر، نائب صدر اور ججز کو آئین کے تحت ہٹایا جا سکتا ہے اور حکومت کے خلاف اعتماد کا ووٹ لیا جا سکتا ہے، تو ووٹرز کو اپنے منتخب ایم پی یا ایم ایل اے کو بھی بلا وجہ پانچ سال تک برداشت کرنا کیوں پڑے؟ انہوں نے مزید کہا کہ **چار سال پانچ سال کا عرصہ بہت طویل ہے اور عوام کو یہ "انشورنس” یعنی ضمانت ہونی چاہیے کہ منتخب نمائندہ اگر عوام کی خدمت نہیں کر رہا تو انہیں واپس بلایا جا سکے۔

رائٹ ٹو ریکال کیا ہے؟

رائٹ ٹو ریکال ایک ایسا جمہوری عمل ہے جس میں ووٹروں کو اختیار ہوتا ہے کہ وہ اپنے منتخب نمائندے کو اس کی مدت پوری ہونے سے پہلے عہدے سے ہٹا دیں، بشرطِ یہ کہ عوام اسے مناسب طریقے سے استعمال کریں۔

چڈھا نے کہا کہ اس کا مقصد پارٹیوں کو بہتر امیدوار کھڑے کرنے پر مجبور کرنا، عوامی نمائندوں کو مسلسل جوابدہ بنانا، اور جمہوریت کو زیادہ مضبوط بنانا ہے۔ اگر کوئی ایم پی یا ایم ایل اے عوام کی توقعات پر پورا نہیں اترتا تو ووٹرز کے پاس یہ آپشن ہونا چاہیے کہ وہ اپنے نمائندے کو واپس بلا لیں۔

کیا بھارت میں ایسا نظام موجود ہے؟

فی الحال بھارت میں پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں کے ایم پی یا ایم ایل اے کے لئے رائٹ ٹو ریکال کا کوئی آئینی عمل نہیں ہے۔ تاہم کچھ ریاستوں میں گاؤں یا مقامی سطح کے نمائندوں کے لئے یہ نظام پہلے سے رائج ہے، یعنی انتخابی حلقوں کے ووٹرز گاؤں کی سطح پر منتخب نمائندوں کو واپس بلا سکتے ہیں۔

دنیا بھر میں ریکال کی مثالیں

راگھو چڈھا نے کہا ہے کہ دنیا کے تقریباً 24 جمہوری ممالک میں اس قسم کا نظام مختلف سطحوں پر موجود ہے، جیسے:

  • امریکہ (کئی ریاستوں میں)
  • کینیڈا (برٹش کولمبیا)
  • سوئٹزرلینڈ
  • جاپان و تائیوان
  • نیپال
  • ساؤتھ کوریا
  • لاطویہ، رومانیہ، پولینڈ اور دیگر

جہاں مقامی، صدارتی یا پارلیمانی نمائندوں کے خلاف رائٹ ٹو ریکال کے طریقے رائج ہیں۔

چڈھا کی تجویز کردہ ضوابط

چڈھا نے اس نظام کے غلط استعمال کو روکنے کیلئے کچھ معیارات بھی تجویز کیے ہیں، جن میں شامل ہیں:

  • ✔ منتخب نمائندے کو ابتدائی 18 ماہ کی مدت دینا تاکہ وہ کام کر سکے۔
  • ✔ مستند درخواست کیلئے مناسب ووٹنگ کی حد (مثلاً 35–40٪ ووٹرز کی حمایت)
  • ✔ صرف ثابت شدہ بدعنوانی، نااہلی یا کام میں غفلت کے معاملات میں ریکال کی اجازت
  • ✔ بالآخر 50 فیصد سے زائد عوام کی منظوری درکار ہو تاکہ نمائندہ ہٹایا جا سکے۔

یہ اقدامات، چڈھا کے مطابق، عوامی نمائندوں کو مزید جوابدہ اور کارکردگی پر مبنی بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔