از:- محمد ناصر ندوی پرتاپگڑھی
زمانے کے شب و روز نے کروٹ بدلی ہے، دنیا کے نقشے بدل رہے ہیں، قوموں کی تقدیریں پلٹ رہی ہیں، تہذیبوں کی بنیادیں ہل چکی ہیں، اور تمدن کے چہرے بدل چکے ہیں۔ ہر طرف ایک نیا منظرنامہ ابھر رہا ہے، پرانی روشنیوں کی جگہ نئی روشنیوں نے لے لی ہے اور پرانی اندھیریوں کی جگہ نئی نئی اندھیریاں اُمڈ رہی ہیں۔ آج انسانیت ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں سے وہ چاہے تو بلندیوں کی طرف رخ کرلے اور چاہے تو پستیوں کی کھائی میں جاگرے۔
تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جب بھی زمانے میں بڑی تبدیلیاں آئیں، تو وہ قومیں کامیاب ہوئیں جنہوں نے وقت کی صدا پر لبیک کہا اور اپنے حال کو بہتر بنا کر مستقبل کی تعمیر کی۔
لیکن افسوس کہ امتِ مسلمہ جسے بیداری کی مثال ہونا چاہئے تھا، وہی آج غفلت کی تصویر بنی ہوئی ہے۔ وہ امت جسے رہبرِ انسانیت بنا کر بھیجا گیا تھا، وہ امت جس کے بارے میں فرمایا گیا: "کُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ” (آل عمران: ۱۱۰) یعنی تم بہترین امت ہو جو لوگوں کی بھلائی کےلئے پیدا کی گئی ہے، آج وہ امت خود اپنا امتیاز کھوکر دوسروں کے دروازے پر کاسۂ گدائی دراز کرنے پر مجبور ہے۔ آج ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے کہ آخر وہ کون سی کمزوریاں ہیں جن کی وجہ سے ہم اس حال کو پہنچے، اور وہ کون سے اصول ہیں جن پر عمل کرکے ہم پھر سے عروج حاصل کرسکتے ہیں۔
زمانے کا تقاضہ ہے کہ مسلمان اپنے مقصدِ وجود کو پہچانیں۔ دنیا کی قومیں اپنی محنت و تحقیق اور علم و فن کے ذریعے آگے بڑھ رہی ہیں۔ وہ وقت کی دھڑکن کو سمجھتی ہیں، وہ لمحوں کی قیمت پہچانتی ہیں، اور وہ اپنے آج کو کل کےلئے وقف کر رہی ہیں۔ ہمیں بھی یہی رویہ اپنانا چاہئے۔ مسلمانوں کےلئے سب سے بڑی دولت ایمان ہے، لیکن ایمان کے ساتھ عمل صالح بھی ضروری ہے۔ قرآن نے بار بار ایمان کے ساتھ عملِ صالح پر زور دیا ہے، محض دعویٰ کافی نہیں ہے، جب تک کہ کردار اس دعوے کی تصدیق نہ کرے۔
اگر ہم تاریخ پر نظر ڈالیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ جب مسلمانوں نے قرآن و سنت کی تعلیمات کو زندگی کا شعار بنایا، تو وہ دنیا کے امام بن گئے۔ انہوں نے اندھیروں میں ڈوبی ہوئی دنیا کو علم و ہنر کی روشنی دی، عدل و انصاف کا درس دیا، اور انسانیت کو انصاف و مساوات کا سبق دیا۔ مسلمانوں کے علم و فن نے دنیا کے نقشے کو بدلا، ان کی فتوحات نے صرف زمینیں فتح نہیں کیں بلکہ دلوں کو جیتا، اور ان کے اخلاق نے وحشت زدہ انسانیت کو سکون اور امن عطا کیا۔ لیکن جب یہی امت قرآن سے دور ہوگئی، سنت سے غافل ہوگئی، دنیا کی محبت اور عیش و آرام میں کھوگئی، تو اس کا زوال شروع ہوا۔
آج بھی وقت ہمیں یہی آواز دے رہا ہے کہ ہم اپنے اصل کی طرف پلٹ آئیں۔ ہمیں اپنی نوجوان نسل کو خوابِ غفلت سے جگانا چاہئے۔ یہ نوجوان ہی مستقبل کے معمار ہیں۔ اگر ان کے دلوں میں ایمان کی حرارت، قرآن کی محبت، علم کی طلب، اور عمل کی سچائی پیدا ہوجائے تو کوئی طاقت انہیں پست نہیں کرسکتی۔ مگر افسوس کہ آج کا نوجوان فضولیات میں الجھا ہوا ہے۔ وہ اپنی توانائیاں بے مقصد مشغلوں میں ضائع کر رہا ہے، اس کے خواب مصنوعی ہیں، اس کی تمنائیں سطحی ہیں، اور اس کا مقصد محدود ہے۔ ہمیں اپنی نئی نسل کو یہ باور کرانا چاہئے کہ ان کی زندگی محض کھیل تماشے کےلئے نہیں ہے بلکہ یہ ایک امانت ہے جسے اعلیٰ مقاصد کےلئے صرف کرنا چاہئے۔
مسلمانوں کو یہ یاد رکھنا چاہئے کہ دنیا میں عزت اور وقار کے ساتھ جینے کےلئے انہیں دو چیزوں کو مضبوطی سے تھامنا ہوگا: ایک قرآن اور دوسری سنتِ رسول ﷺ۔ ہے، یہی وہ بنیاد ہے جس پر اسلام کی عمارت کھڑی ہے۔ اگر ہم نے ان دونوں کو چھوڑ دیا تو ہم بکھر جائیں گے، اور اگر ہم نے انہیں مضبوطی سے تھام لیا تو ہم کامیاب ہوں گے۔ نبی کریم ﷺ نے حجۃ الوداع کے خطبے میں فرمایا تھا: "میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، اگر تم ان کو مضبوطی سے تھامے رہو گے تو کبھی گمراہ نہ ہوگے: اللہ کی کتاب اور میری سنت۔” یہ کلمات آج بھی ہمارے لئے مشعلِ راہ ہیں۔
زمانے کے اس تغیر میں ہمیں یہ سمجھنا چاہئے کہ علم ہی اصل طاقت ہے۔ آج کی دنیا علم کی بنیاد پر آگے بڑھ رہی ہے۔ جو قومیں علم میں آگے ہیں، وہی دنیا پر حکمرانی کر رہی ہیں۔ ہمیں اپنی درسگاہوں کو مضبوط بنانا چاہئے، اپنے تعلیمی نظام کو بہتر بنانا چاہئے، اور اپنی نئی نسل کو جدید علوم کے ساتھ دینی علوم سے بھی آراستہ کرنا چاہئے۔ کیونکہ صرف دنیاوی علم کافی نہیں، بلکہ وہ علم چاہئے جو انسان کو رب سے جوڑے، جو مقصدِ حیات کو واضح کرے، اور جو انسان کو انسانیت کی خدمت پر آمادہ کرے۔
ساتھ ہی ہمیں اپنی معیشت کو بھی مستحکم کرنا چاہئے۔ غربت اور افلاس نے ہماری امت کو توڑ دیا ہے۔ ایک بڑی تعداد تعلیم اور علاج جیسے بنیادی وسائل سے محروم ہے۔ اسی طرح اسلامی معیشت کے اصولوں کو زندہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے سماج میں خود کفالت کی فضا قائم کرنی چاہئے۔ ہر صاحبِ حیثیت مسلمان کو چاہئے کہ وہ اپنی دولت کو صرف اپنے آرام و آسائش پر نہ لگائے بلکہ اس کا کچھ حصہ غریبوں، یتیموں، بیواؤں اور تعلیم و صحت کے شعبے پر بھی خرچ کرے۔ یہی اسلام کی تعلیم ہے۔
اسلام ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ہم اجتماعی زندگی گزاریں۔ امت کا ہر فرد ایک دوسرے کا ذمہ دار ہے۔ اگر کسی بستی میں ایک شخص بھوکا سو جائے تو پوری بستی اس کی جواب دہ ہے۔ آج ہمیں یہ اجتماعی شعور دوبارہ بیدار کرنا چاہئے۔ ہمیں ایک دوسرے کا سہارا بننا چاہئے، ایک دوسرے کی فکر کرنی چاہئے، اور ایک دوسرے کے دکھ درد کو بانٹنا چاہئے۔ یہی وہ طریقہ ہے جس سے معاشرہ مضبوط ہوگا اور امت کو پھر سے طاقت ملے گی۔
ملک کا موجودہ ماحول ہمیں جھنجھوڑ رہا ہے،لہذا ہمیں خوابِ غفلت سے جاگ جانا چاہئے۔ ہمیں اپنی فکر و نظر کو بلند کرنا چاہئے۔ ہمیں اپنی ترجیحات بدلنی چاہئیں۔ اپنے ماضی سے سبق لینا چاہئے اور اپنے حال کو سنوار کر مستقبل کی تعمیر کرنی چاہئے۔ اگر ہم نے یہ سب نہ کیا تو ہم مزید بکھرتے جائیں گے، اور ہماری حالت مزید ابتر ہوتی جائے گی۔ لیکن اگر ہم نے عزم و حوصلہ کے ساتھ آگے بڑھنے کا فیصلہ کرلیا تو کوئی قوت ہمیں کامیابی سے روک نہیں سکتی۔
ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ اپنے ایمان کو مضبوط کرے، اپنے اخلاق کو سنوارے، اپنے اعمال کو درست کرے، اپنی نسل کی صحیح تربیت کرے، اور اپنے سماج کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کرے۔ ہر شخص کو اپنی جگہ یہ سوچنا چاہئے کہ وہ امت کےلئےکیا کرسکتا ہے۔ اگر ہم سب نے اپنی اپنی جگہ ذمہ داری نبھائی تو پورا سماج بدل سکتا ہے۔
یہ وقت ہمیں پکار رہا ہے۔ یہ لمحے ہمیں صدا دے رہے ہیں۔ اب ہمیں اپنی نیند سے جاگ کر اٹھنا چاہئے، اپنے خوابوں کو حقیقت بنانا چاہئے، اور اپنی امت کو دوبارہ سربلندی کی راہوں پر لے جانا چاہئے۔ یہی ہماری اصل ذمہ داری ہے، یہی ہماری بقا کا راز ہے، اور یہی ہمارے ایمان بھی کا تقاضہ ہے۔