غزہ امن بورڈ: صلحِ آمن کے سفر کا بڑا پڑاؤ

از قلم: محمد فہیم الدین بجنوری

ـــــــــــــــــــــــــــ

رومیوں سے "صلحِ آمن” کے خدوخال عروج پر ہیں، حد یہ ہے کہ ارض قدس کی آتشِ تاریخ و مذاہب کو فی الوقت سرد رکھنے کے لیے جو ادارہ وجود میں آیا اس کا تسمیہ "امن” ہے، ناچیز تو "ابراہیم امن معاہدے” پر ہی چودہ صدی عبور کر گیا تھا اور نبوی پیشین گوئی کے سیاق وسباق اخذ کرنے میں لگا تھا، کہ اب غزہ امن بورڈ بھی موصول ہوا، قیامت کی رفتار قیامت ہو گئی ہے، غزہ امت مسلمہ کا دل ہے، وہاں کا فیصلہ حقیقی ترجمان ہوتا ہے، سنی ممالک دستخط کناں ہیں، حدیث میں "أنتم” کے مصداق شیعہ تو کسی صورت نہیں تھے، ان کی "تیسرے دشمن” میں شمولیت وقت کے ساتھ واضح ہو رہی ہے۔

علامہ سیوطی نے علاماتِ قیامت کے تعلق سے طویل حدیث ذکر کی ہے جس میں "عدوا آخر” میں "فرس” کا لفظ آیا ہے، اس نے میرے رونگٹے کھڑے کر دیے تھے، نئی تبدیلیوں میں شیعہ جارحیت اور سیاسی شیعیت برابر زد میں ہیں، روس اور ایران کی ایک ہی وقت پسپائی بڑی داستان کہتی ہے، حزب اللہ کا پرشکوہ دور میں نے دیکھا ہے، ممالک ڈرتے تھے، مشرق وسطی زیر اثر تھا، دیکھتے دیکھتے یہ سب سے جارح شیعہ طاقت الوداع ہوئی، لبنان میں شیعہ اکثریت ہے؛ مگر صلح آمن کا سرخیل اس پلان میں ہے کہ وہاں کے سنی حکومت کریں، عراق میں بھی شیعہ اکثریت ہے اور امریکہ میں ایک پروجیکٹ یہ بھی گرم ہے کہ شیعہ عراقی اقتدار میں بے دخل ہوں اور سنی قیادت جگہ لے، ملکِ شام میں یہ منصوبہ تکمیل کو پہنچ چکا ہے۔

حملہ ایران کے سر پر ہے، اس درجہ نزدیک کہ ایران ہی پہل کردے، تاخیر کی وجہ ناگزیر تیاری تھی، ٹرمپ کو کیا فرق پڑتا ہے کہ ایران میں اجتماعی پھانسی ہو رہی تھی، اس کی بلا سے سب کو پھانسی ہو جائے، یا تمام ایرانی ایک دوسرے کو ماریں، وہ تو خود ایرانیوں کے ساتھ یہی عزم رکھتا ہے، التوا کی وجہ ناقص تیاری میں تھی، وہ چاہتے ہیں کہ پہلی ضرب کے بعد فیصلوں کے لیے قیادت اور لانچ کرنے کے لیے میزائل لانچر باقی نہ رہیں، ایک مار کافی ہو جائے، قیادت اور دفاعِ قیادت کا پورا اسٹرکچر بہ یک وار تمام ہو۔

ایران حملہ طے شدہ ہے، اس کو روکنا ٹرمپ کے اختیار سے باہر ہے، ہاں خامنائی کا اختیار ضرور ہے اور وہ اس طرح کے امریکی شرائط بعینہ قبول کرے، یہ مرشد کے لیے ممکن نہیں، جنگوں کے پیچ اسی طرح پھنس جاتے ہیں، چاہتے ہوے بھی حل پیدا نہیں کر پاتے، میدان میں فریقین کشاں کشاں جاتے ہیں، خوشی خوشی نہیں، آپ خود کو وہاں رکھیں، ایک فریق آپ کو دشمن کہتا ہے، دشمنی کا کلمہ جاری کرتا ہے، نومولود آپ کی موت کا عہد لے کر پیدا ہوتا ہے، آپ کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی بات ملک کے صدر کرتے ہیں، روحانی قیادت مہر تصدیق لگاتی ہے، وہ آپ کو سامنے رکھ کر میزائل رینج بناتے ہیں، ان کے میزائلوں پر آپ کا نام لکھا ہے، اس پسِ منظر اگر وہ آپ کی زد پر آجائے تو آپ مہلت دیں گے کہ وہ مزید طاقت حاصل کرے یا فی الفور گردن دبائیں گے؟ اس کے جواب میں آج کے سب سے بڑے سوال کا جواب ہے کہ امریکہ ایران پر حملہ کرے گا یا نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: مدارس اور ریاست آئینی حدود کا تعین

روس میرے نزدیک خود کشی کی راہ پر ہے، یورپ کے ہنی ٹریپ میں وہ بہت آگے نکل گیا ہے، اتنا آگے کہ جس روز مڑ کر دیکھے گا واپسی کے لیے ایٹم بم کے علاوہ کوئی راستہ باقی نہ ہوگا، پھر وہ اموات ہوں گی جن کا ذکر احادیث میں استعارے کی زبانی یوں آیا ہے کہ پرندہ لاشوں سے خالی زمین کی تلاش میں عاجز ہو جائے گا، ناچار کسی لاش پر ہی اترنا ہوگا، لینڈنگ کے لینڈ نہیں ملے گی، روس ذاتی الجھن کی وجہ سے ایران سے دست برداری کا موڈ بنا چکا ہے، وہ جواب الاحسان بالاحسان سے بھی گیا گذرا ثابت ہوگا، ایران نے بہ ہر حال یوکرین جنگ میں روس کی مدد کی وہ اتنی بھی کرنے والا نہیں۔

چین کو تجارت کرنی ہے، امریکہ اس پر راست تجارتی چھاپے مار رہا ہے اور وہ اپنی ان آنکھوں کو بند کر لیتا ہے جو عام حالات میں بھی بہ مشکل کھلتی ہیں، جب تجارت کے ساتھی یکے بعد دیگرے سولی چڑھ جائیں گے تو امریکہ ہی سہی، اسے تو تجارت کرنی ہے، اگر تجارتی آپشن صرف امریکہ ہے تو اسے اعتراض نہیں، تاجر کے لیے کوئی اچھوت نہیں ہوتا، آخرِ زمان کے ضمن میں چین کا خاص کردار پڑھنے میں نہیں آیا، ہاں بر صغیر کا ذکر خوب ہے، یہاں کے قیامت اور قربِ قیامت والے ہنگاموں کا سنگِ بنیاد جاری ہے، اس تیاری کا سہرا بی جے پی کے سر ہے، دو طرفہ اور سہ طرفہ ہمسایہ کشیدگی تمہید ہے، اُدھر ایران تک اسرائیل کی توسیع ہو جائے گی اور اِدھر اس کے بھائی بارہ سال سے مصروفِ فتنہ ہیں، ہمارا مقامی فتنہ اب کم نہیں ہوگا، ملکی حالات پر لکھے ہوے بہت دن ہو گئے، اب تبادلہ خیال ناگزیر ہو گیا ہے، ذاتی اطمینان یہ ہے کہ بنگلور میں ہوں، یہاں آتش نہیں بھڑکے گی، آنچ بھی شاید نہ پہنچے، سو معرکۂ قیامت میں ہم تماشا بین نامزد ہوے۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔