از:- عبدالغفارصدیقی
ـــــــــــــــــــــــــــ
ہمارے ملک میں 26جنوری وہ خاص دن ہے جب ملک نے اپنے لیے اپنا منظور شدہ آئین نافذ کیا تھا۔یہ انگریزوں کی غلامی سے آزادی کا قانونی اعلان تھا۔اگرچہ آئین میں بہت سے قوانین برطانوی دور کے باقی تھے۔لیکن وہ ہم نے اپنی خوشی سے قبول کیے تھے۔اپنے شہریوں کی فلاح و بہبود اور ملک کی ترقی کے لیے طے کیے تھے۔ہم کسی بھی قانون کو بنانے،ختم کرنے،تبدیل کرنے کے مکلف تھے۔اس لیے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ بھارتی آئین مکمل طور پر بھارتی آئین تھا اور ہے۔آئین کیوں بنایا جاتا ہے؟یہ اہم سوال ہے؟
کسی بھی سماج میں آئین محض قوانین کا مجموعہ نہیں ہوتا بلکہ وہ اجتماعی زندگی کی فکری، اخلاقی اور عملی سمت متعین کرتا ہے۔ آئین کے ذریعے یہ طے کیا جاتا ہے کہ اقتدار کا سرچشمہ کہاں ہوگا، طاقت کس طرح استعمال کی جائے گی اور اس کی حدود کیا ہوں گی۔ یہی دستاویز شہریوں کے بنیادی حقوق کی ضمانت فراہم کرتی ہے اور اس اصول کو مستحکم کرتی ہے کہ سب افراد قانون کی نظر میں برابر ہیں۔ آئین حکمرانوں کو جواب دہ بناتا ہے، من مانی اور استبداد کا راستہ روکتا ہے اور اکثریت کے غلبے میں بھی اقلیتوں اور کمزور طبقات کے حقوق کا تحفظ کرتا ہے۔ سماج میں پائے جانے والے فکری، مذہبی، لسانی اور ثقافتی تنوع کو ایک منظم ڈھانچے میں سمو کر آئین استحکام اور ہم آہنگی پیدا کرتا ہے، تاکہ اختلاف انتشار میں نہیں بلکہ نظم میں ڈھل جائے۔
آئین اس لیے بنایا جاتا ہے کہ انسانی وقار محفوظ رہے اور افراد کی حکمرانی کے بجائے قانون کی حکمرانی قائم ہو۔ یہ ایک متفقہ سماجی معاہدہ ہوتا ہے جس کے ذریعے ریاست اور شہریوں کے درمیان حقوق و فرائض کا توازن قائم کیا جاتا ہے اور تنازعات کے حل کے لیے پرامن و منصفانہ راستہ فراہم کیا جاتا ہے۔ آئین کسی قوم کے مشترکہ نصب العین، اقدار اور تجربات کا نچوڑ ہوتا ہے جو حال ہی نہیں بلکہ مستقبل کی نسلوں کی بھی رہنمائی کرتا ہے۔ یوں آئین آزادی کو عدل کے ساتھ جوڑتا ہے، طاقت کو قانون کا پابند بناتا ہے اور سماج کو محض افراد کا ہجوم نہیں بلکہ ایک باوقار اور منظم قوم میں ڈھال دیتا ہے۔
بھارت کا آئین اپنی وسعت، جامعیت اور توازن کے باعث دنیا کے ممتاز آئینوں میں شمار ہوتا ہے؛ یہ جمہوریت، سیکولرازم، عدلِ سماجی اور قانون کی بالادستی کو بیک وقت مضبوط کرتا ہے، بنیادی حقوق کے ذریعے فرد کی آزادی کا تحفظ اور ہدایتی اصولوں کے ذریعے فلاحی ریاست کا تصور پیش کرتا ہے، وفاقی ڈھانچے میں وحدت و تنوع کا حسین امتزاج دکھاتا ہے، اقتدار کی تقسیم اور باہمی نگرانی کے اصول سے آمریت کے امکانات کو کم کرتا ہے، آئینی اداروں کو خود مختاری عطا کرتا ہے، اقلیتوں اور کمزور طبقات کے تحفظ کو یقینی بناتا ہے، ترمیم کی گنجائش کے ذریعے
وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ رہتا ہے اور یوں ایک کثیرالثقافتی سماج کو آئینی بندھن میں جوڑ کر قومی یکجہتی کو دوام بخشتا ہے۔
ہم سب جانتے ہیں کہ محض آئین کی منظوری یا اس میں شہریوں کے حقوق کے خوش نما اندراج سے کوئی جمہوریت پائیدار نہیں ہو سکتی، کیونکہ جمہوریت کاغذ پر لکھی ہوئی شقوں سے نہیں بلکہ عملی رویّوں، ادارہ جاتی دیانت اور عوامی شعور سے زندہ رہتی ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ بہت سے ممالک کے پاس آئین بھی رہا، بنیادی حقوق کی فہرستیں بھی مرتب کی گئیں، مگر اقتدار کی مرکزیت، اداروں کی کمزوری اور قانون کے دوہرے معیار نے جمہوریت کو محض ایک رسمی پردہ بنا دیا۔ جب آئین کی روح کے بجائے اس کے الفاظ کو استعمالِ اقتدار کا ہتھیار بنا لیا جائے، جب انتخابات تو ہوں مگر شفاف نہ ہوں، جب اظہارِ رائے آئینی حق ہونے کے باوجود عملی طور پر خوف زدہ ہو، تو ایسی جمہوریت محض نام کی رہ جاتی ہے، اس کی جڑیں سماج میں مضبوط نہیں ہو پاتیں۔
پائیدار جمہوریت کے لیے ضروری ہے کہ آئین پر حقیقی معنوں میں عمل ہو، آئینی ادارے آزاد اور طاقت ور ہوں، عدلیہ بے خوف ہو، میڈیا ذمہ دار اور خود مختار رہے اور شہری محض حقوق کے دعوے دار نہیں بلکہ فرائض کے شعوری حامل بھی ہوں۔ حقوق کا ذکر اسی وقت بامعنی بنتا ہے جب انہیں نافذ کرنے کا نظام غیر جانب دار ہو اور اقتدار خود کو آئین کے تابع سمجھے، نہ کہ آئین کو اپنے مفاد کے تابع۔ دراصل جمہوریت ایک مسلسل جدوجہد کا نام ہے جس میں آئین رہنما اصول ضرور ہے، مگر اس کی بقا کا دارومدار سیاسی اخلاقیات، سماجی انصاف اور عوامی بیداری پر ہوتا ہے؛ ان عناصر کے بغیر بہترین آئین بھی جمہوریت کو زوال سے نہیں بچا سکتا۔
بھارت میں جمہوری اداروں کی موجودہ صورتِ حال پر سنجیدہ نظر ڈالی جائے تو یہ تاثر محض تاثر نہیں رہتا بلکہ ایک دلیل بن کر سامنے آتا ہے کہ یہ ادارے بتدریج کمزور ہو رہے ہیں اور بعض سطحوں پر دانستہ طور پر ان کی خود مختاری محدود کی جا رہی ہے۔ پارلیمنٹ میں قانون سازی کا عمل تمام شہریوں کے مفاد کے بجائے مخصوص سیاسی جماعت،یا کسی مخصوص گروہ کو فائدہ پہنچانے کے لیے انجام دیا جارہا ہے، عددی قوت کی برتری کے باعث ارباب حکومت متنازعہ بلوں کوپارلیمنٹ سے پاس کرارہے ہیں، جب کہ اپوزیشن کی آواز کو بار بار معطل یا غیر مؤثر بنایا جا رہا ہے۔ عدلیہ پر براہِ راست حملہ نہ سہی، مگر تقرریوں کے عمل، فیصلوں پر عوامی مہمات اور تاخیری انصاف کے رجحان نے اس کے وقار اور اعتماد کو متاثر کیا ہے۔ میڈیا، جو جمہوریت کا نگہبان سمجھا جاتا ہے، بڑی حد تک یا تو کارپوریٹ مفادات کے تابع ہو چکا ہے یا حکومتی بیانیے کا ترجمان بننے پر مجبور دکھائی دیتا ہے، جس کے نتیجے میں احتساب کی روایت کمزور پڑتی جا رہی ہے۔سوال کرنا جرم بن گیا ہے۔زبانوں کو خاموش کرنے کیے ای ڈی جیسے اداروں کا نامناسب استعمال بدستور جاری ہے۔صورت حال یہ ہوگئی ہے کہ عدلیہ پر سے کمزوروں کا،پارلیمنٹ پر سے مسلم اقلیت کا،میڈیا پر سے عوام کا،الیکشن پر سے اپوزیشن کا اعتماد اٹھتا جارہا ہے۔
یہ کمزوری محض ادارہ جاتی نہیں بلکہ آئینی اقدار سے شعوری انحراف کی صورت بھی اختیار کر چکی ہے، جس کا سب سے گہرا اثر اقلیتوں کے حقوق پر پڑا ہے۔ آئین جن مساوی حقوق اور مذہبی آزادیوں کی ضمانت دیتا ہے، عملی طور پر وہ مختلف حیلوں سے محدود کی جا رہی ہیں۔ شہریت کے سوال پر مخصوص طبقات کو مشکوک نگاہ سے دیکھنا، عبادت گاہوں اور مذہبی شناخت سے جڑے معاملات کو سیاسی فائدے کے لیے اچھالنا، ہجوم کے تشدد (mob lynching) کے واقعات میں اکثر ملزمان کا بے خوف رہنا، اور نفرت انگیز تقاریر پر مؤثر کارروائی کا نہ ہونا—یہ سب اس بات کے اشارے ہیں کہ قانون کے اطلاق میں تعصب کا زہر سرایت کرگیا ہے۔ بعض ریاستوں میں مذہبی آزادی سے متعلق قوانین کا ایسا استعمال سامنے آیا ہے جس سے اقلیتی برادریوں میں عدم تحفظ کا احساس گہرا ہوا ہے۔
اصل خطرہ یہ ہے کہ یہ تمام عوامل وقتی یا حادثاتی نہیں بلکہ ایک منظم رجحان کی صورت اختیار کرتے جا رہے ہیں، جہاں اداروں کی خود مختاری کو کمزور کرکے طاقت کو مرکز میں سمیٹا جا رہا ہے اور اکثریتی جذبات کو جمہوری جواز کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ جمہوریت اس وقت کمزور نہیں ہوتی جب اختلاف ہو، بلکہ تب کمزور ہوتی ہے جب اختلاف کو غیر ملکی، غدار یا غیر ضروری قرار دیا جائے۔ اگر آئین کی روح—کثرت میں وحدت، مساوات اور انصاف—کو عملاً پسِ پشت ڈال دیا جائے تو جمہوری ادارے اپنی شکل تو برقرار رکھتے ہیں مگر اپنی جان کھو دیتے ہیں، اور یہی صورتِ حال آج بھارت میں جمہوریت کے مستقبل پر ایک سنجیدہ سوالیہ نشان بن کر ابھر رہی ہے۔
ہم سب کی یہ ذمہ داری ہے کہ جمہوریت کی بقا،آئین کے تحفظ،جمہوری اداروں کے وقار کی بحالی کے لیے اپنی کوششیں کریں۔یہی 26جنوری یعنی یوم جمہوریت کا پیغام ہے۔جشن تبھی اچھا لگتا ہے جب دل مطمئن ہوں،روح پرسکون ہو،کسی بھی انسان کو کسی بھی انسان سے کوئی خطرہ نہ ہو،جب دین،دھرم پر عمل کی یکساں آزادی ہو۔جب ایشور اور اللہ میں کوئی فرق روا نہ رکھا جائے۔آئیے آج ہم یہ عہد کریں کہ ہم بھارت کی جمہوری روایات اور اقدار کی حفاظت کریں گے۔