جیفری اپسٹین فائل کی حقیقت

از:- محمد عمر فراہی

اب کوئی صبح کے اخبار کا انتظار نہیں کرتا کہ کل کے اخبار میں جیفری اپسٹین فائل کے بارے میں اور مزید کیا تبصرہ اور خلاصہ پڑھنے کو ملے گا ۔سوشل میڈیا کے دور میں موبائل ہر سیکنڈ میں قومی اور عالمی تبصرہ نگاروں کے خیالات پیش کر دیتا ہے اور اس فائل پر پوری دنیا کے ہزاروں قلمکار اپنے اپنے طریقے سے تبصرہ کر بھی رہے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ سب اس فائل کا تذکرہ کرکے مزے لے رہے ہیں ۔اسی لیے ہمارا سوال بھی جائز ہے کہ اتنے بڑے جرم میں مبتلا مجرمان کو جس میں کہ دنیا کے بڑے بڑے سرمایہ دار حکمراں اور فلم انڈسٹری سے تعلق رکھنے والی شہرت یافتہ شخصیات بھی شامل ہیں کیا انہیں کسی عدالت سے سزا بھی ملے گی یا اب ایسے جرائم پر پابندی عائد کر دی جاۓ گی ؟جواب نا میں سمجھ لیں ۔

اس تعلق سے صرف سوال ہی اٹھایا جاسکتا ہے ۔سوال یہ ہے کہ جس سرمایہ دارانہ لادینی جمہوری طرز سیاست میں عدلیہ سے لے کر سیاستدان اور اب میڈیا نے بھی اپنا اخلاقی وقار کھو دیا ہو یا جہاں تعلیمی نظام کے اندر تک فحاشی سرایت کر چکی ہو ایسے معاشرے یا تہذیبی ڈھانچے سے ان اشرافیہ کو سزا مل سکتی ہے جو خود سرمایہ دار ہیں اور سیاست کے اعلی عہدوں پر فائز ہیں ؟

علامہ اقبال نے تو سو سال پہلے ہی کہ دیا تھا کہ
جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہو گا
تمہاری تہذیب آپ اپنے خنجر سے خود کشی کرے گی
اس کے علاوہ بھی اقبال نے اس نظام کے بارے میں بہت کچھ پیشن گوئی کر دی ہے جس کا تذکرہ ہم اکثر کرتے رہے ہیں اور پڑھے لکھے لوگوں کو پتہ بھی ہے لیکن اس کے باوجود کچھ جدت پسند ذہنوں کے اندر اقبال کا اقبال اس لیے بلند نہیں رہا کیوں کہ اقبال ایک زوال پزیر قوم کا سپاہی تھا ۔

ہم جیسے اردو اور مسلم قلمکاروں نے اقبال کو جتنا بھی پڑھا اور پھر اپنے ناقص مطالعے اور مشاہدے کی بنیاد پر ابھی تک کے بدلتے ہوۓ حالات سے جو محسوس کیا یہ کہنا مبالغہ نہیں ہونا چاہئے کہ اقبال کے بعد مسلمانوں میں ابھی تک کوئی دوسرا اقبال نہیں پیدا ہو سکا جس نے ایک ایسے وقت میں یہ کہنے کی جرات کی کہ
تری دوا نہ جنیوا میں ہے نہ لندن میں
فرنگ کی رگ جاں پنجہ یہود میں ہے

جب مسلمانوں کا اشرافیہ لندن اور جنیوا سے جاری ہونے والے مغربی جمہوریت اور اس کے فرمان کو آزادی کی نیلم پری سمجھ رہا تھا۔

جیفری اپسٹین فائل اسی مغربی جمہوری تہذیب اور معاشرے پر بدنما داغ ہے جسے اس صدی میں 9/11 سے بھی عظیم حادثہ قرار دیا جاسکتا ہے ۔اتفاق سے 9/11 کے بعد جس امریکی حکمراں نے افغانی حریت پسندوں کو دہشت گرد اور اجڈ قرار دیتے ہوۓ یلغار کر دی تھی اس کا نام بھی اس جیفری اپسٹین فائل میں شامل ہے ۔مگر مطمئن رہیں جس طرح ٹرمپ نے وینزویلا کے صدر کو اس کے ملک سے ہتھکڑی لگا کر گرفتار کر لیا اپسٹین فائل کے مجرم امریکہ میں موجود رہ کر بھی گرفتار نہیں کئے جائیں گے !

یہ فائل بہت کچھ سوال اٹھاتی ہے جس پر مغربی میڈیا اور ان کا دانشور طبقہ کوئی بحث نہیں کرتا۔سب سے پہلا سوال تو یہ ہے کہ کیا جیفری اپسٹین اس اسکینڈل کا تنہا مجرم تھا ؟ یا اس کے پیچھے ایک پوری تحریک ہے اور اس تحریک نے جیفری کو ایک مہرہ بنا کر استعمال کیا اور کام پورا ہو جانے کے بعد اسے راستے سے ہٹا دیا جیسا کہ جیل میں ہونے والی اس کی موت کو خودکشی کہا جارہا ہے ۔کیا جیفری نے حقیقت میں خودکشی کی تھی یا اسے ایک سازش کے تحت قتل کر دیا گیا تاکہ اس کے ذریعے اصل سازشی ٹولے کا پردہ فاش کرنے کی آواز کو دبانے کی نوبت نہ آۓ ۔دوسرا سوال یہ بھی ہے کہ وہ تحریکیں جو اس اسکینڈل سے فائدہ اٹھانا چاہتی تھیں کہیں انہوں نے اپنے سیاسی مقصد کی تکمیل کے لئے جان بوجھ کر جیفری اپسٹین کی کچھ فائلوں کا انکشاف کرکے بحث کا موضوع تو نہیں بنایا ہے تاکہ بہت سے اور بھی حکمراں یا بڑے نام جن کا نام ابھی تک نہ انکشاف ہونے والی فائلوں میں قید ہے اپنا نام ظاہر ہونے کے خوف سے اسی طرح زبان بند رکھیں جیسا کہ غزہ پر اسرائیلی بمباری اور درندگی کے دوران یہ سارے خاموش رہے ۔اب وہ سیاسی مقصد کیا ہے اور عالمی استعمار یا deep state جو امریکہ اور امریکی حکمرانوں پر بھی دسترس رکھتا ہے اس کا خلاصہ بھی آنے والا وقت کر دے گا ۔ہم بس علامہ کے الفاظ میں یہی کہہ سکتے ہیں کہ

حادثہ وہ جو ابھی پردہ افلاک میں ہے
عکس اس کا میرے آئینہ ادراک میں ہے

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔