نئی دہلی: سیل رواں اسپورٹس
جاری ICC Men’s T20 World Cup 2026 کے گروپ مرحلے میں مقابلہ روز بروز سخت ہوتا جا رہا ہے اور کئی ٹیموں کے لیے اگلے مرحلے تک رسائی کے امکانات تقریباً ختم ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ہر گروپ سے صرف دو ٹیموں کو سپر ایٹ میں جگہ ملنی ہے، جس کے باعث ابتدائی شکستوں نے کئی اسکواڈز کو مشکل صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔
ٹورنامنٹ کی موجودہ پوزیشن کے مطابق چھ ٹیمیں ایسی ہیں جن کی مسلسل ناکامیوں نے ان کے لیے سپر ایٹ مرحلہ تقریباً ناممکن بنا دیا ہے۔ ان میں ایسوسی ایٹ اور ابھرتی ہوئی ٹیمیں زیادہ متاثر نظر آ رہی ہیں۔
امریکہ اور نامیبیا کی مشکلات
امریکہ اور نامیبیا اپنے ابتدائی دونوں میچ ہار چکی ہے۔ پوائنٹس ٹیبل میں پیچھے رہ جانے کے بعد اب اسے دیگر ٹیموں کے نتائج پر بھی انحصار کرنا ہوگا، جو اس کے امکانات کو مزید کمزور بنا رہا ہے۔
اسی طرح Namibia national cricket team بھی مسلسل ناکامیوں کے باعث گروپ میں سب سے نیچے ہے اور اس کے لیے واپسی تقریباً ناممکن دکھائی دے رہی ہے۔
آئرلینڈ اور عمان کو دھچکا
آئرلینڈ اور عمان سے شائقین کو خاصی توقعات تھیں، مگر مضبوط حریفوں کے خلاف شکستوں نے اس کی مہم کو کمزور کر دیا ہے۔
دوسری جانب Oman national cricket team بھی اپنے دونوں میچ ہار کر نِٹ رن ریٹ میں پیچھے جا چکا ہے، جس سے اس کے امکانات مزید معدوم ہو گئے ہیں۔
نیپال کی جدوجہد
نیپال نیشنل۔کرکٹ ٹیم (Nepal national cricket team) بھی اب تک کوئی قابل ذکر کارکردگی نہیں دکھا سکی۔ گروپ کی دیگر ٹیموں کی فتوحات نے نیپال کے لیے سپر ایٹ کی راہ تقریباً بند کر دی ہے۔
افغانستان کے لیے خطرے کی گھنٹی
سب سے زیادہ تشویش ناک صورتحال Afghanistan national cricket team کی ہے، جسے ٹورنامنٹ سے قبل ایک مضبوط دعوے دار سمجھا جا رہا تھا۔ تاہم ابتدائی میچوں میں شکست اور اہم مواقع ضائع کرنے کے باعث اس کی پوزیشن کمزور ہو گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر افغانستان اگلے میچوں میں غیر معمولی کارکردگی نہ دکھا سکا تو وہ بھی ٹورنامنٹ سے باہر ہو سکتا ہے۔
مجموعی منظرنامہ
کرکٹ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس بار مقابلہ انتہائی سخت ہے اور معمولی غلطی بھی ٹیم کو دوڑ سے باہر کر سکتی ہے۔ ایسے میں ہر میچ ’’کرو یا مرو‘‘ کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ آئندہ چند دنوں میں گروپ مرحلے کے نتائج واضح کر دیں گے کہ کون سی ٹیمیں سپر ایٹ میں جگہ بناتی ہیں اور کن کا سفر یہیں ختم ہو جاتا ہے۔
ٹورنامنٹ کے سنسنی خیز مرحلے نے شائقین کرکٹ کی دلچسپی عروج پر پہنچا دی ہے اور ہر مقابلہ فیصلہ کن ثابت ہو رہا ہے۔