ہر انسان کا حقیقی مذہب اسلام ہے

از:- مفتی ہمایوں اقبال ندوی

نائب صدر، جمعیت علماء ارریہ

گزشتہ کل کے اردو اخبارات میں آر ایس ایس چیف کے اس بیان کو پہلے صفحے میں جگہ دی گئی ہے،”بھارت کے مسلمان بھی ہندو، ان کی گھر واپسی کرانی ہے”۔جلی حروف میں یہ عنوان دیکر اس خبر کو سنسنی خیز بنانے کی کوشش کی گئی مگر ہرطرف سناٹاپسرا ہے اور کہیں سے کوئی آواز نہیں آرہی ہے۔

میرے خیال میں اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ امت مسلمہ ہندیہ اب بیدار ہوچکی ہے،دوست ودشمن میں تمیز کا ہنر انہیں اب معلوم ہے۔یہ پہلا بیان نہیں ہے بلکہ گزشتہ کئی سالوں سے موصوف یہی بیان دیتے آرہے ہیں۔یہ الگ بات کہ لوگ اس کا مطلب اپنے اپنے حساب سے نکالتے رہے ہیں۔

آج سے تقریبا پانچ سال پہلے موصوف کا یہ بیان کہ ہندو اور مسلمان کاڈی این اے ایک ہے،خوب وائرل ہوا، آر ایس ایس کی ونگ مسلم منچ نے یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ موصوف نے بڑا اچھا کہا ہے،اس سے جو لوگ مسلمانوں کو باہری قوم کہتے ہیں ان کے منھ پہ طمانچہ لگے گا وغیرہ وغیرہ مگر اب بلی تھیلے سے باہر آگئی ہے، اب سب کی سمجھ میں یہ بات آگئی ہے کہ ڈی این اے ایک ہونے کا مطلب کیا ہے اور اس سے کیا چاہا جارہا ہے؟پہلے بھی یہی بات کہی گئی تھی جو اب کہی جارہی ہے کہ بھارت کے مسلمان ہندو ہیں اور انہیں بدلنا ہوگا۔نیز اس سے یہ جواز تلاش کرنا ہے کہ ان کا دھرم پریورتن کرانا کوئی جرم نہیں ہے۔

اپنا یہ وطن عزیز ایک جمہوری ملک ہے، یہاں آئیں کی حکمرانی ہے۔ کسی مسلم کو ہندو کہنے کی گنجائش نہیں ہے۔باوجود اس کے ایک بڑے ذمہ دار کی طرف سے دیا گیا یہ پورے ملک کو شرمندہ کررہا ہے۔۔قرآن کریم میں یہ صاف اعلان موجود ہے:بےشک اللہ کے نزدیک دین اسلام ہی ہے۔اور دوسری جگہ یہ واضح کردیا گیا ہےکہ: جو شخص اسلام کے سوا کوئی دین اختیار کرے گا وہ اس سے قبول نہیں کیا جائے گا، (آل عمران ۸۵)

ان واضح آیات و ہدایات کے باوجود دین کے معاملے میں اسلامی تعلیمات کے مطابق کسی پر پر زبردستی نہیں کی جاسکتی ہے۔

اسلام کے مطابق ہر انسان فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے۔دنیا کا پہلا انسان حضرت آدم علیہ السلام سے لیکر رہتی دنیا کا مذہب اسلام ہی ہے۔اسلام کے معنی اپنے آپ کو اللہ تعالی کے سپرد کردینا ہے، اس معنی کے اعتبار سے ہر نبی ورسول کے زمانے میں جو ان پر ایمان لائے وہ سب مسلمان اور مسلم کہلانے کے مستحق تھے، اور ان کا دین دین اسلام ہی تھا۔حضرت نوح علیہ السلام ،حضرت ابراہیم علیہ السلام،حضرت عیسی علیہ السلام ودیگر انبیاء کرام نے قرآن کریم کی زبان میں خود کو مسلمان کہا ہے،اور اسلام کی تکمیل آخری نبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ہوئی ہے، ارشاد الہی ہے:آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کردیا، اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی، اور تمہارے لئے اسلام کو بطور دین ومذہب کے پسند کیا( سورہ المائدہ ۳)

اس سے ہمیں یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ دنیا کا سب سے قدیم وپراچین مذہب اسلام ہے اور قیامت تک باقی وموجود رہنے والا دھرم بھی اسلام ہی ہے۔

بخاری شریف کی حدیث میں ہے:ہربچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی، نصرانی یا مجوسی بنادیتے ہیں۔یعنی ماحول، تربیت اور معاشرہ اس کے عقائد کو متاثر کرتے ہیں،اسی لئے وہ دوسرے مذہب میں چلاجاتا ہے مگر حقیقت میں وہ بندہ مومن ہے اور مسلمان ہے۔قرآن کریم نے اس کے ایک بڑی دلیل بھی پیش کی ہے کہ جب کوئی انسان بہت پریشانی اور سخت تکلیف میں ہوتا ہے، جان کے لالے پڑے ہوتے ہیں تو وہ خواہ کسی دھرم سے تعلق رکھتا ہو وہ ایک اللہ ہی کو یاد کرتا ہے، ارشاد خداوندی ہے:جب وہ لوگ کشتی میں سوار ہوتے ہیں اور مصیبت آتی ہے تو خالص ایک اللہ کو پکارتے ہیں، سورہ( عنکبوت ۶۵)

کرونا وائرس عالمی وبا کے موقع پر ہم سبھوں نے یہ منظر اپنے وطن عزیز بھارت میں بھی دیکھا ہے کہ ہرکوئی صرف ایک اوپر والے کو پکار رہا ہے،قرآن انہیں دلائل وشواہد کے باوجودآج ایک مسلم کسی کو زبردستی اپنے مذہب میں لانے کی بات نہیں کرتا ہے قران میں اس بات سے منع کیا گیا ہےکہ:دین کے معاملے میں کوئی زبردستی نہیں ہے، چنانچہ اس حکم خداوندی کا مسلم پاس ولحاظ کرتے ہیں اور دین کے معاملے میں آج تک کہیں کوئی زبردستی کی ایک مثال نہیں ملتی ہے،یہ خدا کا نازل کردہ وپسندیدہ مذہب ہے، اسلام دنیا کی یہ واحد تحریک ہے جو تیئس سال کے اندر اپنے شباب پر پہونچ گئی اور پوری دنیا میں پھیل چکی ہے، آج یہ دنیا کا سب سے بڑا مذہب بننے جارہا ہے۔اسی خوف میں لوگ بے تکے بیانات دے رہے ہیں، اور ایک طرف مسلم کو ہندو کہتے ہیں اور دھیرے دھیرے ان کا دھرم پریورتن کی بات کہتے ہیں تو دوسری طرف اپنے ہم مذہب لوگوں کو کم از کم تین بچے پیدا کرنے کی ہدایت دے رہے ہیں، یہ بوکھلاہٹ کے شکار ہیں، ان کا صحیح علاج خاموشی اور خاموش حکمت عملی ہے۔بحمداللہ آج امت مسلمہ ہندیہ کی یہ بیدار مغزی کا مشاہدہ ہم سبھی کررہے ہیں اور اس پر رمضان کے اس ماہ مبارک میں مبارکباد پیش کرتے ہیں۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔