از:- ڈاکٹر عبد المجید ندوی
یوں تو زکوۃ اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک اہم اور کلیدی رکن ہے، جو فرد کے مال کو پاکیزہ بناتی ہے اور معاشرے کے پسماندہ طبقات کی کفالت کی ضمانت لیتی ہے۔ اس کے ادا کرنے کی کوئی متعین وقت تو نہیں ہے کسی بھی مہینہ میں نکالی جا سکتی ہے، لیکن چونکہ رمضان المبارک ثواب کے اعتبار سے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے، جس میں سنن و نوافل فرض کے برابر اور فرائض 70 فرض کے برابر ہو جاتے ہیں۔ اس لیے پوری دنیا کا معمول سا بن گیا ہے کہ لوگ زکوٰۃ جیسے اہم فریضہ کو عام طور پر رمضان المبارک ہی میں ادا کرتے ہیں۔ اس لئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ زکوٰۃ کے موضوع پر کچھ باتیں کر لی جائیں تاکہ ہمیں زیادہ سے اس کی ادائیگی کی توفیق ملے۔زکوۃ کا لغوی معنی ہے طہارت، نشو و نما اور برکت کے ۔ اصطلاح میں مخصوص مال میں سے مخصوص مقدار کو مخصوص شرائط کے ساتھ مستحقین کو دینا یہ زکوۃ ہے۔ اگر مسلمان عاقل ہے، بالغ ہے، آزاد ہے ، مالک نصاب ہے، یعنی ساڑھے باون تولہ 612 گرام چاندی یا ساڑھے سات تولہ 84.87 گرام سونا یا اس کے برابر سامان تجارت ہے اور مال پر حولان حول ہو گیاہے، یعنی قمری سال گذر گیا ہے تو اس پر زکوٰۃ دینا واجب ہو گیا۔ اسی طرح تنخواہ، پینشن میں سے بچی ہوئی رقم یا بینک بیلنس نصاب کو پہونچ جائے اور اس پر حولان حول ہو جائے تو اس پر زکوٰۃ واجب ہو گئی ۔
جس نے اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کر دی اس نے اس مال کے شر کو دور کر دیا حدیث میں ہے”من أدی زکوٰۃ مالہ فقد ذھب عنہ شرہ” اسی لیے زکوٰۃ دینے سے دولت کم نہیں ہوتی بلکہ بڑھتی ہےبقول علامہ یوسف القرضاوی کے بالکل اسی طرح کہ آدمی کھیت میں فصل لگاتا ہے، اس میں گھاس پھوس نکل آتی ہے، جس کی وجہ سے فصل کمزور ہو جاتی ہے اور پیداوار کم ہو جاتی ہے، لیکن جب فصل سے گندگی نکال دیی جاتی ہے ،تو پیداوار دوگنا ہو جاتی ہے جس کا مشاہدہ ہم روز مرہ کرتے ہیں ۔اللہ تعالیٰ قرآن میں ارشاد فرماتا ہے "وما أوتیتم من زکوٰۃ تریدون وجہ اللہ فأولئک ہم المضعفون۔(روم) اور جو زکوٰۃ تم اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کی نیت سے دیتے ہو تو یہی وہ لوگ ہیں جو اپنے مال کو کئی گنا بڑھاتے ہیں۔ اسلام میں زکوٰۃ کی بڑی اہمیت اور فضیلت ہے قرآن میں اس کا متعدد بار ذکر ہوا ہے” اقیمواالصلوۃ وآتواالزکوۃ”نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو۔ دینے والوں کے لیے آخرت میں اچھائی کا وعدہ ہے اور نہ دینے والوں کے لیے وعیدیں ہیں ” الذین یکنزون الذہب والفضۃ ولا ینفقونھا فی سبیل االلہ فبشرھم بعذاب الیم ” جو لوگ سونا اور چاندی خزینہ کر کے رکھتے ہیں اور اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے ان کو دردناک عذاب کی بشارت دی دو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ روزہ کی طرح زکوٰۃ بھی پہلی قوموں میں فرض تھی لیکن جس نے بھی دینے سے انکار کیا ان پر قحط سالی مسلط کر دی گئ”وما منع قوم الزکوۃ الا ابتلاھم بالسنین”(المعجم البلدان)
ایک صالح ،مہذب ،پرامن اور مثالی معاشرہ بنانے میں زکوٰۃ کا اہم رول ہوتا ہے، کیونکہ یہ غربت کے خاتمے کا بڑا ذریعہ ہے اور غربت کسی بھی سماج کے بگاڑ کےلیےناسور بن جاتی ہے، معاشرے میں فساد اور بگاڑ کی بڑی وجہ غربت، فقر وفاقہ اور افلاس ہے۔ لوٹ کھسوٹ ، چوری رہزنی اور دیگر تمام برائیوں کی جڑ تو غربت ہی ہوتی ہے، اس کی وجہ سے لوگ جھوٹ ،دغا اور مکر وفریب کے مرتکب ہو جاتے ہیں، لوگوں کی زندگی اجیرن بن جاتی ہے، ایمان ڈگمگانے لگتے ہیں اور کبھی کبھی ارتداد کا بھی شکار ہو جاتے ہیں۔ ارشاد نبوی ہے "کادالفقر أن یکون کفرا” آدمی کو فقر وفاقہ کفر کے قریب پہونچا دیتا ہے ان برائیوں سے معاشرے کو پاک کر نے کے لئے شریعت نے زکوٰۃ جیسے اہم رکن کو نافذ کرکے معاشی نظام کا اعلیٰ نمونہ پیش کیا ہے۔ اب ہر مؤمن کی ذمہ داری ہے کہ اس کی ادائیگی میں قطعی کوتا ہی نہ کرے ،پوری دنیا کے مسلمان قابل مبارک باد ہیں کہ اس کی اکثریت زکوٰۃ ادا کرنے میں پیش پیش رہتی ہے، لیکن بہت سے لوگ صاحب نصاب ہونے کے باوجود زکوٰۃ اس لئے نہیں دیتے کہ ان کے دلوں میں اسلامی فرائض اور واجبات کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی ہے ۔ خدا انہیں بھی اس کی توفیق عطا فرمائے آمین۔
موجودہ دور میں عام طور پر پوری دنیا میں دو معاشی نظام رائج ہیں ایک سرمایہ دارانہ نظام ( Capitalism ) اور دوسرا اشتراکی نظام (Socialism ) ان دو نظاموں نے دنیا کو غربت ختم کرنے کا صرف خواب دکھائے، عملی طور پر انسان کو وہ سکون فراہم نہ کر سکے، لیکن زکوۃ پر مبنی اسلامی معاشی نظام اصلی سکون فراہم کرتا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام میں دولت چند ہاتھوں میں سمٹ کر رہ جاتی ہے اس لیے امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہوتا چلا جاتا ہے۔ اس کے برعکس زکوۃ دولت کو اوپر سے نیچے( Top to Button) بہانے کا ایک خود کار نظام ہے۔ یہ امیر کا مال میں سے 2.5 چالیسواں حصہ نکال کر غریب تک پہنچاتی ہے، جس سے معیشت میں جمود کے بجائے روانی پیدا ہو جاتی ہے، مارکیٹ میں خرید وفروخت بڑھ جاتی ہے، روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ دنیا کے مادی نظاموں میں ٹیکس کا رواج ہے جس کو لوگ ایک بوجھ سمجھتے ہیں اور اس سے بچنے کی کوششیں کرتے ہیں۔ اس کے برعکس زکوۃ ایک عبادت ہے۔ مسلمان اسے خوشی سے ادا کرتا ہے، کیونکہ اس کا عقیدہ ہے کہ اس سے مال پاک ہوتا ہے، اس سے مال میں برکت ہوتی ہے، اور اخرت میں نجات کا ذریعہ ہے۔ اسی طرح اشتراکی نظام میں حکومت لوگوں سے سب کچھ چھین لیتی ہے اور انسان کی انفرادی ازادی ختم ہو جاتی ہے۔ زکوۃ میں اسلام نے فرد کی ملکیت کو تسلیم کیا ہے لیکن اسے ایک اخلاقی ذمہ داری دی ہے کہ کچھ حصہ اپنے مال کا ضرورت مندوں میں تقسیم کرو ۔زکوۃ لینا مستحقین کا حق ہے اور دینے والے کا فرض ہے یہ کسی پر احسان نہیں ہے ۔بلکہ حق کی ادائیگی ہے، اس سے غریب کی عزت نفس مجروح نہیں ہوتی۔ اس لیے موجودہ معاشی نظام کے فیل ہو جانے کے بعد زکوۃ کی اہمیت ان وجوہات سے مزید بڑھ جاتی ہے۔ نمبر ایک سرمایہ داری نظام سود پر قائم ہے جو غریب کا خون چوستا ہے ، اس کے برعکس زکوۃ ایک بلا سودی مالی امداد ہے جو معاشرے کے کمزور طبقے کو سہارا دیتی ہے۔ نمبر دو زکوۃ کے ذریعہ غریبوں، مسکینوں، بیواہوں، یتیموں اور مقروضوں کو وہ تحفظ ملتا ہے جو ترقی یافتہ ممالک میں بھاری ٹیکسوں کے باوجود حکومت فراہم نہیں کر پاتی ہے۔ نمبر تین دنیا بھر میں دولت کی غیر منصفانہ تقسیم ہے جو تمام فساد کی جڑ ہے زکوۃ اس توازن کو برقرار رکھتی ہے تاکہ دولت صرف اہل ثروت کے درمیان نہ گھومتی رہے جیسا کہ قران نے سورہ الحشر نے فرمایا ” کی لا تکون دولۃ بین الاغنیاء منکم”
سورہ توبہ میں اٹھ قسم کے لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ جنہیں زکوۃ دی جا سکتی ہے ۔
- ١- فقراء– وہ لوگ جو بالکل تہی دست ہوں ۔
- ٢- مساکین -جن کے پاس ضرورت سے کم مال ہو اور وہ کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلاتے ہوں ۔
- ٣- عاملین -وہ لوگ جو زکوۃ اکٹھا کرنے پر مأمور ہوں حکومتی سطح پر ۔
- ٤- تالیف قلب – نو مسلم کی دلجوئی کے لیے زکوۃ دی جا سکتی ہے ۔
- ٥- غلاموں کی ازادی کے لیے یا قیدیوں کی رہائی کے لئے ۔
- ٦- غارمین -قرض دار یعنی وہ شخص جو قرض کے بوجھ تلے دبا ہوا ہو اور ادا کرنے کی طاقت نہ ہو ۔
- ٧- فی سبیل اللہ– اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے یا دین کا علم حاصل کرنے والے مسافر یا طلباء مدارس ۔
- ٨– ابن السبیل وہ مسافر جو حالت سفر میں تنگدست ہوجائے چاہے وہ اپنے گھر میں صاحب حیثیت ہی کیوں نہ ہو۔
موجودہ دور میں روزگار ایک سنگین معاشی مسئلہ ہے اور زکوۃ کا نظام محض روٹی کپڑا دینے کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ مستحق کو خود کفیل بنانے کا بہترین ذریعہ ہے، اس سے روزگار فراہم کیا جا سکتا ہے، مثلا کسی کو رکسہ یا بائک خرید کر دینا، بیوہ کو سلائی مشینیں فراہم کرنا اور کسی ہنرمند کو اوزار یا چھوٹی دکان کا سامان لے کر دینا۔ اس طرح جب وہ شخص کمانے کے قابل ہو جائے گا تو اگلے سال زکوۃ لینے کے بجائے زکوۃ دینے والا بن جائے گااور ایک وقت آئے گا کہ زکوٰۃ لینے والا بمشکل ملے گا جیسا کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کے دور خلافت میں ہو گیا تھا اور اگر ہم زکوۃ کو صرف بھیک کے طور پر دیتے رہے تو غریب کی غربت کبھی ختم نہیں ہوگی بلکہ ماںگنے والوں کی تعداد دن بدن بڑھتی ہی جائے گی اس کے برعکس اگر زکوۃ کو سرمایہ کاری کے طور پر استعمال کیا جائے تو معاشرے میں بے روزگاری جیسی وبا ختم ہو سکتی ہے۔اس پر ارباب حل و عقد کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے تاکہ امت کا بھلا ہو۔
اخیر میں ہم تمام اہل ثروت مخیر حضرات جو صاحب نصاب ہیں، ان سے میری دردمندانہ اپیل ہے کہ اپ ایک قدم اگے بڑھ کر زکوۃ نکالنے میں پہل کریں آپ کی اس حقیر سی کوشش سے زکوۃ دینے کا ماحول بنے گا آپ کو یہ جان کر خوشی ہوگی کہ پورے عالم میں آپ کی زکوۃ فنڈ سے بے شمار رفاہی کام انجام پا رہے ہیں۔ مدارس، مکاتب، یتیم خانے، جامعات اور تنظیمیں آپ کی زکوۃ سے چل رہے ہیں طلبہ کو اسکالر شپ، بیوہ کو پنشن، یتیم کو جینے کا سہارا، مقروض کو قرض سے چھٹکارا، مجبوروں کو قرض حسنہ اور نا کردہ گناہوں کے مجرم کو جیلوں کے سلاخوں سے چھٹکارا مل رہا ہے۔ اسی پیسے سے آپ کے حق کی آواز بلند ہو رہی ہے۔ آپ کی ہمت اور جرأت کو سلام کے زمانہ زبان حال سے کہنے پر مجبور ہے کہ واللہ زکوۃ کا کوئی نعم البدل نہیں ہو سکتا ۔