انڈے، پتھر اور چپلیں پھینکے جانے کا دعویٰ؛ اپوزیشن جماعتوں نے واقعے کی مذمت کی
کولکاتا: مغربی بنگال کے ضلع جنوبی 24 پرگنہ کے سونارپور علاقے میں ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے قومی جنرل سکریٹری اور رکن پارلیمان ابھیشیک بنرجی کے قافلے پر مبینہ حملے کے بعد ریاست کی سیاست میں ایک نئی ہلچل پیدا ہوگئی ہے۔ ترنمول کانگریس نے اس واقعے کے لیے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے حامیوں کو ذمہ دار قرار دیا ہے، جبکہ بی جے پی نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق ابھیشیک بنرجی سونارپور میں حالیہ سیاسی تشدد میں ہلاک ہونے والے ایک ٹی ایم سی کارکن کے اہل خانہ سے تعزیت اور ملاقات کے لیے پہنچے تھے۔ اسی دوران ایک گروہ نے ان کے قافلے کے قریب احتجاج کیا اور مبینہ طور پر انڈے، پتھر اور چپلیں پھینکیں۔ واقعے کے دوران افراتفری کی صورتحال پیدا ہوگئی، تاہم سکیورٹی اہلکاروں نے انہیں بحفاظت وہاں سے نکال لیا۔
ترنمول کانگریس کا کہنا ہے کہ حملہ منصوبہ بند تھا اور اس کا مقصد ابھیشیک بنرجی کو جسمانی نقصان پہنچانا تھا۔ پارٹی رہنماؤں کے مطابق حملے میں ان کی گاڑی کو بھی نقصان پہنچا، جبکہ خود ابھیشیک بنرجی نے الزام لگایا کہ ان پر اینٹ سے حملہ کیا گیا جس سے وہ بال بال بچے۔
یہ بھی پڑھیں:
واقعے کے بعد ابھیشیک بنرجی نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی اختلافات کے نام پر تشدد کسی بھی جمہوری معاشرے کے لیے خطرناک ہے۔ انہوں نے حملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا۔
دوسری جانب بی جے پی نے ترنمول کانگریس کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عوامی ناراضگی کو سیاسی رنگ دیا جا رہا ہے۔ پارٹی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس واقعے سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے سمیت متعدد اپوزیشن رہنماؤں نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی اختلافات تشدد کا جواز نہیں بن سکتے۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں سے تحمل اور جمہوری اقدار کے احترام کی اپیل کی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق سونارپور کا یہ واقعہ مغربی بنگال میں بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی کی ایک اور مثال ہے، جہاں مختلف جماعتوں کے درمیان الزام تراشی اور تصادم کے واقعات مسلسل سامنے آ رہے ہیں۔