از:- عبدالعلیم الاعظمی
مذاکرات کے درمیان ہی امریکہ و اسرائیل نے ایران پر ایک ایسی جنگ مسلط کردی، جس کو وہ کسی صورت بھی نہیں چاہتا تھا اور پہلے ہی حملے میں خامنہ ای سمیت ایران کی مرکزی قیادت کی بڑی تعداد ماری گئی۔ غالبا ان کو مارنے میں "معاہدہ” کی دستاویز کو چارے کے طور پر استعمال کیا گیا تھا۔ امریکہ و اسرائیل کے حملے کے بعد سے دونوں فریق کی طرف سے خوں ریز جنگ کی شروعات ہوچکی ہے اور آج پانچویں دن دونوں اطراف سے حملے جاری ہیں۔ زیر نظر مضمون میں ہم ایرانی کاروائیوں کو دیکھتے ہوئے ایران کی جنگی پالیسی کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، ابھی تک کی صورت حال کا جائزہ لیتے ہیں۔ خاص طور سے 12/ روزہ جنگ اور حالیہ جنگ میں ایران کی پالیسی میں کیا بدلاؤ آیا ہے۔
ایران نے بارہ روزہ جنگ کے دوران بہت کچھ سیکھا ہے، انہیں تجربات کی وجہ سے ہی ایران ابھی تک کامیابی کے ساتھ یہ جنگ لڑ رہا ہے۔ 12/ روزہ جنگ میں یاد ہوگا کہ ایراں کے کئی قائدین اور حساس علاقوں پر ایران کے اندر ہی سے موساد کے ایجنٹوں کی طرف سے حملہ کیا گیا تھا۔ اور اُس جنگ کے دوران ایک بڑی تعداد میں موساد کے ایجنٹ اور ہتھیار برآمد ہوئے تھے۔ اس مرتبہ ایران اندرونی خطرات سے پہلے کی بنسبت پاک ہے اور ابھی تک اس طرح کی خبریں نہیں آئی ہیں۔
ایران نے ایک بہت ضروری کام یہ کیا ہے کہ جنگ شروع ہونے کے فورا بعد ہی انٹرنیٹ کو مکمل طور پر بند کردیا ہے۔ اس سے جہاں جاسوسی اور اندرونی خطرات سے بچے گا وہیں بیرونی پروپیگنڈوں کے اثرات ایرانی عوام پر بھی نہیں ہوں گے۔
ذیل میں ایران کی جنگ پالیسوں پر روشنی ڈالتے ہیں :
1۔ سابقہ جنگ کے برعکس ایران نے اسرائیل کے ساتھ ساتھ مشرق وسطی میں موجود امریکہ کے اکثر ٹھکانوں کو نشانہ بنانا شروع کیا ہے۔ ایران امریکہ کے ٹھکانوں کو نشانہ کیوں بنارہا ہے، اس کے پیچھے ایران کی پالیسی کیا ہے۔ پہلے یہ سمجھ لیتے ہیں کہ جنگی حالات میں یہ فوجی اڈے کس کام کے ہوتے ہیں اور کس طرح ان کا استعمال کیا جاتا ہے۔ جنگی صورتحال میں ان اڈوں کا زیادہ تر استعمال کمک کے طور پر ہوتا ہے، فائٹر جیٹ یہاں پناہ لیتے ہیں، یہاں سے آسانی سے فیولنگ ہوجاتی ہے۔ ان اڈوں میں موجود راڈار سسٹم دشمن کی میزائلوں کو ٹریک کرلیتا ہے اور ان کو روکتا ہے۔ جن دونوں ممالک کے درمیان جنگ ہوتی ہے ان کے بنسبت یہ فوجی اڈے فوجیوں کے قیام گاہ اور مل بیٹھ کر پالیسی بنانے میں زیادہ مفید ہوتے پیں اور یہاں کم خطرات ہوتے ہیں۔ دوسرے نقطے پر آتے ہیں کہ ایران ان فوجی اڈوں کو کیوں نشانہ بنارہا ہے۔
ایران کی پالیسی یہ ہے کہ ان تمام فوجی اڈوں کو نشانہ بناکر Out of service کردیا جائے اور ان اڈوں سے دشمن کو کسی بھی طرح کی امداد نہ مل سکے۔ درحقیقت ایران کی یہ پالیسی جنگ کا اولین مرحلہ ہے۔ جنگ کا دوسرے مرحلے میں یہ حملے صرف اور صرف اسرائیل پر ہوں گے۔
ایران کی صرف یہی پالیسی نہیں ہیں کہ یہ اڈے کام کرنا بند کردیں ؛ بلکہ ایران چاہتا ہے کہ امریکہ کی دفاعی قوت ہی ختم ہوجائے اور وہ یہ کیسے کرنا چاہتے ہیں، آگے چل کر اس پر بات کریں گے۔
ایران نے مسلسل حملوں کی وجہ سے بحرین کے امریکی فوجی اڈے کو تقریبا ناکارہ بنا دیا ہے۔ کویت کا فوجی اڈہ بھی آخری سانس لے رہا ہے؛ جب کہ دیگر فوجی اڈے ابھی بھی ایرانی حملوں کو روکنے میں دم خم دکھا رہے ہیں؛ لیکن سوال یہ ہے کہ کتنے دن یہ دم خم دکھائیں گے۔ کچھ دنوں بعد ہی ان کی دفاعی قوت کمزور ہونا شروع ہوجائے گی اور جہاں پچاس فیصد سے کم ہوگی اس کے بعد ان اڈوں کو بچانا مشکل ہو جائے گا۔
2۔ ایران نے ابھی تک اپنے مضبوط ہتھیاروں کو استعمال نہیں کیا ہے۔ اگر بارہ روزہ جنگ سے مقابلہ کریں تو ظاہر میں یہ لگتا ہے کہ اُس جنگ سے زیادہ شدید حملے کررہا ہے، اس سے زیادہ تعداد میں حملے کررہا ہے۔ جب کہ ایسا نہیں ہے ایران ابھی تک جو بھی حملے کررہا ہے خواہ اڈوں پر یا اسرائیل پر کثرت کے اعتبار سے تو زیادہ ہیں لیکن قوت کے اعتبار سے بہت کم ہیں۔ بارہ روزہ جنگ میں اسرائیل نے اپنے مضبوط ہتھیاروں کو زیادہ استعمال کیا تھا؛ جب کہ یہاں بہت ہی معمولی قسم کے ہتھیاروں کے درمیان اکا دوکا مضبوط ہتھیار استعمال کررہا ہے۔ درحقیقت ایران جنگ کے اس مرحلے میں نقصان پہنچانے سے کہیں زیادہ دفاعی قوت کو کمزور کرنا اور امریکہ کے دفاعی ہتھیاروں کے ذخیروں کو کم کرنا چاھتا ہے۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ ایران بہت معمولی قسم کے ڈرون استعمال کررہا ہے جن کی لاگت دس ڈالر سے لیکر سو دو سو ڈالر تک ہوتی ہے۔ ایران پچاس ساٹھ اس طرح کے ڈروں استعمال کررہا ہے اور انہیں ڈرون کی بھیڑ میں دو چار بیلسٹک میزائل بھی فائر کرتا ہے ۔ امریکہ ان معمولی ڈرون کو روکنے کے لیے جن ہتھیاروں کا استعمال کررہا ہے ان پر ایران کے ہتھیاروں کی بنسبت بہت زیادہ لاگت آتی ہے، پانچ سو ڈالر سے لیکر ایک ہزار ڈالر تک کے ہتھیار استعمال کرتا ہے۔ یعنی ایران کے دس یا سو ڈالر کے معمولی ہتھیاروں کو روکنے کے لیے بھی امریکہ کو ایک ہزار ڈالر کا استعمال کرنا پڑ رہا ہے۔ دیکھنے والے بات ہے کہ امریکہ کب تک دفاع کرتا رہے گا۔ اور کب تک ان کے پاس ہتھیاروں کی کھیپ موجود رہے گی۔
3۔ متعدد امریکی جریدوں نے سوتروں کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ مشرق وسطی میں امریکہ کے دفاعی ہتھیار ختم ہورہے ہیں، اور ایران کی اس جنگی پالیسی کی وجہ سے امریکی جنگی قیادت کے درمیان کھلبلی مچی ہوئی ہے۔
4۔ امریکہ ایک محدود جنگ چاہتا ہے، امریکہ کا مقصد تختہ پلٹنا تھا؛ لیکن اگر وہ اس میں کامیاب بھی نہیں ہوتا تو یہ کہہ کر باھر ہوجاتا کہ ہم ایران کو پچاس سال پیچھے ڈھکیل دئے ہیں، لیکن ایران کی ابھی تک کی پالیسی سے لگتا ہے کہ ایران ایک طویل جنگ چاہتا ہے اور کم از کم ایک ماہ یہ جنگ جاری رہے گی تو ایران کا زیادہ فائدہ ہوگا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایران کو اپنی منشا اور چاہت کے باوجود اس جنگ کو ختم کرنے پر راضی ہونا پڑے گا کچھ دن کا غصہ دکھانے کے بعد اس کو بند ہی کرنا پڑے گا اگر ایرانی قیادت امریکہ اور عالمی دباؤ کو جھیل کر جنگ جاری رکھتے ہیں تو یہ اس کے حق میں زیادہ مفید ہوگا ؛ بلکہ امریکہ کو زمینی کارروائی پر بھی مجبور کر سکتا ہے۔
5۔ ایران نے ابنائے ہرمز کو بند کرنے کا اعلان کیا ہے، اور ابھی تک پانچ امریکی جہازوں کو نشانہ بنایا ہے۔ بعض ذرائع کہتے ہیں کہ آبنائے ہرمز ابھی تک مکمل طور پر بند نہیں ہوئی ہے؛ لیکن جو تصاویر آئی ہیں اس سے پتہ چلتا ہے کہ دونوں جانب ہزاروں جہاز انتظار کررہے ہیں۔ آبنائے ہرمز بند ہوگا تو عالمی تجارت میں بوال آجائے گا، قیمت آسمان پر پہنچ جائے گی۔۔۔۔دنیا بھر میں تیل اور گیس کی قلت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
6۔ امریکہ نے اعتراف کیا کہ اس کے تین فائٹر جیت کویت میں دوستانہ فائرنگ میں کریش ہوئے ہیں، جب کہ پاسداران انقلاب کا دعوی ہے کہ یہ ہم نے گرایا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب نے ایران میں بھی ایک فائٹر جیٹ گرانے کا دعوی کیا ہے؛ لیکن امریکہ نے اس کا اعتراف نہیں کیا ہے۔ اگر یہ واقعی ایران نے گرائے ہیں تو یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ بعض ذرائع کہتے ہیں کہ ان کو گرانے میں چین نے ایران کی مدد کی ہے۔ دیکھا جائے تو ایران کے پاس اتنی ایڈوانس ٹیکنالوجی نہیں ہے کہ چند گھنٹوں میں تین فائٹر جیٹ دوسرے کی سرزمین میں گرا دیں، اگر کویت نے گرایا ہے تو اس سے عرب ممالک میں کھلبلی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ دن ہی میں دوست اور دشمن میں فرق نہیں کر پارہے ہیں۔
7۔ ایران نے عرب ممالک میں امریکی اڈوں کے علاوہ امریکی فوجیوں کے ٹھکانوں اور ان ہوٹلوں اور مقامات کو نشانہ بنایا ہے، جہاں وہ موجود تھے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ اس جنگ میں چین اور روس انٹلیجنس کے اعتبار سے ایران کی مکمل مدد کررہا ہے۔ ایران ان انٹلیجنس کی مدد سے امریکی فوجی اڈوں اور پورے عرب ممالک میں موجود امریکی فوجیوں کو نشانہ بنارہا ہے۔ ورنہ ایران کی انٹلیجنس اتنی مضبوط نہیں ہے کہ وہ پتہ کرسکے کہ کس ہوٹل میں امریکی فوجی جمع ہیں، کہاں امریکی فوجیوں کی میٹنگ چل رہی ہے، یہ بھی حیرت انگیز ہے کہ کویت میں جو 6 امریکی فوجی مارے گئے ہیں بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ فوجی اڈے میں نہیں مارے گئے ہیں بلکہ دوسری جگہ عارضی طور پر موجود تھے، ایران اس جگہ کو نشانہ بنایا۔ ایران نے کئی عرب ممالک میں امریکہ و اسرائیل کے سفارت خانہ کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی ؛ اگرچہ ایران نے ابھی تک اس کا رسمی طور پر اعتراف نہیں کیا ہے۔
8۔ جنگ کے تیسرے ہی دن حزب اللہ نے جنگ میں شمولیت کا فیصلہ کیا۔ حزب اللہ کا یہ فیصلہ اس کی طاقت کو مکمل طور پر ختم کرسکتا ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت تھوڑا بہت مفید ہوگا جب ایران اسرائیل کے درمیان ایک طویل جنگ ہو۔ حزب اللہ نے شمالی علاقوں سمیت تل ابیب کو نشانہ بنانا شروع کردیا ہے۔ اسرائیل نے حزب اللہ کے خلاف زمینی کارروائی کا فیصلہ کیا، اسرائیلی فوج لبنان میں داخل ہورہی ہے، سرحدی علاقوں پر حزب اللہ نے اسرائیل کے 6/ مرکاوا ٹینک کو نشانہ بنانے کا دعوی کیا ہے۔ حزب اللہ نے اسرائیل کے خلاف ایک بڑا محاذ کھولا ہے، یہ اسرائیل کی طاقت کو دو حصوں میں تقسیم کرے گا اور اس کی وجہ سے ایران کا فائدہ ہوگا۔
9۔ عراق میں موجود شیعہ مسلح جماعت مقاومت اسلامیہ عراق بھی جنگ میں شامل ہوگئی ہے، مقاومت اسلامیہ مسلسل عراق میں موجود امریکی فوجی ٹھکانوں پر حملے کررہے ہیں۔ ایران کو مقاومت اسلامیہ سے ایک بڑا فائیدہ یہ بھی ہوگا کہ اگر امریکہ کے اشارے پر کرد اس جنگ میں شامل ہوتے ہیں تو کردوں کو روکنے میں مقاومت اسلامیہ بڑا کلیدی کردار ادا کرسکتی ہیں اور ایران کو ایک اہم خطرے سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔
10۔ حوثیوں نے اگرچہ جنگ میں شامل ہونے کا پہلے دن اعلان کردیا تھا؛ لیکن ابھی تک وہ خاموش ہیں۔ جو حوثی غزہ اسرائیل جنگ میں برملا اسرائیل کے خلاف تھے وہ آج اپنے ہی حلیف ایران کے لیے کیوں خاموش ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ سعودی پر حملوں کی وجہ سے حوثی خاموش ہیں وہ کسی بھی صورت نہیں چاہتے ہیں سعودی پر حملے کی صورت میں ایران کی مدد کریں اور حوثی شاید اس وقت تک خاموش رہیں جب تک سعودی اور ایران میں مصالحت نہ ہوجائے۔ درحقیقت سعودی اور حوثیوں میں( غزہ اسرائیل جنگ میں) اندرونی معاہدہ کو توڑنا نہیں چاہتے ہیں اور حوثیوں کو معلوم ہے کہ سعودی ان کی طاقت کو ختم کرسکتا ہے۔ اسی وجہ سے وہ ابھی تک خاموش نظر آرہے ہیں۔ حوثیوں کا شامل ہونا ایران کو مضبوطی دے گا خاص طور سے بحر احمر میں ان کی کاروائی سے اسرائیل کو بہت نقصان پہنچے گا۔
11۔ اسرائیل میں مسلسل حملے ہورہے ہیں؛ لیکن اسرائیل نے راکٹ گرنے کی جگہ کی تصاویر کو عام کرنے اور کسی طرح کی خبر دینے پر مکمل پابندی عائد کردی ہے۔ البتہ چوں کہ اسرائیل بہت چھوٹا ہے اور اس کے بیچ ہی میں مغربی کنارہ ہے، اسی لیے وہاں سے دھماکوں اور راکٹ گرنے کی خبریں اجاتی ہے البتہ اس کے نقصانات کے بارے میں کچھ خاص معلومات نہیں مل رہی ہے۔
12۔ ایران نے خامنہ ای کے مارے جانے کو اپنے مفادات میں استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔ ایران میں مسلسل چوتھے دن تک بڑے بڑے شہروں میں دھمکاوں اور حملوں کے درمیان خامنہ ای کی یاد میں ریلیاں نکالی جارہی ہیں اور لوگوں کو ایک جٹ کیا جارہا ہے۔ ایران میں انٹرنیٹ پر پابندی کے باوجود ایرانی سرکاری ذرائع ان کی کوریج کررہے ہیں اور اس کی ویڈیوز وغیرہ دنیا بھر میں عام کررہے ہیں۔ درحقیقت یہ ریلیاں ان خطرات اور اندیشوں کو ختم کررہی ہیں جو امریکی صدر کو تھے کہ ایرانی عوام خود تختہ پلٹ دے گی۔ ایران میں عوام بھی کثیر تعداد میں ماری گئی ہے؛ بلکہ وہ لوگ بھی مارے گئے ہیں جو ایرانی حکومت کے خلاف تھے؛ یہی وجہ ہے کہ اس فوجی کاروائی کے بعد ایرانی حکومت کی حمایت مزید بڑھ جائے گی صرف اور صرف امریکہ دشمنی کی وجہ سے۔
13۔ ٹرمپ اور مارکو روبیو جنگ کی مختلف وجوہات بتارہے ہیں اور ایک دوسرے ہی کی تردید کررہے ہیں، امریکہ ابھی تک رک کانگریس میں خاطر خواہ وجہ نہیں بتا سکا ہے، ٹرمپ نے کہا کہ ایران حملہ کرنے والا تھا اسی لیے ہم نے حملہ کردیا۔ جب کہ امریکی انٹلیجنس نے کانگریس میں کہا کہ ہمارے پاس ایسی کوئی خبر نہیں تھی کہ ایران امریکہ پر حملہ کرنے والا ہے۔ امریکہ میں اس جنگ کی وجہ سے کافی ٹھنی ہے، ایک بڑی تعداد کا خیال ہے کہ یہ اسرائیل کی جنگ ہے جس میں امریکہ کو زبردستی گھسیٹا گیا ہے۔ اپوزیشن بھی مسلسل گھیر رہی ہیں؛ لیکن ٹرمپ پر کہاں کچھ فرق پڑنے والا ہے۔
14۔ امریکہ کو اس بات کا احساس ہوگیا ہے کہ ایران میں تختہ پلٹ اتنی آسانی سے ممکن نہیں ہے؛ یہی وجہ ہے کہ جنگ کے تیسرے دن ہی امریکی صدر نے کرد لیڈروں سے بات کی اور امریکہ ان کو ہتھیار دے کر ایران میں زمینی کارروائی کروانا چاھتا ہے، کردوں کے کسی بھی طرح کے معاملے میں ترکی اور شام کسی بھی صورت نہیں چاھے گا کہ یہ ایک طاقت بن کر ابھریں اور ان کے لیے سر درد بنیں اور ان کی مخالفت یہ دونوں ملک ضرور کریں گے۔ امریکہ ایران میں زمینی کارروائی کے بارے میں بھی غور و فکر کررہا ہے، البتہ زمینی کارروائی کے امکانات بہت ہی کم ہیں۔
15۔ ایک سوال یہ ہوتا ہے کہ ایران کے پے در پے حملوں کی وجہ سے عرب ممالک کیا کرسکتے ہیں، یہ سمجھ لینا چاھئے کہ اس جنگ میں عرب ممالک بے بس اور مجبور ہیں، اور وہ بری طرح پھنس گئے ہیں، نہ وہ نوالے کو کھاسکتے ہیں اور نہ اگل سکتے ہیں۔ عرب ممالک مذمت، اقوام متحدہ سے فریاد اور دیگر ممالک کے توسط سے دباؤ ڈال سکتے ہیں، اس کے علاوہ ان کے لیے کچھ ممکن ہی نہیں ہے۔ ایران کا وہ کچھ بھی نہیں کرسکتے ہیں؛ کیوں کہ ایران کو امریکہ و اسرائیل پہلے ہی سے مار رہے ہیں اور عرب ممالک امریکہ و اسرائیل سے زیادہ گہری چوٹ نہیں پہنچا سکتے ہیں۔ ایک منٹ کے لیے تصور کریں کہ عرب ممالک نے ایران پر حملہ کردیا تو پھر کیا ہوگا، ایران کی صورت تو پاگل کتے کی طرح ہے اس کو ان عرب ممالک کے فوجیوں کو نشانہ بنانے کا موقع مل جائے گا۔ اسی لیے ایران کے خلاف کسی بھی طرح کی فوجی کاروائی بے وقوفی کے سوا کچھ نہیں ہے، وہ پہلے ہی مر رہے ہیں، کٹ رہے ہیں، عرب ممالک اس میں بس تعداد کے اعتبار سے کچھ اضافہ کرسکتے ہیں، البتہ پلٹ وار میں ایران عرب ممالک کو کو تباہ و برباد کرسکتا ہے۔