ایران – امریکا و اسرائیل کشمکش اور مسلمان

از:- ڈاکٹر سلیم انصاری

جھاپا، نیپال

سوشل میڈیا پر ان دنوں بہت کچھ لکھا جا رہا ہے اور بولا جا رہا ہے۔ ہر شخص اپنی سیاسی بصیرت کے مطابق تجزیہ پیش کر رہا ہے۔ کوئی اسے عالمی طاقتوں کی جنگ قرار دیتا ہے، کوئی اسے مشرقِ وسطیٰ کی جغرافیائی سیاست کا نتیجہ کہتا ہے، اور کوئی اسے خالص مسلکی عینک سے دیکھتا ہے۔ ایران، امریکا اور اسرائیل کی کشمکش نے ایک بار پھر امتِ مسلمہ کے اندر فکری تقسیم کو نمایاں کر دیا ہے۔ جب بھی ایران اور اسرائیل یا امریکا آمنے سامنے ہوتے ہیں تو امت کے اندر ایک خاص نوعیت کی ذہنی کشمکش جنم لیتی ہے۔ ایک طبقہ اس صورتحال کو محض سیاسی یا اسٹریٹجک تصادم کے طور پر نہیں دیکھتا بلکہ اسے مسلکی زاویے سے پرکھتا ہے، اور نتیجتاً ایران کے خلاف ایسا سخت مؤقف اختیار کرتا ہے کہ گویا اصل مسئلہ مسلک کا ہے، نہ کہ خطے میں طاقت کے توازن کا۔ یہی ذہنیت فروعی مسائل اور مستحبات میں غیر معمولی شدت دکھاتی ہے، لیکن جب امت کی وحدت اور اجتماعی مفاد کا سوال ہو تو وسعتِ نظر کم ہو جاتی ہے۔

یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ ایران کے اندر فقہی اور اعتقادی اختلافات موجود ہیں۔ اہلِ سنت اور اہلِ تشیع کے درمیان صدیوں سے علمی مباحث جاری ہیں، اور یہ اختلافات تاریخ کا حصہ ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جب معاملہ ایک مسلمان اکثریتی ریاست اور غیر مسلم عالمی طاقتوں کے درمیان ہو تو ترجیح کا معیار کیا ہونا چاہیے؟ کیا مسلکی اختلاف کو اس حد تک بڑھا دینا درست ہے کہ ایک مسلم ریاست کی سیاسی یا عسکری کمزوری پر اطمینان محسوس کیا جائے؟ یا پھر قرآن و سنت کی روشنی میں وسیع تر امتّی تناظر اختیار کیا جائے جس میں بڑے خطرے اور چھوٹے اختلاف کے درمیان فرق کیا جائے؟

قرآنِ مجید سورۂ روم میں ایک اہم اصول پیش کرتا ہے۔ جب رومیوں کو فارسیوں کے ہاتھوں شکست ہوئی تو مکہ کے مشرکین فارسیوں کی کامیابی پر خوش تھے، لیکن مسلمان رومیوں کی آئندہ کامیابی کی پیشگوئی پر مسرور ہوئے۔ حالانکہ رومی عیسائی تھے اور ان کے عقائد اسلامی عقائد سے مختلف تھے، اس کے باوجود وہ مشرک فارسیوں کے مقابلے میں نسبتاً قریب سمجھے گئے۔ یہاں “نسبتی قربت” کا اصول سامنے آتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ عیسائیت کی توثیق کر دی گئی، بلکہ یہ کہ ترجیح کا تعین اس بنیاد پر کیا گیا کہ کون سا فریق کھلے شرک کے مقابلے میں کم درجے کی دوری رکھتا ہے۔ یہی اصول آج بھی سیاسی ترجیحات کے تعین میں رہنمائی فراہم کر سکتا ہے۔

سیرتِ نبوی ﷺ بھی ہمیں یہی توازن سکھاتی ہے۔ مدینہ میں منافقین موجود تھے، قرآن نے ان کے بارے میں سخت وعید بیان کی، لیکن نبی کریم ﷺ نے ان کے ساتھ ظاہری اسلام کی بنیاد پر معاملہ کیا تاکہ نوخیز اسلامی ریاست داخلی تصادم کا شکار نہ ہو۔ اگر ہر اختلاف یا باطنی خرابی کو بنیاد بنا کر فوری ٹکراؤ شروع کر دیا جاتا تو اجتماعی استحکام خطرے میں پڑ جاتا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اجتماعی مصلحت اور داخلی استحکام کو بعض مواقع پر ترجیح دی جاتی ہے، جبکہ حتمی فیصلے کو اللہ پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔

موجودہ تناظر میں اسرائیل کی پالیسیوں کو دیکھیں تو “گریٹر اسرائیل” یا وسیع تر اسرائیل کا تصور صہیونی فکر کے بعض دھاروں میں موجود رہا ہے۔ اگرچہ ریاستی سطح پر پورے خطے پر باضابطہ دعویٰ نہیں کیا جاتا، لیکن مغربی کنارے میں بستیوں کی توسیع، جغرافیائی حقائق کی تدریجی تبدیلی، فلسطینی علاقوں کا مسلسل سکڑنا اور بیت المقدس کی حیثیت کو تبدیل کرنے کی کوششیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ زمینی سطح پر طاقت کے ذریعے نقشہ بدلا جا رہا ہے۔ جب کوئی ریاست عسکری ٹیکنالوجی، انٹیلی جنس نظام اور سفارتی حمایت کے اعتبار سے نمایاں برتری حاصل کر لے تو علاقائی بالادستی کا امکان فطری طور پر بڑھ جاتا ہے۔

امریکا کی مشرقِ وسطیٰ میں فوجی موجودگی کو بھی اسی پس منظر میں سمجھنا چاہیے۔ مختلف خلیجی ریاستوں اور دیگر علاقوں میں امریکی اڈے قائم ہیں۔ سرکاری مؤقف یہ پیش کیا جاتا ہے کہ یہ اڈے دہشت گردی کے خلاف جنگ، توانائی کے تحفظ اور علاقائی استحکام کے لیے ہیں۔ لیکن جغرافیائی سیاست کا بنیادی اصول یہ ہے کہ بڑی طاقتیں ہمیشہ اپنے اسٹریٹجک مفادات کو مقدم رکھتی ہیں۔ توانائی کے ذخائر، عالمی تجارتی راستے اور اسرائیل کی سلامتی امریکی خارجہ پالیسی کے مستقل ستون رہے ہیں۔ مسلسل عسکری امداد، جدید اسلحہ کی فراہمی اور سفارتی حمایت اس حقیقت کو تقویت دیتی ہے کہ خطے میں امریکی موجودگی کا ایک اہم پہلو اسرائیل کی برتری کو یقینی بنانا بھی ہے۔

یہاں “توازنِ قوت” کا تصور نہایت اہم ہو جاتا ہے۔ بین الاقوامی نظام میں جب تک خطے میں ایک سے زیادہ مؤثر قوتیں موجود رہتی ہیں، مکمل یکطرفہ غلبہ مشکل رہتا ہے۔ لیکن اگر ایک ایک کر کے ممکنہ مزاحم قوتیں کمزور کر دی جائیں تو غالب طاقت اپنی شرائط آسانی سے نافذ کر سکتی ہے۔ ایران کو اسی تناظر میں دیکھا جاتا ہے کہ وہ اسرائیل کی بعض پالیسیوں کو کھلے عام چیلنج کرتا ہے۔ اگر ایران داخلی یا بیرونی دباؤ کے نتیجے میں شدید کمزور ہو جائے تو اس کے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے خطے میں طاقت کے توازن پر مرتب ہوں گے۔

یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ کسی مسلم ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا اس کی ہر پالیسی کی تائید نہیں ہوتا۔ جس طرح سورۂ روم میں رومیوں کی حمایت عیسائیت کی توثیق نہیں تھی، اسی طرح آج کسی مسلم ریاست کے حق میں موقف اختیار کرنا اس کے تمام نظریاتی یا سیاسی اقدامات کو درست قرار دینا نہیں ہے۔ یہ دراصل ترجیح کا مسئلہ ہے: بڑے خطرے اور چھوٹے اختلاف کے درمیان فرق کرنے کا سوال۔ اگر امت اس اصول کو سمجھ لے تو وہ مسلکی تعصب کے بجائے اجتماعی مفاد کی بنیاد پر سوچنے کے قابل ہو سکتی ہے۔

آج امتِ مسلمہ کو سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ فکری پختگی، سیاسی شعور اور داخلی اتحاد ہے۔ اگر ہم ہر بین الاقوامی کشمکش کو صرف اپنے داخلی اختلافات کے آئینے میں دیکھتے رہیں گے تو بڑی طاقتوں کے لیے خطے میں اپنی حکمتِ عملی نافذ کرنا آسان ہو جائے گا۔ لیکن اگر ہم بڑے تناظر کو سامنے رکھ کر سوچیں، ترجیحات کو درست ترتیب دیں اور وحدتِ امت کو مقدم رکھیں تو نہ صرف فکری انتشار کم ہوگا بلکہ اجتماعی وقار بھی محفوظ رہ سکے گا۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔