از:- شان محمد ندوی
تاریخ کے آئینے میں دیکھا جائے تو ایران اور اسرائیل کے تعلقات ہمیشہ سے ایسے نہیں تھے جیسے آج نظر آتے ہیں۔ 1970 کی دہائی کے اواخر تک، شاہِ ایران کے دور میں، دونوں ممالک کے درمیان گہرے تزویراتی اور دفاعی مراسم قائم تھے۔
دوستی کا دور اور دفاعی تعاون:
1977 میں جب اسرائیل میں مناحیم بیگن کی ‘لیکود’ حکومت برسرِاقتدار آئی، تو ایران کے ساتھ خفیہ فوجی تعاون عروج پر تھا۔ اس وقت "تیل کے بدلے اسلحہ” کے فارمولے کے تحت کئی معاہدے کیے گئے۔ ان میں سب سے اہم ‘پراجیکٹ فلاور’ تھا، جس کا مقصد ایسے جدید بیلسٹک میزائل تیار کرنا تھا جو ایٹمی وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ اس شراکت داری میں ایران مالی وسائل فراہم کر رہا تھا جبکہ اسرائیل تکنیکی مہارت دے رہا تھا۔
1979 کا انقلاب: ایک جغرافیائی سیاسی زلزلہ
تاہم، فروری 1979 میں آنے والے ایرانی انقلاب نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا۔ آیت اللہ روح اللہ خمینی کی قیادت میں شاہ کا تختہ الٹ دیا گیا اور ایران ایک اسلامی جمہوریہ بن گیا۔ اس تبدیلی نے خطے کی سیاست میں ایک بڑا زلزلہ برپا کر دیا۔ نئی قیادت نے اسرائیل کے ساتھ تمام تعلقات ختم کر دیے اور یروشلم (قدس) کی آزادی کو اپنا بنیادی مقصد قرار دیا۔
"عظیم شیطان” اور "چھوٹا شیطان”
انقلاب کے بعد ایران نے امریکہ کو "عظیم شیطان” اور اسرائیل کو "چھوٹا شیطان” کا لقب دیا۔ تہران میں امریکی سفارت خانے پر قبضے اور سفارت کاروں کو یرغمال بنائے جانے کے واقعے نے امریکہ اور ایران کے تعلقات کو مستقل طور پر کشیدہ کر دیا۔ ایران کے نزدیک امریکہ 1953 کی اس بغاوت کا ذمہ دار تھا جس نے ان کے منتخب وزیراعظم محمد مصدق کی حکومت گرائی تھی، جبکہ اسرائیل کو وہ فلسطین پر قابض ریاست کے طور پر دیکھتے تھے۔
موجودہ تصادم کی صورتحال
جو ایران کبھی خطے میں امریکہ اور اسرائیل کا اہم ترین ستون تھا، وہ انقلاب کے بعد ان کا سب سے بڑا حریف بن گیا۔ گزشتہ چار دہائیوں میں یہ دشمنی بتدریج بڑھتی گئی اور اب یہ ایک باقاعدہ جنگی صورتحال میں تبدیل ہو چکی ہے۔ آج کے دور میں اسرائیل، امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست فضائی حملے اور خطے میں موجود فوجی اڈوں پر جوابی کارروائیاں اس تلخ دشمنی کا واضح ثبوت ہیں۔
مختصر یہ کہ، ایران اور اسرائیل کے تعلقات میں آنے والی یہ تبدیلی محض دو ممالک کی تبدیلی نہیں تھی بلکہ اس نے پوری دنیا کی سیاست اور مشرقِ وسطیٰ کے نقشے کو ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دیا۔
ایران اسرائیل دشمنی اور مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی سیاست
اسلامی جمہوریہ ایران کا ظہور ایک ایسے وقت میں ہوا جب مشرقِ وسطیٰ کی سیاست ایک بڑے موڑ سے گزر رہی تھی۔ 1978 میں مصر اور اسرائیل کے درمیان ہونے والے امن معاہدے نے، جس کے نتیجے میں اسرائیل نے جزیرہ نما سینا واگزار کیا، عرب دنیا کے روایتی موقف کو بدل کر رکھ دیا۔ جہاں عرب ممالک آہستہ آہستہ اسرائیل کے ساتھ براہِ راست تصادم سے پیچھے ہٹ رہے تھے، وہیں انقلابی ایران ایک نئے اور سخت گیر حریف کے طور پر سامنے آیا۔
ایران کی خارجہ پالیسی اور فلسطینی کاز:
ایران کی نئی قیادت کے لیے فلسطین کی حمایت محض ایک مذہبی فریضہ نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی خارجہ پالیسی بھی تھی۔ اس کا مقصد عالمِ اسلام کی ہمدردیاں حاصل کرنا اور مسلم دنیا میں موجود شیعہ سنی تفریق کو ختم کر کے ایک مشترکہ دشمن (اسرائیل) کے خلاف متحد ہونا تھا۔ اس تبدیلی نے مغربی ایشیا کی جغرافیائی سیاست (جغرافیائی سیاست) کو ایک نیا رخ دے دیا، جہاں اسرائیل نے اپنے پرانے عرب دشمنوں کے بجائے ایک نئے غیر عرب حریف کو ابھرتے دیکھا۔
دفاعی حکمتِ عملی اور ملیشیاؤں کا نیٹ ورک:
اسرائیل، امریکہ اور مغرب کی بھرپور حمایت اور ایٹمی صلاحیت کی بدولت خطے کی طاقتور ترین فوجی قوت بن چکا تھا۔ دوسری طرف، ایران نے امریکی پابندیوں کے باعث روایتی جنگ کے بجائے ‘نیابتی جنگ’ (Proxy War) کی حکمتِ عملی اپنائی۔ 1980 کی دہائی میں ایران نے لبنانی شیعہ تحریک ‘حزب اللہ’ کی بنیاد رکھنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ 1990 کی دہائی میں جب ‘اوسلو عمل’ (Oslo Accords) ناکام ہوا اور دو ریاستی حل کی امیدیں دم توڑ گئیں، تو ایران نے حماس اور اسلامی جہاد جیسی فلسطینی تنظیموں کی حمایت دگنی کر دی، جس سے حماس فلسطینی مزاحمت کا ایک بڑا ستون بن کر ابھری۔
جنوبی لبنان اور حزب اللہ کی مزاحمت:
لبنان کی سرزمین ایران اور اسرائیل کے درمیان تصادم کا بڑا میدان بنی۔ جنوبی لبنان پر اسرائیل کے 18 سالہ قبضے کے دوران حزب اللہ نے ایسی بھرپور مزاحمت کی کہ اسرائیل کے لیے اپنا قبضہ برقرار رکھنا ناممکن ہو گیا۔ اس جدوجہد میں ایران نے شام کے اسد خاندان کے ذریعے حزب اللہ کو مالی امداد، جدید اسلحہ اور تربیت فراہم کی۔ نتیجے کے طور پر، سنہ 2000 میں اسرائیل جنوبی لبنان سے پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوا۔ حزب اللہ نے اسے اپنی تاریخی فتح قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہ پہلی عرب طاقت ہے جس نے اسرائیلی فوج کو شکست سے دوچار کیا۔
حاصلِ کلام:
سنہ 2006 میں اسرائیل نے لبنان پر دوبارہ حملہ کیا، لیکن ایک ماہ طویل شدید مہم کے باوجود وہ حزب اللہ کے ڈھانچے کو ختم کرنے میں ناکام رہا۔ یہ واقعات اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ ایران اور اسرائیل کی یہ دشمنی اب محض بیانات تک محدود نہیں بلکہ اس نے پورے خطے کے دفاعی اور سیاسی توازن کو بدل دیا ہے۔ آج مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کا ہر بڑا واقعہ کسی نہ کسی صورت اسی دیرینہ دشمنی کے زیرِ اثر نظر آتا ہے۔