نئی دہلی: مغربی ایشیا میں جاری جنگ کے باعث عالمی سطح پر خام تیل اور ہوائی ایندھن (اے ٹی ایف) کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کے اثرات اب ہندوستان کی فضائی صنعت پر بھی نمایاں ہونے لگے ہیں۔ مرکزی وزیر شہری ہوا بازی رام موہن نائیڈو نے خبردار کیا ہے کہ اس اضافے کا اثر یکم اپریل سے واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
وزیر موصوف کے مطابق ہوائی ایندھن کی قیمتیں ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو طے کی جاتی ہیں، اس لیے موجودہ عالمی حالات کے سبب اگلے مہینے سے فضائی کرایوں میں اضافہ ممکن ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت اس معاملے پر مختلف وزارتوں اور ایئرلائن کمپنیوں کے ساتھ مسلسل مشاورت کر رہی ہے تاکہ مسافروں پر کم سے کم بوجھ پڑے۔
ماہرین کے مطابق اے ٹی ایف کسی بھی ایئرلائن کے آپریٹنگ اخراجات کا تقریباً 35 سے 45 فیصد حصہ ہوتا ہے، اس لیے تیل کی قیمتوں میں معمولی اضافہ بھی براہِ راست ٹکٹ قیمتوں کو متاثر کرتا ہے۔
دریں اثنا، مغربی ایشیا کی کشیدہ صورتحال کے باعث کئی پروازوں کو متبادل طویل راستوں سے گزارا جا رہا ہے، جس سے ایندھن کی کھپت اور اخراجات مزید بڑھ گئے ہیں۔ بعض ہندوستانی ایئرلائنز پہلے ہی ایندھن سرچارج عائد کر چکی ہیں، جس کے نتیجے میں مسافروں کے لیے سفر مہنگا ہو رہا ہے۔
عالمی سطح پر بھی یہی رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے، جہاں جنگ کے سبب جیٹ فیول کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور متعدد ایئرلائنز کرایوں میں اضافہ یا پروازوں میں کمی پر غور کر رہی ہیں۔
حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ملک میں ایندھن کی سپلائی مستحکم ہے اور ریفائنریز پوری صلاحیت کے ساتھ کام کر رہی ہیں، تاہم موجودہ عالمی حالات کے پیش نظر فضائی سفر مہنگا ہونے کا امکان برقرار ہے۔
مغربی ایشیا کی جنگ نے عالمی توانائی منڈی کو متاثر کیا ہے، جس ا براہِ راست اثر ہوائی ایندھن اور فضائی کرایوں پر پڑ رہا ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ مسافروں کو فوری جھٹکا نہ لگے، لیکن آئندہ دنوں میں ٹکٹ مہنگے ہونے کے آثار واضح ہیں۔