یوپی میں اشتعال انگیز بیان پر AIMIM کے 3 رہنما گرفتار، حاجی شوکت علی کی تلاش تیز

میرٹھ کی عید ملن تقریب میں دیے گئے بیان پر مقدمہ درج، پولیس کی چھاپہ مار کارروائیاں جاری

لکھنؤ/میرٹھ: اتر پردیش میں پولیس نے ایک متنازع اور مبینہ طور پر اشتعال انگیز بیان کے معاملے میں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) کے تین سینئر رہنماؤں کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ پارٹی کے ریاستی صدر حاجی شوکت علی کی گرفتاری کے لیے تلاش تیز کر دی گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق، یہ معاملہ 23 مارچ کو میرٹھ میں منعقدہ ایک عید ملن تقریب سے متعلق ہے، جہاں خطاب کے دوران حاجی شوکت علی کی جانب سے دیا گیا بیان سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا۔ پولیس کے مطابق مذکورہ بیان کو امن و امان کے لیے خطرہ اور اشتعال انگیزی پر مبنی قرار دیا گیا ہے۔

واقعے کے بعد مقامی تھانے میں مقدمہ درج کر کے فوری کارروائی شروع کی گئی۔ پولیس نے چھاپہ مار کارروائی کرتے ہوئے پارٹی کے مغربی اتر پردیش کے صدر مہتاب چوہان، شہر صدر عمران انصاری اور ایک دیگر عہدیدار کو گرفتار کر لیا۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مرکزی ملزم حاجی شوکت علی تاحال فرار ہیں اور ان کی گرفتاری کے لیے مختلف اضلاع میں مسلسل چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

ادھر اس معاملے نے سیاسی حلقوں میں بھی ہلچل پیدا کر دی ہے، جہاں مختلف جماعتوں کی جانب سے اس بیان پر سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ پولیس نے واضح کیا ہے کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی جاری رہے گی۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔