مدارس امت مسلمہ کے لئے شعائردین کی حیثیت رکھتے ہیں اگر یہ مدارس قائم نہ ہوں تو اشاعت دین کے دروازے مسدود ہوجائیں گے اور امت کا رشتہ اسلام اور تعلیم سے کمزور پڑ جائے گا ،اس لئے ان مدارس کی حفاظت وصیانت کی ذمہ داری امت مسلمہ پر ہے کہ اسے ہر جہت سے ترقی بہم پہوچانے کی جد جہد کرتے رہیںچونکہ ہندوستان کے دینی مدارس کا نیا تعلیمی سال شوال سے شروع ہوجاتا ہے جس کےلئے بچے اپنے وطن سے دور دراز کے مدارس میں داخلہ کے لئے رخت سفر باندھتے ہیں، ملک کے موجودہ حالات میں چھوٹے بچوں کے لئے دوسری ریاستوں کے دور دراز علاقوں میں ابتدائی دینی تعلیم کے لئے جانا مناسب معلوم نہیں ہوتا ہے اس لئے بہتر ہے کہ ابتدائی تعلیم کے لئے چھوٹے بچے اپنی ریاست اور علاقائی مدارس میں تعلیم حاصل کرنے کو ترجیح دیں تاکہ سفر کی صعوبت اورناخوشگوار واقعات کے پیش آنے سے محفوظ ومامون رہیں ،اس سلسلےمیں بچوں کے گارجین حضرات خاص توجہ دیں ، ریاست میں بھی بہت سے معیاری تعلیمی ادارے قائم ہیں جہاں عمدہ تعلیم کے ساتھ نظم ونسق کی بھی بہتر سہولت ہے طلبہ عزیز ان اداروں سے فائدہ اٹھائیں،البتہ جو بچے اعلیٰ تعلیم کے لئے بڑی درسگاہوں میں جانے کا پروگرام بنارہے ہیں وہ نہایت ہی احتیاط اور ہوشمندی کے ساتھ سفر کریں اوراحتیاطی طور پر ضروری کاغذات ودستاویزات اپنےساتھ رکھیں ان خیالات کا اظہار ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ وجھارکھنڈ مولانا مفتی محمد سعیدالرحمن قاسمی نے ایک اخباری بیان میں کیا ،انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے دینی مدارس کے خلاف کچھ شرپسند نازیبا کلمات زبان سے نکالتے ہیں اور وہ طلبہ کو اکساتے ہیں تاکہ وہ مشتعل ہوجائیں ہماری ذمہ داری ہے کہ اس وقت ہم اشتعال انگیزی سے گریز کریں ، چاق وچوبند ہوکر سفر کریں ،ملکی قانون کے احترام کے ساتھ اپنا عالمانہ وقار قائم رکھیں ،راستہ میں نہ کسی سے الجھیں اور نہ ہی بحث ومباحثہ کریں ،ساتھ ہی سفر میں ادعیہ مسنونہ کاورد کرتے رہیں،زبان پر ذکر ہو اوردل میں خوف خداہوبہتر یہ ہے کہ چند ساتھیوں کی جماعت بناکر سفر کریں اور اپنے ساتھ ضروری دستاویزات رکھیں تاکہ بوقت ضرورت اسکو ثبوت کے طور پر پیش کرسکیں ،دعاء کرتاہوں کہ اللہ تعالی آپ کے سفر کو آسان فرمائے اور امن وعافیت کے ساتھ منزل تک پہونچائے۔
ناظم صاحب نےمزید کہا کہ ریاست کے مدارس کی منتظمہ کمیٹی صدر وسکریٹری اور اساتذہ کرام بھی اپنے مدرسوں کے نظام تعلیم وتربیت کو بہتر اور پرکشش بنانے پر توجہ دیں، تعلیم کے لئے ماحول سازی پر بھی خاص نگاہ رکھیں اوربہتر قیام وطعام کی بھی سہولیات فراہم کرنے کی کوشش کریں، اگر ہمارے مدارس کے ذمہ دار اصحاب اپنے مدارس کے تعلیمی معیار کو بلند کریں گے تو ہمارے بچے بیرون ریاست کا رخ نہیں کریں گے ۔