جمعیۃ علماء ہند کا مولانا بدرالدین اجمل کو شوکاز نوٹس، فیصلہ تنازع کا شکار

نئی دہلی / گوہاٹی:

جمعیت علماء ہند (محمود مدنی گروپ) کی جانب سے آسام کے معروف مذہبی و سیاسی رہنما مولانا بدرالدین اجمل کو شوکاز نوٹس جاری کیے جانے کے بعد سیاسی و ملی حلقوں میں بحث نے شدت اختیار کر لی ہے۔ اجمل، جو آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ کے بانی اور آسام میں جمعیۃ کے صدر بھی ہیں، پر یہ اعتراض کیا گیا ہے کہ انہوں نے اسدالدین اویسی کی جانب سے ملنے والی سیاسی حمایت قبول کی اور ان کے ساتھ انتخابی جلسوں میں شریک ہوئے۔

جمعیۃ کے اس اقدام کو کچھ حلقوں نے اصولی موقف قرار دیا ہے، تاہم دیگر اسے “دوہرا معیار” قرار دیتے ہوئے انتخابی حکمت عملی کا حصہ بتا رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر اویسی کی حمایت کو فرقہ پرستی سے تعبیر کیا جا رہا ہے تو پھر دیگر سیاسی جماعتوں، خصوصاً انڈین نیشنل کانگریس کے ساتھ روابط پر اسی نوعیت کی سختی کیوں نہیں دکھائی جاتی۔

اسی تناظر میں یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ جمعیۃ سے وابستہ بعض دیگر شخصیات، جو کھلے طور پر آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین سے قربت رکھتی ہیں، ان کے خلاف کوئی کارروائی کیوں نہیں کی گئی۔ مبصرین کے مطابق اس طرزِ عمل نے تنظیم کے اندر پالیسی کے تضاد اور یکسانیت کے فقدان پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

ادھر آسام کی موجودہ سیاسی صورتحال کے پیش نظر اس معاملے کو غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔ ریاست کے مسلمان ووٹر پہلے ہی شہریت، شناخت اور “ڈی ووٹر” جیسے حساس مسائل سے دوچار ہیں، ایسے میں داخلی اختلافات اور متضاد بیانات سے عوام میں کنفیوژن پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ تنازع محض نظری اختلاف تک محدود نہیں بلکہ آنے والے انتخابی منظرنامے سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ 9 اپریل کو ووٹنگ کے تناظر میں اس پیش رفت نے آسام کی سیاست میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے، جس کے اثرات انتخابی نتائج پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

ملی و سماجی حلقوں نے اپیل کی ہے کہ حالات کی نزاکت کو مدنظر رکھتے ہوئے ذمہ دارانہ طرزِ عمل اختیار کیا جائے اور عوام کو الجھن میں ڈالنے کے بجائے واضح اور متوازن رہنمائی فراہم کی جائے۔

واضح رہے کہ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین اور اجمل کی جماعت کے درمیان کسی باضابطہ انتخابی اتحاد یا مشترکہ طور پر الیکشن لڑنے کا اعلان نہیں ہوا ہے، بلکہ اسدالدین اویسی مختلف عوامی اجتماعات میں شرکت کر کے محض اجمل کے حق میں ووٹروں سے اپیل کر رہے ہیں۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔