از:- محمد اویس سنبھلی
معصوم مرادآبادی ہمارے عہد کے ایک بیدارمغز اور باشعور قلم کار ہیں۔ وہ جہاں ایک طرف تازہ ترین موضوعات پربصیرت افروز تحریریں قلم بند کرتے ہیں تو وہیں اپنے قارئین کی ضیافت طبع کے لیے ایسے موضوعات پرکتابیں بھی تصنیف کرتے رہتے ہیں، جن پر لوگوں نے کم ہی توجہ دی ہے۔ ان کی اب تک دودرجن سے زیادہ کتابیں شائع ہوکر مقبول عام ہوچکی ہیں، لیکن’قائد ملت ڈاکٹر عبدالجلیل فریدی‘پر حال ہی میں شائع ہونے والی ان کی کتاب کو جو مقبولیت حاصل ہورہی ہے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ کتاب اردو کی بیسٹ سیلنگ کتابوں میں اپنا نام درج کرائے گی۔
”ڈاکٹر عبدالجلیل فریدی: قائد ملت، مسیحائے قوم“کے عنوان سے شائع ہونے والی معصوم مرادآبادی کی یہ کتاب صحیح معنوں میں ایک عہد کی بازیافت ہے۔ایک ایسا عہد جو تاریخ کے دھندلکوں میں کہیں کھو سا گیا تھا۔ اس تصنیف کے ذریعے انہوں نے نہ صرف ایک عظیم شخصیت کو خراجِ عقیدت پیش کیا ہے بلکہ ایک فکری، سیاسی اور ملی روایت کو بھی ازسرِ نو زندہ کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ اس کتاب کی سب سے بڑی خوبی یہی ہے کہ یہ محض معلومات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک شعوری اور فکری مداخلت ہے، جو قاری کو اپنے ماضی سے جوڑتی اور حال کو سمجھنے کا زاویہ عطا کرتی ہے۔
قائدِ ملت ڈاکٹر عبدالجلیل فریدی (م۔1974) یوں تو پیشے کے اعتبار سے وہ ایک انتہائی کامیاب معالج تھے، مگر ان کی اصل پہچان سیاست کے میدان میں قائم ہوئی۔ 1952 سے 1964 تک اترپردیش قانون ساز کونسل کے رکن رہتے ہوئے انہوں نے نہ صرف سیاسی بصیرت اور دوراندیشی کا مظاہرہ کیا بلکہ اصولی سیاست کی ایک مثال بھی قائم کی۔ 1964 میں آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے قیام میں ان کا کردار کلیدی رہا اور 1968 میں آل انڈیا مسلم مجلس کے قیام کے ذریعے انہوں نے مسلمانوں میں سیاسی بیداری کی ایک نئی روح پھونکی۔
ڈاکٹر فریدی کی زندگی کا ایک اہم پہلو ان کی تنظیمی صلاحیت اور اتحاد کی فکر تھی۔ 1964 میں بہار، بنگال اور اڑیسہ میں رونما ہونے والے بھیانک مسلم کش فسادات نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔ یہ محض فسادات نہیں بلکہ ایک ایسی آزمائش تھی جس نے ملت کی اجتماعی قوت، بصیرت اور قیادت،سب کو کسوٹی پر لا کھڑا کیا۔ ایسے نازک وقت میں ڈاکٹر سید محمود نے ایک ایسے متحدہ مسلم پلیٹ فارم کا تصور پیش کیا، جو بکھری ہوئی آوازوں کو یکجا کرکے ایک مضبوط اور باوقار نمائندگی میں ڈھال سکے۔ اس خیال کو عملی صورت دینے میں مولانا علی میاں ندوی، مولانا محمد منظور نعمانی اور محمد مسلم جیسے مخلص رہنما پیش پیش تھے۔چنانچہ 9 اگست 1964 کو’مسلم مجلسِ مشاورت‘کی صورت میں ایک متحدہ پلیٹ فارم وجود میں آیا۔
مسلم مجلس مشاورت کو شمالی ہند میں سرگرم کرنے کی ذمہ داری جب ڈاکٹر عبدالجلیل فریدی کے سپرد کی گئی تو گویا ایک عقابی روح اس تحریک میں سرایت کر گئی۔ فریدی صاحب کی مقناطیسی شخصیت، تنظیمی صلاحیت اور بے مثال خلوص نے بہت کم عرصے میں مشاورت کو ایک کامیاب تحریک میں بدل دیا۔ یوپی سمیت شمالی ہند کے طول و عرض میں تنظیمی ڈھانچے قائم ہوئے، کارکنوں کی ٹیمیں تیار ہوئیں اور ایک ایسی فضا پیدا ہوئی جس نے خلافت تحریک کی یاد تازہ کر دی۔ اتحاد، بیداری اور امید کی ایک نئی لہر محسوس ہونے لگی،جیسے بکھری ہوئی کرنیں ایک بار پھر ایک مرکز پر مجتمع ہو رہی ہوں۔
بلاشبہ تاریخ کے کچھ ابواب بڑے مختصر مگر معنی خیز ہوتے ہیں۔ مشاورت کا سفر بھی کچھ ایسا ہی رہا۔ ابتدا نہایت شاندار تھی، مگر یہ قافلہ زیادہ دیر اپنی رفتار برقرار نہ رکھ سکا۔ داخلی اختلافات، وقتی مصالح اور حالات کی نزاکت نے اس کی اجتماعی شان کو متاثر کیا۔یوں 1968 تک آتے آتے مسلم مجلسِ مشاورت کا یہ تجربہ اختتام کو پہنچا، لیکن یہ اختتام دراصل ایک نئی ابتدا کا پیش خیمہ تھا۔ اسی تسلسل میں ’مسلم مجلس‘کی بنیاد رکھی گئی، جس کے ذریعے ڈاکٹر فریدی نے اپنی جدوجہد کو ایک نئے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کی۔
معصوم مرادآبادی اس مرحلے کی معنویت کو نہایت بصیرت کے ساتھ یوں بیان کرتے ہیں کہ ڈاکٹر فریدی کی سیاسی جدوجہد کئی منزلوں سے عبارت ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ مسلم مجلسِ مشاورت اور مسلم مجلس کی بنیادگزاری کے علاوہ لکھنؤ سے اردو روزنامہ ”قائد“ کا اجرا بھی ان کا ایک کارنامہ تھا۔ مزید یہ کہ ڈاکٹر فریدی نے اپنی مساعیِ جمیلہ سے کئی اہم قومی و ملی مطالبات کو نہ صرف اٹھایا بلکہ انہیں ایک منظم تحریک کی صورت بھی دی۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کی بحالی، اردو کے آئینی حقوق کی جدوجہد، فساد شکن فورس کے قیام کا تصور، اقلیتی کمیشن کی تشکیل اور اردو یونیورسٹی کے قیام جیسے مطالبات دراصل ان کی دوراندیشی اور ملی شعور کا مظہر تھے۔ یہ محض نعروں کی سیاست نہیں تھی بلکہ ایک سنجیدہ، منظم اور نتیجہ خیز جدوجہد تھی—اور یہی ان کی سیاست کا امتیاز تھا۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ان میں سے کئی مطالبات بعد کے ادوار میں تسلیم کیے گئے۔ آج حیدرآباد کی مولانا آزاد یونیورسٹی، اقلیتی کمیشن کا وجود اور فساد شکن فورس جیسے اقدامات کی عملی شکلیں دراصل اسی فکر اور جدوجہد کی گونج ہیں، جس کی بنیاد ڈاکٹر فریدی نے اپنے عہد میں رکھی تھی۔یوں دیکھا جائے تو ڈاکٹر عبدالجلیل فریدی کی سیاسی زندگی محض چند تنظیموں کے قیام تک محدود نہیں تھی، بلکہ وہ ایک ہمہ جہت جدوجہد کا نام تھی۔ ان کی شخصیت اس حقیقت کی روشن مثال ہے کہ سچی قیادت وہی ہوتی ہے جو حالات کے جبر میں بھی امید کے چراغ روشن رکھے اور بکھری ہوئی قوم کو ایک سمت عطا کرے۔
کتاب کا دیباچہ ڈاکٹر ظفر الاسلام خاں نے تحریر کیا ہے، جس میں انہوں نے بجا طور پر اس کتاب کو ایک اہم اور دیرینہ کمی کی تکمیل قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق یہ تصنیف نہ صرف ڈاکٹر فریدی کو خراجِ عقیدت ہے بلکہ ان کے بارے میں منتشر مواد کو یکجا کرنے کی ایک سنجیدہ اور کامیاب کوشش بھی ہے۔ معصوم مرادآبادی خود بھی اعتراف کرتے ہیں کہ ڈاکٹر فریدی جیسے قدآور رہنما پر منظم اور جامع کام کا فقدان تھا، اور یہ کتاب اسی خلا کو پر کرنے کی ایک کاوش ہے۔
اس کتاب کی ایک نمایاں خوبی یہ ہے کہ اس میں اپنے عہد کے جید اہلِ قلم اور دانشوروں کی تحریریں شامل کی گئی ہیں۔ جن میں مولانا ابوالحسن علی ندوی، مفتی عتیق الرحمن عثمانی، رشید احمد صدیقی، قاضی عدیل عباسی، صباح الدین عبدالرحمن، غلام سرور، حکیم عبدالقوی دریابادی، ڈاکٹر آصف قدوائی، جمیل مہدی، مولانا عتیق الرحمن سنبھلی، محمد ادیب، پروفیسر اخترالواسع، ظفریاب جیلانی، اختر بستوی، چھیدی لال ساتھی، جاوید حبیب، محفوظ الرحمن، مسعود الحسن عثمانی، حسین امین، معصوم مرادآبادی، غزالی خاں اور سہیل انجم جیسے ممتازصاحب قلم شامل ہیں۔ کتاب میں شامل تمام تحریریں ڈاکٹر فریدی کی شخصیت کو مختلف زاویوں سے اجاگر کرتی ہیں۔ یہ محض تعریفی مضامین نہیں ہیں بلکہ ایک فکری مکالمہ بھی ہیں، جن کے ذریعے قاری کو اس عہد کی ذہنی، سیاسی اور سماجی فضا کا اندازہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر فریدی کے بیش قیمت خطبات، خطوط اور اخباری اداریے بھی شامل کیے گئے ہیں، جو نہ صرف ان کی فکر کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں بلکہ اس دور کی سیاسی پیچیدگیوں کو بھی واضح کرتے ہیں۔ڈاکٹر فریدی کے خطبات خاص طور پر اس لیے توجہ کے مستحق ہیں کہ ان میں ایک طرف سیاسی بصیرت کی گہرائی ہے تو دوسری طرف ایک دردمند دل کی دھڑکن بھی سنائی دیتی ہے۔ وہ نہ صرف مسائل کی نشاندہی کرتے ہیں بلکہ ان کے حل کے لیے عملی تجاویز بھی پیش کرتے ہیں۔ ان خطبات میں صاف گوئی، جرأت اور فکری دیانت کا وہ رنگ ملتا ہے جو آج کی سیاست میں کم ہی دکھائی دیتا ہے۔
معصوم مرادآبادی کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے اس سارے مواد کو محنت سے محض جمع نہیں کیا بلکہ اسے ایک مربوط اور بامعنی بیانیے میں ڈھال دیا ہے۔ ان کا اسلوب نہایت شگفتہ، رواں اور اثرانگیز ہے، جس میں تحقیق کی سنجیدگی بھی ہے اور بیان کی دلکشی بھی۔ وہ قاری کو بوجھل نہیں ہونے دیتے بلکہ اسے اپنے ساتھ لے کر چلتے ہیں۔ یہی خوبی اس کتاب کو محض ایک تحقیقی کام کی بجائے ایک دلنشین مطالعہ بنا دیتی ہے۔
”ڈاکٹر عبدالجلیل فریدی: قائد ملت، مسیحائے قوم“ دراصل ہماری قومی شعوری وراثت کی بازیافت ہے—ایک ایسی وراثت جو اگر نظرانداز کر دی جائے تو آنے والی نسلیں اپنی فکری جڑوں سے کٹ سکتی ہیں۔یہ قاری کو صرف ماضی کی سیر نہیں کراتی بلکہ حال پر غور کرنے اور مستقبل کے لیے سمت متعین کرنے پر بھی آمادہ کرتی ہے۔ اس میں شامل مواد ایک آئینہ ہے جس میں ہم اپنی اجتماعی کمزوریوں اور امکانات دونوں کو ایک ساتھ دیکھ سکتے ہیں۔ یہی کسی بڑی اور بامقصد تصنیف کی پہچان ہوتی ہے۔
ڈاکٹر فریدی کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اصولی سیاست، فکری دیانت اور اجتماعی ذمہ داری محض خوبصورت الفاظ نہیں بلکہ عملی زندگی کے تقاضے ہیں۔ ان کی جدوجہد اس بات کی گواہی ہے کہ مشکل ترین حالات میں بھی اگر نیت صاف اور ارادہ مضبوط ہو تو تبدیلی کی راہیں ہموار کی جا سکتی ہیں۔
مجموعی طورپر ’ڈاکٹر عبدالجلیل فریدی: قائد ملت، مسیحائے قوم‘ نہ صرف ڈاکٹر فریدی کی جدوجہد، فکر اور کردار کو ایک بامعنی خراجِ عقیدت ہے بلکہ معصوم مرادآبادی کی علمی بصیرت،محنت، لگن، جستجو اور ادبی مہارت کا بھی ایک درخشاں نمونہ ہے۔ انتہائی خوبصورت انداز میں شائع کی گئی یہ چار سو صفحات کی یہ کتاب ایک طرف ماضی کی روشنی کو محفوظ کرتی ہے اور دوسری طرف حال و مستقبل کے لیے فکری رہنمائی فراہم کرتی ہے—اور یہی اس کتاب کا سب سے بڑا امتیاز ہے۔