بنگال میں ووٹر لسٹ کی جانچ: ہندو اور مسلم ووٹروں کے نام حذف ہونے کا تناسب کیا ہے؟

مغربی بنگال میں انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی (SIR) کے بعد بڑی تعداد میں ووٹروں کے نام حذف کیے گئے ہیں۔ اس عمل کے حوالے سے ایک تفصیلی تجزیہ سامنے آیا ہے، جس میں حذف کیے گئے ووٹروں کی مذہبی بنیاد پر تقسیم بھی بتائی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، جن ووٹروں کے نام فہرست سے نکالے گئے، ان میں تقریباً 63 فیصد ہندو اور 34 فیصد مسلمان شامل ہیں۔ باقی چند فیصد دیگر طبقات سے تعلق رکھتے ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ مجموعی تعداد میں ہندو ووٹروں کے نام زیادہ حذف ہوئے، لیکن بعض علاقوں میں مسلمانوں کی نسبت زیادہ متاثر ہونے کی بات بھی سامنے آئی ہے۔

مزید تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ:

  • کئی مسلم اکثریتی علاقوں میں بڑی تعداد میں ووٹر لسٹ سے نام ہٹائے گئے۔
  • بعض حلقوں میں مسلمانوں کی حذف شدہ تعداد ان کی آبادی کے تناسب سے زیادہ بتائی گئی ہے۔
  • اس عمل نے سیاسی سطح پر تنازع پیدا کر دیا ہے اور مختلف پارٹیاں اس پر سوال اٹھا رہی ہیں۔

الیکشن کمیشن کا موقف یہ ہے کہ یہ کارروائی ووٹر لسٹ کو درست کرنے کے لیے کی گئی ہے، جس میں مردہ، نقل مکانی کرنے والے یا فرضی ووٹروں کے نام ہٹائے گئے۔

لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ:

اس عمل میں شفافیت کی کمی ہے اور کچھ مخصوص طبقات کو زیادہ متاثر کیا گیا ہے۔ اسی وجہ سے یہ معاملہ اب مغربی بنگال کی سیاست کا ایک بڑا موضوع بن چکا ہے۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔