از :مفتی محمد خالد حسین نیموی قاسمی
صدر جمعیت علماء بیگوسرائے بہار
ورکن الاتحاد العالمی لعلماء المسلمین
بہار کی سرزمین سے رونما ہونے والے وہ آفتاب و ماہتاب جنہوں نے علم و عرفان کی روشنی سے ایک جہاں کو منور کیا؛ ان میں ایک نمایاں نام جامع العلوم و الفنون حضرت مولانا ابو خالد سید عبد الاحد قاسمی نوراللہ مرقدہ کا بھی ہے.
بیگو سرائے میں علم کے معمار حضرت مولانا محمد ادریس نیموی رحمۃ اللہ علیہ کے سلسلے میں جب اس عاجز کا مضمون ہفت روزہ "نقیب” پھلواری شریف پٹنہ اور دیگر اخبارات میں شائع ہوا، تو اس مضمون کا مطالعہ فرمانے کے بعد میرے ماموں وخسر محترم مشفقِ ملت حضرت مولانا محمد شفیق عالم قاسمی نور اللہ مرقدہ نے اس عاجز کو طلب فرمایا. مضمون پر خوشی کا اظہار کیا، ڈھیر ساری دعاؤں سے نوازا اور بڑی محبت سے کہنے لگے عزیزم! جو قرض ہم شاگردوں پر استاذ الاساتذہ کے تعلق سے تھا! تم نے ان کی وفات کے اڑتیس سال گذرنے کے بعد ہم سب کی طرف سے اس قرض کو ادا کیا ہے. اب میری خواہش ہے کہ تمہارا اگلا مفصل مضمون حضرت مولانا ادریس صاحب کے یارِ غار، رفیقِ درس، ماہر علوم وفنون حضرت مولانا سید عبد الاحد قاسمی رحمۃ اللہ علیہ کے سلسلے میں آنا چاہیے. حضرت عظیم شخصیت کے مالک ہیں، مجھے حضرت مولانا سید عبد الاحد سے بڑی عقیدت ومحبت ہے؛ میں نے اسی عقیدت کے تحت حضرت مولانا کو جامعہ رشیدیہ جامع مسجد بیگوسرائے کے باضابطہ افتتاح کے لیے 1977 یہاں مدعو کیا تھا اور انہیں کی دعاء سے جامعہ رشیدیہ کی شروعات ہوئی تھی.
بندہ نے عرض کیا انشاءاللہ حضرت! اس دوسرے قرض کو ادا کرنے کی یہ عاجز بھر پور کوشش کرے گا. اُسی وقت سے بندہ حضرت مولانا کے سلسلے میں ایک مفصل مضمون لکھنے کے لیے پرعزم رہا؛ لیکن حضرت مشفق ملت کے اس منشا کی تکمیل ان کی حیات میں نہیں کر سکا! بڑی مسرت ہو رہی ہے کہ حضرت کی وفات کے بعد ہی سہی؛ لیکن بیگوسرائے کے ایک عظیم شخصیت ماہرِ علومِ عربیہ جامع العلوم و الفنون اردو اور عربی کے بہترین انشاء پرداز ومصنف حضرت مولانا سید عبدالاحد رحمۃ اللہ علیہ سے متعلق مفصل مضمون سپرد قلم کر نے کی سعادت حاصل ہو رہی ہے۔
حضرت مولانا سید عبد الاحد قاسمی ،ولد جناب میر امام الدین موضع کی ولادت بلیا کے اطراف میں واقع مشہور بستی ” قصبہ” ضلع بیگو سرائے کے ایک علمی گھرانے میں مورخہ یکم مئی 1920 عیسوی(پاسپورٹ میں درج شدہ تاریخ پیدائش کے مطابق) میں ہوئی ، سادات خانوادے سے تعلق تھا، ابتدائی تعلیم آپ نے مقامی علماء واساتذہ سے اور متوسطات کی تعلیم مدرسہ جامعہ عربیہ ڈھاکہ میں حاصل کی. دارالعلوم دیوبند کے محافظ خانہ سے حاصل شدہ ریکارڈ کے مطابق آپ نے 1355 ہجری میں اٹھارہ سال کی عمر میں ازہر ہند دارالعلوم دیوبند میں داخلہ لیا. اور شعبان 1357 ہجری میں دورۂ حدیث سے فراغت حاصل کی. صحیح بخاری اور سنن ترمذی کا درس حضرت شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی سے حاصل کیا – جب کہ سنن ابن ماجہ اور شمائل ترمذی کا درس شیخ الادب حضرت مولانا اعزاز علی امروہوی سے حاصل کیا. صحیح مسلم کا درس حضرت علامہ محمد ابراہیم بلیاوی سے حاصل کیا. ۔ حضرت شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی سے بیعت وارشاد کا بھی تعلق تھا. جب کہ خصوصی ادبی وعلمی مناسبت حضرت شیخ الادب سے تھی.
فن ادب عربی، بلاغت ، فقہ ومنطق وغیرہ میں متعدد قیمتی تحریری نقوش چھوڑے.
خدمات میں سب سے ممتاز تالیف” العلالۃ الناجعة” ہے، جو اصول حدیث پر حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی کی فارسی تصنیف ” العجالة النافعة” کی تعریب و ترجمہ ہے۔ آپ نے فارسی کتاب کے بے مثال عربی ترجمہ کے ساتھ شستہ ورواں اردو تر جمہ بھی کیا ہے جو العلالۃ الناجحہ کے حاشیہ پر شائع ہوا ہے.
یہ کتاب اپنی فصاحت وبلاغت اور شستہ و سلیس عربی انداز تحریر کی وجہ سے طالب علم کو اصل کتاب سے بے نیاز کر دیتی ہے۔
اپنے استاذ شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی کی بے پناہ عقیدت کے مدنظر انہوں نے اس کتاب کا انتساب انہیں کی طرف کی۔
لکھتے ہیں :
إلى ذكرى الأستاذ الأكبر شيخ الإسلام
مولانا السيد حُسَيْن احمد المدنی،
لازالت شآبيب الرحمة والبركات منهلة ومنسجمة ، وسحائب العناية والكرامة ممطرة ومستديمة على قبره المحفوف بالبررة الكرام .أهدى هذا الكتاب.
کتاب کی بہترین تعریب پر وقت کے اکابر، علماء ومحدثین نے بھی بے حد تحسین و خاص تعریف فرمائی ہے۔
مثلاً محدث عصر حضرت علامہ محمد یوسف بنوری نے اس کتاب پر اظہار خیال کرتے ہوئے فرمایا :
فقام صديقنا العالم المخلص الأستاذ الشيخ السيد عبد الأحد القاسمي وترجمها إلى اللغة العربية الفصحى ترجمة واضحة لا تعقيد فيها ولا إغلاق ، راعى فيها لفظ الأصل واحتفظ به مهما أمكن ليكون أقرب التعبير إلى المترجم، فجعل نفعها عاما يستفيد منها إذن كل عالم في البلاد،
ترجمہ :ہمارے دوست مخلص عالم دین ماہر فن حضرت مولانا سید عبد الاحد قاسمی اس کی تعریب کے لیے تیار ہوئے اور فصیح عربی زبان میں اس کی تعریب کی. عربی ترجمہ اتنا واضح ہے کہ نہ اس میں کوئی تعقید ہے اور نہ مطلب سمجھنے میں کوئی دشواری ہوسکتی ہے. مولانا نے اصل فارسی عبارت کا بڑا خیال رکھا اور مصنف کتاب حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی کے منشا کو عربی عبارت میں خوبصورتی کے ساتھ پرودیا. اب اس کا نفع انشاءاللہ عام ہوگا اور عرب وعجم کے علماء اس سے یکساں طور پر مستفید ہوں گے.”
عربی انشا پردازی میں براعت وکمال کی صفت آپ کے اندر آپ کے استاذ شیخ الادب حضرت مولانا اعزاز علی امروہوی سے منتقل ہوئی تھی ۔ حضرت شیخ مدنی کی طرح اپنے استاذ شیخ الادب سے بھی بڑی عقیدت تھی اور کے سوانحی نقوش پر مشتمل آپ نے حیات اعزاز” کے نام سے مختصر کتاب بھی تحریر کی جو سن 1955 میں ڈھا کہ قیام کے دوران طبع ہوئی۔
آپ نے حدیث، اصول حدیث، تفسير اصول تفسیر ودیگر علوم وفنون کی تدریس کے ساتھ ساتھ علمی وتحقیقی حلقوں میں نمایاں خدمات انجام دیں، آپ دارالعلوم حمادیہ ڈھاکہ بنگلہ دیش کے کئی سال شیخ الحدیث و ناظم رہے، اسی طرح جامعہ امدادیہ کشور گنج بنگلہ دیش کے صدر المدرسین کے طور پر اعلیٰ خدمات انجام دیتے رہے. اور ڈھاکہ کے علمی حلقوں کو اپنی تدریسی، تالیفی اور حدیثی خدمات سے سیراب کیا۔
جریدہ نقیب پھلواری شریف 19 جون 1995 میں شائع شدہ تعزیتی مضمون سے اندازہ ہوتا ہے کہ شروع میں آپ نے کئی سالوں تک "مدرسہ معینہ سانحہ” اور مدرسہ "مصباح العلوم بردوان” میں بھی تعلیمی تدریسی خدمات انجام دیں. اسی طرح مدرسہ بیت العلوم راجا بازار کلکتہ اور جامعہ اسلامیہ مدنی نگر میں دو دہائیوں تک شیخ الحدیث کے باوقار عہدے پر فائز رہے.
اس کے علاوہ آپ نے ملک پور کلکتہ میں اپنے شیخ حضرت مولانا حسین احمد مدنی کی نسبت سے جامعہ حسینیہ محمودیہ کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا تھا؛ جسے آپ کے صاحبزادگان چلارہے ہیں.
حضرت مولانا سید ولی رحمانی نے آپ کی وفات پر خانقاہ رحمانی میں منعقد تعزیتی نششت میں اظہار خیال کرتے ہوئے فرمایا کہ حضرت مولانا عبد الاحد صاحب علیہ الرحمہ نے طویل عمر پائی تھی. علمی صلاحیت، زہد و تقوی اور سادگی میں علماء سلف کی یاد گار تھے ان کی علمی اور تدریسی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے ۔ان کی علمی و عملی یادگار متعدد تصانیف اہل علم سے خراج تحسین وصول کر چکی ہیں اور مدارس میں داخل درس اور شامل نصاب ہیں. ”
زندگی کے آخری ایام آپ نے اپنے آبائی وطن قصبہ بیگوسرائے میں گزارے،اور یہاں کی علمی وفکری سرگرمیوں میں شریک ہوتے رہے. خاص طور پر قلب شہر میں واقع جامعہ رشیدیہ سے آپ کو خاص لگاؤ تھا. وقتا فوقتاً یہاں آپ کی تشریف آوری ہوتی رہتی تھی.
عاجز راقم السطور نے اپنی طالب علمی کے زمانے آپ کو جامعہ رشیدیہ ہی میں دیکھا تھا۔
علم و عمل، فکر و نظر تدریس تصنیف سے بھرپور زندگی گذارنے کے بعد ۲۲ مئی ۱۹۹۵ء مطابق ۲۰ ذی الحجہ ۱۴۱۵ھ بہ عمر 75 سال آپ کی وفات ہوئی اور آبائی قبرستان میں سپردخاک ہوئے۔
مذکورہ کتابوں کے علاوہ دیگر مختلف علوم وفنون میں بھی آپ نے متعدد کتابیں تصنیف کی ہیں، جن میں بدور الفصاحۃ شرح اردو دروس البلاغۃ،اسباق الفصاحۃ شرح اردو دروس البلاغۃ، المسقات شرح اردو المرقات، علم العروض (ترتیب و تشریح) برائے درجہ فاضل، گوہر اردو مع حل لغات ومعانی) خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں آپ کی یہ تالیفات آج بھی طالب علموں کے لیے مشعل راہ ہیں۔ان میں سے اکثر کتابوں کے متعدد ایڈیشن امدادیہ لائبریری چوک بازار ڈھاکہ اور حمیدیہ لائبریری ڈھاکہ اور قرآن منزل بابو بازار سے شائع ہوچکے ہیں.
آپ کی تصنیف کردہ کتاب "گوہر اردو” مع حل لغات و معانی کے سرورق ورق پر کتاب اور مصنف کے سلسلے میں تعارفی نوٹ درج ہے۔
سر ورق پر لکھا ہے "مدرسہ ایجو کیشن بورڈ بنگلہ دیش ڈھاکہ کے منظور شدہ نصاب تعلیم کے مطابق درجہ عالم اول اور درجہ عالم دوم کے لیے اردو زبان کی آسان اور بیحد مفید کتاب۔
مرتبہ :حضرت مولانا سید محمد عبد الاحد صاحب قاسمی زید مجده سابق صدر مدرس جامعہ امدادیه کشور گنج و سابق ممتحن درجات عالم و فاضل مدارس عربیہ ملحقہ مدرسہ ایجو کیشن بورڈ، ڈھاکہ
اس تعارفی عبارت سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ ایک عرصہ تک مدرسہ ایجوکیشن بورڈ ڈھاکہ سے وابستہ عربی مدارس کے عالم فاضل درجات کے ممتحن کے طور پر بھی خدمات انجام دیتے رہے. نیز آپ نصابی کتابیں بھی تیار کرتے رہے.
آپ کی کتاب "بدور الفصاحۃ” کے سرورق پر شارح کے طور پر جو الفاظ درج ہیں ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ عرف عام میں ادیب واریب کی حیثیت سے شہرت رکھتے تھے۔ علوم ادبیہ عربیہ میں آپ کو ملکہ تامہ حاصل تھا اور یہی آپ کی شناخت تھی. تعارفی عبارت مندرجہ ذیل ہے :
للعالم الأديب والفاضل الاريب ابى خالد السيد عبد الاحد القاسمي المونجيري من فضلاء دار العلوم بدیوبند الناظم الاعلى لدار العلوم الحمادية بداكا سابقاً ، وخادم شعبة التأليف والترجمة للمكتبة الامدادية بداكا آنفا، وصدر المدرسين للجامعة الامدادية بكشور گنج (حالا) بنغلاديش” اس کے علاوہ سرورق پر الطبع الثالث کا جملہ بھی درج ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ اس کتاب کے متعدد ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں. اس تعارفی نوٹ سے اس امر کا بھی اندازہ ہوتا ہے کہ شعبہ ترجمہ و تالیف کے آپ ذمہ دار بھی تھے، قرین قیاس ہے کہ آپ نے ہی اس شعبہ کو قائم کیا ہ۔
خلاصہ یہ ہے کہ آپ کثیر التصنیف عالم دین اور محقق تھے، جامع علوم وفنون تھے. درس نظامی میں شامل بیشتر موضوعات پر آپ نے خامہ فرسائی کی اور طلبہ واساتذہ کے لیے قیمتی سوغات تیار کیا. حضرت کی مطبوعہ وغیرہ مطبوعہ تصنیفات و تالیفات کا خاکہ مندرجہ ذیل ہے :
- (1) سیرت پاک
- (۲) با کورة الادب
- (۳) گوهر اردو
- (٤) قواعداردو
- (٥) بدور الفصاحة شرح دروس البلاغة
- (٦) اسباق الفصاحة شرح دروس البلاغة
- (٧) تعليقات تمرينات الحديقة
- (۸) الوصاف على الكشاف
- (٩) العلالة الناجعة ترجمة العجالة النافعة
- (10) مقدمة قدورى
- (11) مقدمة عين العلم
- (۱۲) مقدمة مرقات
- (۱۳) مقدمة شرح تهذيب
- (۱٤) مقدمة ميزان
- (۱۵) مقدمة شرح جزری
- (۱۶) مقدمة مسلم الثبوت
- (۱۷) علم العروض
- (۱۸) مقدمة سراجی
- (۱۹) مقدمة ديوان حماسه
- (۲۰) مقدمة مستطرف
- (۲۱) تاریخ اسلام از بنی عباسیہ تاقیام پا کستان (غیر مطبوع)
- (۲۲) ترجمة مالا بد منه ( غير مطبوع)
- (۲٣) شرح نور الانوار ( زیر طبع )
- (۲۴) ترجمة مرقات بنام المسقات
- (٢٥) شرح الادب الجديد بنام معلم الادب
- (٢٦) تفهيم المباني ترجمه تسهيل المعانى (۲۷) معراج المنطق (۲٨) ترجمه تلخيص
- المنار (۲٩) تاریخ فلسفہ و منطق ( غير مطبوعہ )
- ٣٠/حیات اعزاز
- ٣١/ترجمہ علم التصوف للسیوطی
- ٣٢/احکام رمضان المبارک
- ٣٣/ہمارے مصنفین (غیر مطبوعہ)
- ٣٤/احکام زکوٰۃ
- ٣٥/مالایسع المفسر جہلہ (غیر مطبوعہ)
ضرورت ہے کہ حضرت کی غیر مطبوعہ کتابوں کو زیور طبع سے آراستہ کیا جائے، شائع شدہ کتابوں کے نئے ایڈیشن جدید انداز منصۂ شہود پر لایا جائے. اور ان کے چھوڑے ہوئے نقوش کو مزید مستحکم اور قائم کردہ اداروں کو فروغ دیا جائے۔
تغمدہ اللہ بکرمہ و غفرانہ وادخلہ فسیح جنانہ. آمین یا رب العالمین