بیجنگ: آبنائے ہرمز میں امریکی بحری ناکہ بندی کے بعد عالمی سطح پر کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے، جبکہ چین نے امریکہ کو سخت الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے میں مداخلت سے باز رہے۔
چینی حکام کے مطابق، امریکہ کی جانب سے ایران سے متعلق سمندری راستوں کی ناکہ بندی نہ صرف خطے میں عدم استحکام کو بڑھا سکتی ہے بلکہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔ چین نے واضح کیا کہ اس کے ایران کے ساتھ توانائی اور تجارتی معاہدے موجود ہیں، اس لیے کسی بھی بیرونی مداخلت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
چینی وزیر دفاع نے دوٹوک انداز میں کہا کہ آبنائے ہرمز چین کے لیے انتہائی اہم ہے کیونکہ اس کے ذریعے بڑی مقدار میں تیل اور گیس درآمد کی جاتی ہے، لہٰذا اس راستے کو بند کرنا عالمی مفادات کے خلاف ہوگا۔
دوسری جانب امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایران کی بندرگاہوں تک آنے جانے والی بحری نقل و حرکت کو روکنے کے لیے ناکہ بندی نافذ کرے گا۔ یہ اقدام ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور ناکام امن مذاکرات کے بعد اٹھایا گیا ہے۔
ادھر اس ناکہ بندی کے اثرات فوری طور پر سامنے آنے لگے ہیں، جہاں بعض تیل بردار جہازوں نے اپنا رخ موڑ لیا جبکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
چین نے اس صورتحال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ مسئلے کا حل فوجی اقدامات نہیں بلکہ سفارتی اور سیاسی بات چیت کے ذریعے نکالا جانا چاہیے، ورنہ اس کے اثرات پوری دنیا پر پڑ سکتے ہیں۔