رقص و سرود بمقابلہ میزائل و ٹیکنالوجی

از:- نقی احمد ندوی

اس جنگ میں ایران اگر ہارتا بھی ہے تو اس کی جیت ہے۔ کئی دہائیوں سے پابندیوں کے باوجود اگر ایران دنیا کے دو سپر پاور امریکہ اور اسراءیل کے چھکے چھڑا سکتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر وہ چاہے تو خلیجی ممالک کو چند دنوں میں برباد کر دے ۔ سوال یہ ہے کہ پابندیوں کے باوجود ایران اتنا طاقت ور کیوں ہے اور خلیجی ممالک اتنے کمزور کیوں؟

اس کو شیعہ سنی کے نظریے سے دیکھنے کے بجائے غیر جانب دارانہ طور پر تجزیہ کرنا امت کے لیے مفید ہے۔ خلیجی ممالک کواپنی ستر سالہ پالیسیوں پر نظرِ ثانی کرنے کی ضرورت ہے، نہ کہ ایران سے دشمنی اور عداوت نکالنے کی حاجت۔ تجزیہ کرنے سے پہلے کچھ ڈیٹا پر نظر ڈال لیں۔

آبادی کے لحاظ سے ایران سعودی عرب سے دوگنا بڑا ہے، مگر رقبے اور وسائل کے اعتبار سے سعودی عرب ایران سے کہیں بڑا ہے۔ سعودی عرب کی جی ڈی پی فی کس تیس ہزار ڈالر ہے اور ایران کی تقریباً چار ہزار چار سو۔ یعنی سعودی عرب ایران سے تقریباً آٹھ گنا زیادہ مالدار ہے۔ ایران کی آبادی بھی بڑی ہے اور دولت بھی کم۔ مزید برآن سالہا سال سے معاشی اور اقتصادی پابندی ۔

دوسری طرف سعودی عرب میں یونیورسٹیوں کی تعداد پچیس سے تیس کے درمیان ہے، جبکہ ایران میں چھ سو سے زیادہ ہے۔ عالمی رینکنگ میں ایران کی تقریباً تیس یونیورسٹیاں آتی ہیں، جبکہ سعودی عرب کی چند۔ سائنسی تحقیق میں ایران سعودی عرب سے اتنا آگے ہے کہ اسے وہاں تک پہنچنے میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں۔ جہاں تک فوجی سازوسامان کی بات ہے تو سعودی عرب زیادہ تر محدود سطح پر ٹینک بناتا ہے، جبکہ ایران ایسے میزائل اور ڈرونز تیار کرتا ہے جنہوں نے حالیہ جنگ کا نقشہ بدل دیا۔

ستر سال سے سخت پابندیوں اور اقتصادی بحران کے باوجود اس ملک نے تعلیم اور ٹیکنالوجی پر توجہ دی، جس کی وجہ سے آج وہ دنیا کے سپر پاور سے مقابلہ کر رہا ہے۔ دوسری طرف خلیجی ممالک اور خاص طور وہ سعودی عرب جس سے تمام مسلمان بے حد محبت کرتے ہیں امریکہ کے سامنے کاسۂ گدائی لیے کھڑا ہے۔ ٹریلین ڈالر کا بزنس اور ہوائی جہاز تحفے میں دینے کے باوجود یہ تمام خلیجی ممالک خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔

سعودی عرب نے گزشتہ آٹھ دس سالوں میں جو اقدامات کیے، ان پر ایک نظر ڈالیں۔ ویزن 2030 جو صرف دولت کمانے کا ایک ویزن ہے۔ اس کے تحت پچاس سے زائد میگا پروجیکٹس شروع کیے گئے، جن میں نیوم، درعیہ اور ریڈ سی وغیرہ شامل ہیں۔ ان پروجیکٹس پر اب تک تقریباً 1.3 ٹریلین ڈالر خرچ ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ پیسہ کمانے کے لیے تفریحی پروگرام بھی شروع کیے گئے، مکہ اور مدینہ کے قریب اور امت کی مقدس سرزمین پر دنیا بھر سے رقاصاوں اور ناچنے والیوں کو بلاکر نچایا گیا اوران کے ساتھ ناچا گیا۔ یہی نہیں یہاں تک کہ شراب کے لائسنس تک دینے کی باتیں ہوئیں۔

فرق ترجیحات کا ہے۔ ایران کا فوکس تعلیم اور ٹیکنالوجی پر تھا اور سعودی عرب کا فوکس دولت کمانے پر۔ دولت اب کام نہیں آ رہی، بلکہ اس کے کم ہونے کا اندیشہ ہے، جبکہ جس ملک نے تعلیم اور ٹیکنالوجی پر توجہ دی، وہ آج مضبوط نظر آتا ہے۔

اہل حدیث کا عقیدہ صحیح ہو سکتا ہے اور شیعہ کا عقیدہ غلط، مگر سلفیت اور وہابیت کی موٹی موٹی کتابیں اور اہل حدیث مقررین کی بے لگام تقریرں میزائل کو روکنے میں ناکام رہی ہیں جس کا مشاہدہ پوری دنیا نے کیا ہے۔

اب وہ دور یاد کیجیے جب اموی اور عباسی ادوار میں اسلام کا جھنڈا پوری دنیا میں بلند تھا اور دنیا کی ساری اقوام امتِ اسلامیہ کو دنیا کا سپر پاور مانتی تھیں۔ اس دور میں مسلمانوں کا فوکس تعلیم اور ٹیکنالوجی پر تھا۔ چنانچہ ابنِ سینا، الفارابی، ابن الہیثم، الرازی، البیرونی، جابر بن حیان اور نصیر الدین طوسی اسی سنہرے دور کی یادگار ہیں۔

کیا وہ ملک جو صرف درآمدات پر، خاص طور پر ہتھیاروں کی درآمد پر ٹکا ہو، اس ملک کا مقابلہ کر سکتا ہے جو خود ہتھیار بناتا ہو؟ کیا لینے والا کبھی دینے والے کے برابر ہو سکتا ہے؟

اس تناظر میں بخوبی کہا جا سکتا ہے کہ دولت کبھی تعلیم کی برابری نہیں کر سکتی، اور عیاشی میں مبتلا قومیں ان قوموں کا مقابلہ نہیں کر سکتیں جو قربانی دیتی ہیں اور غربت کے باوجود تعلیم پر توجہ دیتی ہیں۔ اور اس کا اطلاق انفرادی زندگی پر بھی ہوتا ہے۔
جب آنکھ کھلے، تبھی سویرا ہے۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔