از: شکیل رشید ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز
پہلے تین واقعات سُن لیں:
ہمارے ایک دوست ہیں، ایک اچھے ٹیچر اور سنگر، کبھی وہ ساتھ کام کرتے تھے، ویسے اُن کا چھوٹا بھائی اب بھی ساتھ ہی کام کرتا ہے، اور یہ واقعہ اُسی کی زبانی سُنا ہے ۔ ہوا یہ کہ دوست کے بیٹے نے ماشا اللہ انجنئیرینگ کا امتحان کامیاب کر لیا اور اچھے نمبروں سے کیا ۔ ایک کمپنی میں اُس نے درخواست دی، اُسے بلایا گیا، انٹرویو اُس کا شاندار رہا اور اُسے یہ اشارہ دے دیا گیا کہ وہ منتخب کر لیا گیا ہے ۔ کئی لاکھ کا پیکج تھا، نوجوان انجنئیر خوش تھا ۔ لیکن کئی دن بعد جب اُسے فون آیا کہ وہ نہ آئے، اُسے کام پر نہیں رکھا جائے گا، تو اُس کی خوشی پر اوس پڑ گئی ۔ اُس نے وجہ دریافت کی تو اُس سے کہا گیا کہ اُسے مراٹھی نہیں آتی !
دوسرا واقعہ سنیے : عروس البلاد ممبئی کی شہ رگ کہی جانے والی لوکل ٹرین سے ایک مسلم نوجوان کسی جگہ جانے کے لیے سفر کر رہا تھا، اُس نے ایک شخص سے دریافت کیا ’ بھائی فلاں فلاں اسٹیشن کب آئے گا ‘ تو اُسے جواب ملا ’ مراٹھی میں بات کر تب بتاؤں گا ‘۔
ایک واقعہ اور : ایک سرکاری دفتر میں چند مسلمان، جن میں خواتین بھی تھیں، کوئی سند بنوانے گئیں، لیڈی کلرک نے اُن سے کہا ’ مراٹھی میں پوچھو تو تمہارے سوال کا جواب ملے گا، ورنہ نہیں ‘۔ پھر اُس نے کہا ’ میں مراٹھی بولوں گی تمہیں سمجھ میں آئے یا نہ آئے ‘۔
یہ تین واقعات ایک ایسے مسٗلے کی، جو ہر گزرتے دن کے ساتھ سنگین ہوتا چلا جا رہا ہے، بَس سامنے کی مثالیں ہیں، ورنہ تو اس طرح کے واقعات سیکڑوں کی تعداد میں روزانہ لوگوں کے ساتھ پیش آ رہے ہیں ۔ ابھی ابھی ایک حکمنامہ جاری کیا گیا ہے، کہ آٹو رکشہ چلانے والوں کے لیے مراٹھی زبان کا جاننا لازمی ہے، بصورت دیگر اُن کے پَرمٹ رد کر دیے جائیں گے ۔
کیا کسی ریاست کی زبان نہ جاننے، یا معمولی طور پر جاننے کا جرم اس قدر سنگین ہے کہ روزی روٹی چھین لی جائے ؟ ظاہر ہے کہ اگر اُن آٹو رکشہ چلانے والوں کے، جو مراٹھی نہیں جانتے، پَرمٹ رد کر دیے جائیں گے، تو اُن کی روزی روٹی کے لالے پڑ جائیں گے ۔ اس معاملہ کا افسوس ناک پہلو مراٹھی نہ جاننے والوں کو دانستہ ستانا، اُن کے روزگار پر حملہ بولنا، اور کارپوریٹ سیکٹر سے لے کر چھوٹی بڑی کمپنیوں تک میں گھس گھس کر دباؤ بنانا کہ مراٹھی لازمی کی جائے، اور کسی بھی ایسے شخص کو، جِسے مراٹھی نہیں آتی، ملازمت نہ دی جائے، ہے ۔ اتنا ہی نہیں ہے، عام آدمیوں کو، جِن کی زندگیاں ممبئی اور مہاراشٹر میں بیت گئی ہیں، مراٹھی کے نام پر پریشان کرنے بلکہ اُن کے ساتھ مار پیٹ کرنے کے واقعات میں اضافہ بھی ہو رہا ہے ۔ ٹھیک ہے، کسی ریاست میں رہنے والے کے لیے ضروری ہے کہ وہ اُس ریاست کی زبان جانے، لیکن اگر کسی کو وہ زبان نہیں آتی تو کیا وہ ’ غیر ملکی ‘ ہو گیا ، وہ ’ ہندوستانی ‘ نہیں رہا ؟ سچ تو یہ ہے کہ کوئی شہری چاہے جِس ریاست میں رہے بنیادی طور پَر وہ ہندوستانی ہے، اُسے وہ تمام حقوق حاصل ہیں، جو ایک شہری کو حاصل ہوتے ہیں ۔ لیکن اِس مُلک میں ہر ریاست، اُن ہندوستانی شہریوں کو، جو اُن کے ’ منصوبہ ‘ میں ٹھیک نہیں بیٹھتے ’ غیر ‘ سمجھتی ہے ۔ کیا یہ مُلک کی، مُلک کے آئین کی، یہاں کی جمہوریت کی توہین نہیں ہے ؟ زبان تھوپیے مت، زبان سکھائیے ۔ زبان کو نفرت کے اظہار اور پرچار کا ذریعہ نہ بنائیے، اسے محبت کا ذریعہ بنائیے ۔ ہر ریاست اوّل تو یہ کرے کہ ملک کی قومی زبان ہندی کو، اور جِس شخص کی جو بھی مادری زبان ہو، اُس کی قدر کرے، اور ریاست کی زبان کو محبت سے سِکھانے کی کوشش کرے، زبان کو کسی کی روزی روٹی اور ملازمت ہتھیانے کے لیے آلہ نہ بنائے ۔ افسوس کہ صرف ہندوتوادی ٹولہ ہی نہیں ہر طرح کے سیاست داں بھی یہی کر رہے ہیں ۔ جہاں تک بات ہندوتوادی ٹولے کی ہے تو یہ نعرہ تو اکھنڈ بھارت کا لگاتا ہے، مگر ریاستوں کے نام پر آپسی لڑائیوں اور نفرت کے پرچار میں کچھ ایسا الجھا ہوا ہے، کہ اُسے یہ اندازہ ہی نہیں ہو پا رہا ہے، کہ وہ اکھنڈ بھارت کو زبان اور لسانی تعصب کے نام پر بانٹ رہا ہے ۔