مغربی بنگال حکومت نے ان خواتین کو ریاستی فلاحی اسکیموں سے محروم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جن کے نام خصوصی نظرِ ثانی (SIR) کے دوران ووٹر فہرست سے حذف کر دیے گئے ہیں یا جن کی شہریت مشکوک قرار دی گئی ہے۔ حکومت کے مطابق ایسی خواتین اب “لکشمیر بھنڈار” اور مجوزہ “انّاپورنا بھنڈار” اسکیم سے فائدہ نہیں اٹھا سکیں گی۔
ریاستی وزیر برائے خواتین و اطفال فلاح، اگنی مترا پال نے کہا ہے کہ حکومت امدادی رقوم کی تقسیم سے قبل مستحقین کی مکمل جانچ کرے گی تاکہ صرف اہل افراد کو ہی سرکاری فوائد فراہم کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جن افراد کے نام ووٹر فہرست سے خارج ہو چکے ہیں، انہیں اسکیموں سے بھی الگ کر دیا جائے گا، جبکہ غیر ملکی اور فوت شدہ افراد بھی ان سہولتوں کے حقدار نہیں ہوں گے۔
تاہم حکومت نے یہ وضاحت کی ہے کہ جن لوگوں کی اپیلیں خصوصی نظرِ ثانی ٹریبونلز میں زیرِ سماعت ہیں یا جنہوں نے شہریت ترمیمی قانون (CAA) کے تحت درخواستیں دے رکھی ہیں، ان کے معاملات الگ طریقے سے نمٹائے جائیں گے۔ اس سلسلے میں ابھی تفصیلی رہنما خطوط جاری نہیں کیے گئے۔
واضح رہے کہ “لکشمیر بھنڈار” مغربی بنگال حکومت کی ایک اہم فلاحی اسکیم ہے، جس سے تقریباً دو کروڑ خواتین مستفید ہو رہی ہیں۔ دوسری جانب حکومت جون سے “انّاپورنا بھنڈار” نامی نئی اسکیم شروع کرنے جا رہی ہے، جس کے تحت مستحق خواتین کو ماہانہ تین ہزار روپے دیے جائیں گے۔