بنگلورو: کرناٹک کی کانگریس حکومت نے سابقہ بی جے پی حکومت کی جانب سے 2022 میں نافذ کیے گئے حجاب پابندی کے حکم نامے کو واپس لے لیا ہے۔ ریاستی حکومت کے تازہ فیصلے کے مطابق اب اسکولوں اور پری یونیورسٹی کالجوں میں طلبہ و طالبات کو محدود مذہبی علامات کے استعمال کی اجازت ہوگی۔
حکومت کی نئی ہدایات کے تحت حجاب، پگڑی، جنیو (مقدس دھاگا)، رودرکش اور دیگر مذہبی علامات یونیفارم کے ساتھ پہنی جا سکیں گی، بشرطیکہ اس سے تعلیمی نظم و ضبط، سیکیورٹی یا تدریسی سرگرمیوں میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
واضح رہے کہ 2022 میں بی جے پی حکومت کے دور میں تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی عائد کی گئی تھی، جس کے بعد ریاست بھر میں شدید تنازعہ کھڑا ہوگیا تھا۔ اس معاملے نے قومی سطح پر مذہبی آزادی اور تعلیمی حقوق سے متعلق بحث کو جنم دیا تھا۔ بعد ازاں کرناٹک ہائی کورٹ نے بھی اس پابندی کو برقرار رکھا تھا۔
ریاستی حکومت نے اپنے تازہ حکم نامے میں کہا ہے کہ سیکولرزم کا مطلب مذہبی عقائد کی مخالفت نہیں بلکہ تمام مذاہب کے ساتھ مساوی سلوک اور عدم امتیاز کو یقینی بنانا ہے۔ حکومت نے تعلیمی اداروں کو ہدایت دی ہے کہ مذہبی علامات کی بنیاد پر کسی بھی طالب علم کے ساتھ امتیازی برتاؤ نہ کیا جائے۔
کرناٹک کے وزیر تعلیم مدھو بنگارپا نے کہا کہ نئی پالیسی مختلف برادریوں کی مذہبی اور ثقافتی روایات کا احترام کرتی ہے اور طلبہ کو اپنے عقائد کے مطابق محدود مذہبی علامات اختیار کرنے کی آزادی فراہم کرتی ہے۔