قلم کے تقاضے اور ہماری ذمہ داریاں

از:- مفتی ثاقب قمری مصباحی

اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنی خلافت ونیابت کے لیے جب انسان کو اشرف المخلوقات کی حیثیت سے پیدا فرمایا تو اسے دیگر حیوانات و بہائم کی بہ نسبت ایک امتیازی منصب پر فائز کیا اور اپنی شان وعظمت کے ظہور کے لیے نطق جیسے خاص وصف سےنوازا۔ تاکہ وہ نہ صرف اپنی ذاتی ضروریات و مقتضیات کا کفیل بن سکے، بلکہ ہر گام اپنے زبان و قلم سےحق کی ترجمانی کا فریضہ انجام دے سکے۔

انسان اپنے مافی الضمیر اور جذبات واحساسات کے اظہار کے لیے عام طور پر جن دو طریقوں کا استعمال کرتا ہے، ان میں سے ایک تقریر ہے کہ جس کا براہ راست تعلق زبان سے ہے اور دوسرا تحریر جوقرطاس وقلم کا مرہون منت ہے۔ ان دونوں طریقِ اظہار کی اپنی ایک خاص اہمیت ہے، لیکن تقریر کے بالمقابل تحریر کا دائرہ اثر خاصا وسیع و عریض اور ناقابلِ تحدید ہوتا ہے، کیوں کہ کوئی ماہر سے ماہر مقرر بھی اپنی تقریر کا پیغام صرف انھی سامعین تک پہنچا سکتا ہے، جوان کے سامنے بیٹھے ہوں یا (عصر حاضر کے تناظر میں) انٹرنیٹ کے ذریعے وہ تقریر سن رہے ہوں، لیکن اگر تحریری صلاحیت کی بات کی جائے تو اس کے نتائج و ثمرات اس وجہ سے دیرپا اور دوررس ہوتے ہیں کہ اس کے ذریعے ایک انسان نہ صرف اپنے معاصرین سے اپنی علمی صلاحیتوں کا خراج تحسین حاصل کرسکتا ہے، بلکہ اپنی شخصیت کے آفاقی اجالوں سے آنے والی نسلوں کی فکری تربیت کا فریضہ انجام دے سکتا ہے۔

آج اگر دنیا میں بےشمار علما وفضلا اور فقہا و محدثین کی علمی وادبی جلالت کا خطبہ پڑھا جارہا ہے تو یہ بلا شبہ قلمی سرگرمیوں ہی کانتیجہ ہے، ورنہ ہمیں نہ تو امام بخاری ومسلم جیسے ائمہ حدیث کی محدثانہ شان کا علم ہوتا، نہ امام اشعری وماتریدی جیسے ائمہ عقائد کے کمالات معلوم ہوتے اور نہ ہی امام اعظم ابو حنیفہ وامام شافعی وغیرہما جیسے بے مثال مجتہدین کی اجتہادی بصیرتوں سے شناسائی ہوتی۔

اگر دینی تناظر میں قلم کی اہمیت پہ گفتگو کی جائے تو مجموعی طور پراتنا سمجھ لینا کافی ہے کہ قرآن پاک میں جہاں قلم کا ذکر ابتدائی وحی کے طور پر نازل ہونے والی چند آیتوں﴿اِقْرَأْ وَرَبُّكَ ٱلْأَكْرَمُ ٱلَّذِى عَلَّمَ بِالْقَلَمِ﴾ میں کیا گیا، وہیں اللہ تبارک وتعالیٰ نے پوری ایک سورت کا نام ہی "القلم” رکھا اور اس کی قسم یاد فرمائی۔ مزید یہ کہ حدیث پاک میں بھی قلمی صلاحیتوں کی تحسین و ترغیب کاخاص اہتمام کیا گیا۔ ترمذی شریف کی حدیث ہے کہ محسن انسانیت ﷺ نے ارشاد فرمایا:(قَيِّدُوا الْعِلْمَ بِالْكِتَابِ)یعنی قلم کے ذریعےعلم کوقید کر لو۔ صحابہ کرام نے عرض کیا: یارسول اللہﷺ! علم کو قید کر لینے کا کیا مطلب ہے؟ آپ نے فرمایا: کسی چیز کو لکھ لینا،اسے قید کر لینے کے مترادف ہے کہ اب جب تک وہ تحریر باقی رہے گی، اس کا اثر بھی باقی رہے گا۔
اگر قلم کی تاریخ پہ بات کی جائے تو وہ اتنی ہی قدیم ہے، جتنی کہ خود انسانی تاریخ، بلکہ اس کا سراغ تو انسانی تاریخ سے بھی پہلے ملتا ہے۔ ترمذی شریف کی حدیث کے مطابق جب اللہ تعالیٰ نے کائنات کی تخلیق کا ارادہ فرمایا تو سب سے پہلے قلم بنایا اور اسے لکھنے کا حکم دیا۔ قلم نے عرض کیا کہ کیا کچھ لکھوں؟ تو فرمایا کہ روزِ ازل سے صبح قیامت تک کے تمام احوال وکوائف لوح محفوظ پر لکھ دے۔

قلم اللہ تبارک وتعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے۔ اسی کے ذریعے علم، ادب اور تہذیب کو فروغ حاصل ہوتا ہے اور دینی، ملی، سیاسی، سماجی اور اقتصادی مسائل حل کیے جاتے ہیں۔ اگر قلمی سرگرمیاں معطل ہو جائیں تو نہ علوم و فنون کی تدوین ہو سکتی ہے، نہ کائناتی حقائق کے سربستہ راز کھل سکتے ہیں اور نہ تاریخی آثار وشواہد کی تہہ تک پہنچا جا سکتا ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ جن قوموں نے بھی قلم کی طاقت کا صحیح استعمال کیا، ان کی زندگی میں حیرت انگیز ترقیاں دیکھنے کو ملیں۔انھوں نے اس ہتھیار سے گم راہوں کو راستہ دکھایا، مظلوموں کی حمایت کی، مخالف طاقتوں کو زیر کیا، غلامی کو آزادی میں بدلا اور حکومت واقتدار کی تعمیر وتوسیع کا فریضہ انجام دیا۔ یہی نہیں بلکہ انھوں نے اس سے بھی آگے بڑھ کر زمین فتح کی، آسمانوں پہ کمند ڈالا اور دنیا کی ہرچیز مسخر کر لی۔ مگر جنھوں نے اس حوالے سے بے اعتنائی اور سرد مہری کا مظاہرہ کیا، وہ ہر محاذ پر بری طرح ناکام ونامراد ہوئے۔ نہ ان کی تہذیب وثقافت محفوظ رہی، نہ ان میں فکری نشو ونما کا عمل جاری رہا اور نہ علمی استحکام میں خاطرخواہ ان کا کوئی حصہ شامل ہو سکا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کا وجود ہی صفحہ تاریخ سے مٹ گیا اور وہ جیتے جی ہمیشہ کے لیے پردہ عدم میں پہنچ گئے ہیں۔

آج ہم جس طرف بھی دیکھتے ہیں، باطل عقائد ونظریات کے حامل افراد قرطاس و قلم کی مدد سے اپنی فکر و نظر کی ترویج و توسیع کا کام کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ اس حوالے سے ایک طرف اگر یہودو نصاری اور ہنود وملحدین کی اسلام دشمنی کایلغار ناقابلِ برداشت حد تک جاری ہے تو دوسری طرف قادیانی، نیچری اور دیگر غیراسلامی فرقے بنامِ اسلام ہی لوگوں کے ایمان و اسلام پر شب خون مارنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ اب تو رفتہ رفتہ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی ، مولانا وحیدالدین خان اور مسٹر جاوید احمد غامدی جیسے تجددپرست لوگ بھی اپنے لٹریچروں میں دین کا سافٹ ورژن پیش کرکے عصری علوم سے وابستہ طلبا کو گم راہ کرنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ گویا ہرجماعت اور ہر طبقے میں قلم کی طاقت کا احساس غیر معمولی حد تک پایا جاتا ہے، لیکن ہماری اپنی جماعت کے لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ اس کی حساسیت سے بالکل غافل ہیں، بلکہ صحیح بات تو یہ ہے کہ ان کی رگوں سے تحریری عظمت کا خون تقریباً منجمد ہو چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

ہمیں تو اپنے بزرگوں نے لوح وقلم کا امین اور فکر ونظر کا پاسبان بنایا تھا، لیکن افسوس کہ ہم نے ان کے پیغاموں کو طاقِ نسیاں کی نذر کر دیا اور غیر ترجیحی امور کو اپنی زندگی میں یوں شامل کیا کہ جلسہ ، جلوس، تیجہ، چالیسواں، چادر گاگر اور کھچڑا مالیدہ سےآگے ہمیں کچھ نظر ہی نہیں آتا۔ آج اپنے ارد گرد ایک سرسری نگاہ ڈالیے تو ہر کوئی انجام کی پرواہ کیے بغیر صرف منبر و محراب کی طرف دوڑے جارہا ہے، جس کا لازمی نتیجہ یہ ہو رہا ہے کہ اب نہ تو ہمارے اداروں میں قلم کاروں کی خاطرخواہ کھپت ہو رہی ہے اور نہ ہی مفکرین و مدبرین تیار ہو رہے ہیں۔

ہماری جماعت میں نہ تو افراد کی کمی ہے اور نہ ہی وسائل کا فقدان۔ صحیح بات تو یہ ہے کہ ہمیں اب تک اپنی ترجیحات سمجھنے کاشعور نہیں آیا، ورنہ کیا وجہ ہے کہ جو قوم جلسہ وجلوس کے نام پر ایک ایک رات میں لاکھوں لاکھ روپے پانی کی طرح بہا دیتی ہے، اس کے پاس نہ توکتب ورسائل کی طباعت واشاعت کے لیے پیسے ہیں، نہ ماہر قلم کاروں کی اخلاقی پذیرائی کا حوصلہ۔ چناں چہ آج ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے یہاں کا سب سے مظلوم شعبہ قرطاس و قلم کا ہے۔ آج نہیں تو کل ہمیں اپنی نادانی کا احساس ضرور ہوگا، لیکن تب تک بہت دیر ہو چکی ہوگی۔ دوسری جماعت کے افراد اپنے خوش اسلوب تحریری لٹریچروں سے نسل نو کے دین وایمان کا سودا کر چکے ہوں گے اور ہم اس وقت کھڑے ہو کر بس اپنی بے بسی کا تماشا دیکھ رہے ہوں گے۔ لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم روایتی طرزِ فکر سے اوپر اٹھ کر قومی و ملی فلاح کا لائحہ عمل مرتب کریں اور لوگوں کو محض تقریری رسیا بنانے کی بجائے قرطاس و قلم کی اہمیت وضرورت کا احساس دلائیں، ورنہ وہ دن دور نہیں کہ ہماری قوم علمی حوالے سے ناقص اور فکری سطح پر اپاہج بن کر رہ جائے گی۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔