راہل گاندھی کی ’’معاشی سونامی‘‘ وارننگ پر بی جے پی کا سخت ردِعمل، خوف پھیلانے کا الزام

نئی دہلی: کانگریس کے سینئر رہنما اور قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی کی جانب سے ملک میں ’’معاشی سونامی‘‘ آنے کی وارننگ پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے عوام میں خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش قرار دیا ہے۔

راہل گاندھی نے حالیہ خطاب میں دعویٰ کیا تھا کہ ملک ایک سنگین معاشی بحران کی طرف بڑھ رہا ہے اور موجودہ حکومت نے ایسے حفاظتی معاشی نظام کمزور کر دیے ہیں جو عالمی جھٹکوں کے اثرات کو محدود کرتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ آنے والے دنوں میں ملک کو ایک ایسی ’’معاشی سونامی‘‘ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔

بی جے پی کے آئی ٹی سیل کے سربراہ امت مالویہ نے راہل گاندھی کے بیان کو ’’کلاسیکی خوف پھیلانے کی سیاست‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر ملک کے معاشی تحفظ کے نظام واقعی ختم ہو چکے ہوتے تو عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، مغربی ایشیا کی کشیدہ صورتحال اور سپلائی چین کے مسائل کے باوجود بھارتی معیشت مستحکم نہ رہ پاتی۔

امیت مالویہ نے کہا کہ ہندوستان کو بیرونی چیلنجز کا سامنا ضرور ہے، لیکن ملک بے بس نہیں ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ ایک دہائی کے دوران معاشی حفاظتی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنایا گیا ہے اور حکومت ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

سیاسی حلقوں میں راہل گاندھی کے اس بیان پر بحث جاری ہے۔ اپوزیشن اسے معاشی حقائق کی نشاندہی قرار دے رہی ہے، جبکہ حکمراں جماعت کا مؤقف ہے کہ ایسے بیانات ملک کی معیشت اور عوامی اعتماد کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔