گھریلو ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں حالیہ 29 روپے اضافے کے بعد حزبِ اختلاف نے وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی حکومت پر سخت تنقید کی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ مہنگائی کی مار جھیل رہی عوام پر یہ ایک اور بوجھ ہے، جس سے متوسط اور غریب طبقے کی مشکلات مزید بڑھ جائیں گی۔
کانگریس، ترنمول کانگریس، عام آدمی پارٹی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایک طرف حکومت ملک کو ’’وشو گرو‘‘ بنانے کے دعوے کرتی ہے، جبکہ دوسری جانب عام شہریوں کو روزمرہ کی ضروریات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے تحفظ فراہم کرنے میں ناکام نظر آتی ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں نے الزام لگایا کہ مسلسل بڑھتی مہنگائی نے گھریلو بجٹ کو شدید متاثر کیا ہے اور ایل پی جی کی قیمت میں اضافہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
اپوزیشن کا کہنا ہے کہ صرف ایل پی جی ہی نہیں بلکہ پٹرول، ڈیزل اور دیگر ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے بھی عوام کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔ ان کے مطابق حکومت کو قیمتوں پر قابو پانے اور عوام کو راحت فراہم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کرنے چاہئیں۔
ادھر تیل کمپنیوں اور حکومتی حلقوں کا مؤقف ہے کہ بین الاقوامی توانائی منڈی میں بڑھتی لاگت اور مالی دباؤ کے باعث قیمتوں میں ردوبدل ناگزیر ہو گیا تھا۔ نئی قیمتوں کے تحت 14.2 کلوگرام کے گھریلو ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں 29 روپے کا اضافہ نافذ کر دیا گیا ہے، جس کے اثرات ملک بھر کے کروڑوں صارفین پر پڑیں گے۔