جوہر یونیورسٹی کی 38 عمارتوں پر انہدام کا خطرہ، دو ہفتوں میں کارروائی کا حکم

رامپور: سماج وادی پارٹی کے سینئر رہنما محمد اعظم خان کی جانب سے قائم کی گئی محمد علی جوہر یونیورسٹی ایک بار پھر قانونی کارروائیوں کی زد میں آ گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق رامپور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (RDA) نے یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو مبینہ طور پر غیر منظور شدہ تعمیرات قرار دیتے ہوئے انہیں منہدم کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق یونیورسٹی کی صرف دو عمارتوں کے نقشے منظور شدہ ہیں، جبکہ باقی 38 عمارتیں مبینہ طور پر منظور شدہ نقشوں کے بغیر تعمیر کی گئی ہیں۔ اتھارٹی نے یونیورسٹی انتظامیہ کو دو ہفتوں کی مہلت دی ہے کہ وہ خود ان تعمیرات کو ہٹا دے، بصورت دیگر مقررہ مدت کے بعد رامپور ڈیولپمنٹ اتھارٹی سرکاری کارروائی کرتے ہوئے انہدام کا عمل انجام دے گی۔

واضح رہے کہ محمد اعظم خان اس وقت اپنے بیٹے کے ساتھ رامپور جیل میں قید ہیں۔ ان کی سرپرستی میں قائم ہونے والی محمد علی جوہر یونیورسٹی کو ان کا اہم تعلیمی منصوبہ تصور کیا جاتا ہے۔ اگر انہدام کا حکم نافذ ہوتا ہے تو یونیورسٹی کے بنیادی ڈھانچے کا بڑا حصہ متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

اس معاملے پر یونیورسٹی انتظامیہ یا محمد اعظم خان کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔