وہ مؤرخ جس کے جانے سے تاریخ کچھ اور اداس ہو گئی

از: محمد علم اللہ، لندن

سُمِت سرکار کی رخصتی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ہندوستان اپنے ماضی کو سمجھنے سے زیادہ اس سے سیاسی لڑائی لڑ رہا ہے۔

سُمِت سرکار (پیدائش 1939، متوفی 13 اگست 2026) کے انتقال کی خبر میرے لیے ویسے ہی تھی جیسے کسی بزرگ یا عقیدت مند کے خاموشی سے رحلت کر جانے کی اطلاع ملنا، جسے سنتے ہی انسان اداس و غمگین ہو جائے۔ میرے سامنے برطانیہ کے متعدد اخبارات کھلے تھے اور ان میں سُمِت سرکار کے اس دنیا سے رخصت ہو جانے کی خبریں تھیں۔ دل اس خبر پر یقین کرنے کے لیے تیار ہی نہیں تھا۔ شاید اس لیے کہ بعض لوگ ہماری زندگی میں براہِ راست موجود نہ ہوتے ہوئے بھی ہماری زندگی کا حصہ بن جاتے ہیں۔ ان سے ملاقات نہیں ہوتی، ان کے ساتھ بیٹھنے کا موقع نہیں ملتا، ان کی آواز سننے کا اتفاق نہیں ہوتا، لیکن ان کی کتابیں ہمارے ہاتھوں میں آتی ہیں، ان کے سوال ہمارے ذہن میں جگہ بناتے ہیں اور ان کے خیالات وقت کے ساتھ ہماری اپنی سوچ کا حصہ بننے لگتے ہیں۔

سُمِت سرکار میرے لیے ایسے ہی تھے۔ ان کے انتقال کی خبر پڑھتے ہوئے سب سے پہلا احساس یہی ابھرا کہ ہندوستانی تاریخ نویسی کی دنیا سے ایک ایسی آواز کم ہو گئی جس کی ضرورت شاید آج پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ تاریخ کبھی صرف ماضی کو جاننے کا علم نہیں رہی، لیکن ہمارے زمانے میں وہ سیاست کا ایک نہایت طاقتور اور خطرناک وسیلہ بن چکی ہے۔ صدیوں پرانے واقعات کو توڑ مروڑ کر اور ان پر اپنی مرضی کا رنگ چڑھا کر موجودہ شہریوں کے خلاف دلیل بنایا جاتا ہے، مذہبی شناخت کو قومیت اور وفاداری کے ساتھ جوڑا جاتا ہے اور ہمیں بار بار اپنے ہی ملک میں اپنی شہریت، وفاداری اور ہندوستانی ہونے کے سوالات کے سامنے کھڑا کیا جاتا ہے۔ ایسے وقت میں سُمِت سرکار جیسے جَری، بے خوف اور غیر جانب دار مؤرخ کا چلے جانا محض ایک بڑے اسکالر کی وفات ہی نہیں، بلکہ ہمارے عہد کی آوازوں میں سے ایک اہم آواز سے محروم ہو جانا ہے، جس کی کمی ہم سب کو دیر تک ستائے گی۔

سُمِت سرکار سے میری شناسائی پہلی مرتبہ اس وقت ہوئی جب میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ تاریخ میں گریجویشن کے لیے نیا نیا داخل ہوا تھا۔ تاریخ کے ہمارے اساتذہ ان کا نام بڑے احترام سے لیتے تھے۔ پروفیسر مشیر الحسن، پروفیسر جی پی شرما، پروفیسر رضوان قیصر، پروفیسر پی کے بسنت، پروفیسر نشاط منظر، پروفیسر جاوید عالم، پروفیسر رجنیش کمار، پروفیسر فرحت نسرین اور دوسرے اساتذہ کی کلاسوں میں تاریخ کے بڑے نام آتے، کتابوں پر گفتگو ہوتی اور مختلف مؤرخین کے نظریات ہمارے سامنے کھلتے۔ اس وقت شاید ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ استاد کی زبان سے سنا ہوا کوئی نام ایک دن ہماری اپنی فکری زندگی کا حصہ بن جائے گا۔ طالب علمی میں بہت سی باتیں صرف امتحان کا جزو معلوم ہوتی ہیں، لیکن کچھ نام وقت کے ساتھ کتاب سے نکل کر زندگی میں داخل ہو جاتے ہیں۔

یونیورسٹی کے بعد جب سُمِت سرکار کو دوبارہ پڑھنے کا موقع ملا تو سمجھ میں آیا کہ ہمارے اساتذہ ان کا ذکر صرف اس لیے نہیں کرتے تھے کہ وہ ایک معروف مؤرخ تھے، بلکہ ان کی اہمیت اس بات میں بھی تھی کہ انہوں نے ہندوستانی تاریخ کو صرف سطحی طور پر دیکھنے کے بجائے سماج کو پرتوں سے سمجھنے کی کوشش کی اور غیر جانب دارانہ انداز میں اپنی رائے پیش کی۔ بڑے سیاسی واقعات کے پیچھے عام لوگ کہاں تھے؟ تحریکوں میں عوام کی اپنی خواہشات کیا تھیں؟ قیادت اور عوام کے درمیان تعلق کی نوعیت کیا تھی؟ تاریخ میں وہ لوگ کیوں غائب ہو جاتے ہیں جن کے بغیر اس کا اصل سفر ممکن نہیں ہوتا؟ ایسے سوالات ان کے کام کے اندر مسلسل موجود ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ سُمِت سرکار کو پڑھنا فقط ہندوستان کے ماضی کو پڑھنا نہیں، بلکہ اَتیہاس لکھنے اور سمجھنے کے طریقے پر بھی غور کرنا ہے۔

وقت گزرنے کے ساتھ سُمِت سرکار کا نام میرے لیے ایک مؤرخ یا ان کی چند کتابوں کے ناموں سے بڑھ کر ہندوستانی تاریخ کو معروضی انداز میں دیکھنے کے ایک مخصوص طریقے کی علامت بن گیا۔ ان کی معروف کتاب Modern India 1885–1947 (جدید ہندوستان 1885–1947) پڑھتے ہوئے زیادہ واضح ہوا کہ قومی تحریک کی تاریخ صرف کانگریس کے بڑے رہنماؤں، ان کی تقریروں، قراردادوں اور سیاسی حکمتِ عملیوں کی تاریخ نہیں ہے، بلکہ اس تاریخ کے اندر کسان ہیں، مزدور ہیں، طلبہ ہیں، عورتیں ہیں، متوسط طبقہ ہے، قبائلی ہیں، مختلف مذہبی گروہ ہیں اور وہ عام لوگ ہیں جن کے نام شاید کسی بڑے سیاسی واقعے کے حاشیے میں بھی نہ ملیں، لیکن جن کے بغیر قومی تحریک اپنی حقیقی معنویت کھو دیتی ہے۔

سُمِت سرکار کی قوت یہی تھی کہ وہ قومی تحریک کو نہ تو ایک مکمل اور بے عیب قومی داستان بنا کر پیش کرتے تھے اور نہ اس کی تاریخی اہمیت سے انکار کرتے تھے۔ وہ اس کے اندر موجود پیچیدگیوں کو دیکھتے تھے۔ ان کے لیے یہ سوال زیادہ اہم تھا کہ سیاسی قیادت اور عوام کے درمیان رشتہ کیا تھا، سیاسی نعرے عام لوگوں کی زندگی میں پہنچ کر کس طرح بدل جاتے تھے اور عوام کسی تحریک میں صرف قیادت کے حکم پر شامل ہوتے تھے یا ان کی اپنی سیاسی خواہشات، تجربات اور محرکات بھی اس عمل کو تشکیل دیتے تھے؟

ان کی کتاب The Swadeshi Movement in Bengal, 1903–1908 (بنگال میں سودیشی تحریک، 1903–1908) اسی عوامی سیاست میں ان کی گہری دلچسپی کی ایک اہم مثال ہے۔ Popular Movements and Middle Class Leadership in Late-Colonial India (اواخرِ نوآبادیاتی ہندوستان میں عوامی تحریکیں اور متوسط طبقے کی قیادت) میں بھی یہی سوال ایک دوسرے زاویے سے سامنے آتا ہے کہ عوامی تحریکیں اور متوسط طبقے کی قیادت ایک دوسرے کو کس طرح متاثر کرتی ہیں۔ سُمِت سرکار کے لیے تاریخ میں ’’عوام‘‘ کوئی خاموش ہجوم نہیں تھے جنہیں سیاسی رہنما اپنے پیچھے ہنکا لے جاتے ہیں۔ عوام کے اپنے تجربات، مفادات اور خواہشات تھیں۔ وہ سیاسی عمل کو صرف قبول نہیں کرتے تھے، اسے اپنے انداز میں بدلتے بھی تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی بیان کردہ تاریخ میں بڑے ناموں کے ساتھ ان بے شمار لوگوں کے لیے بھی جگہ بنتی ہے جنہیں روایتی سیاسی تاریخ اکثر نظرانداز کر دیتی ہے۔ ان کے ہاں تاریخ ہمیشہ زندہ انسانوں کی ایک داستان ہے، صرف حکمرانوں، رہنماؤں اور بڑے واقعات کی نہیں۔

میرے لیے Modern India 1885–1947 (جدید ہندوستان 1885–1947) اسی وجہ سے کبھی صرف نصابی کتاب نہیں رہی۔ بپن چندر جیسے بڑے مؤرخین کے ساتھ سُمِت سرکار کو پڑھتے ہوئے بھی فرق محسوس ہوتا ہے۔ دونوں نوآبادیاتی ہندوستان اور آزادی کی جدوجہد کی تاریخی اہمیت کو سمجھتے ہیں، مگر ان کے زاویے یکساں نہیں۔ بپن چندر کے یہاں ہندوستانی قوم پرستی کی سیاسی قوت اور سامراج مخالف کردار زیادہ نمایاں ہے، جبکہ سُمِت سرکار بار بار سماج کے مختلف طبقوں، عوامی سیاست کی اپنی رفتار اور قیادت و عوام کے پیچیدہ تعلق کی طرف لوٹتے ہیں۔ اسی لیے دونوں کو ایک دوسرے کا متبادل نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل کہنا مناسب ہوگا، جنہیں ایک دوسرے کے ساتھ پڑھنا زیادہ بہتر معلوم ہوتا ہے۔

سُمِت سرکار کی تاریخ نویسی ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ کسی قوم کا تذکرہ صرف اس کے بڑے رہنماؤں کی تاریخ نہیں ہوتی۔ آزادی کی تحریک اگر چند عظیم شخصیات کی داستان بن جائے تو اس میں وہ لاکھوں انسان غائب ہو جاتے ہیں جنہوں نے اپنی روزمرہ زندگی، محنت، احتجاج، قربانی اور کبھی خاموش مزاحمت کے ذریعے تاریخ کو آگے بڑھایا۔ وہ ہمیں ماضی کے واقعات کو صرف اس سوال سے دیکھنے نہیں دیتے کہ کون جیتا اور کون ہارا؟ وہ یہ بھی پوچھنے پر مجبور کرتے ہیں کہ اس واقعے نے عام انسان کی زندگی کو کیسے بدلا؟ کس نے اس میں امید دیکھی؟ کس نے خوف محسوس کیا؟ اور کس نے اس کی قیمت چکائی؟ یہی وہ مقام ہے جہاں تاریخ خشک علمی مضمون سے نکل کر انسانی تجربہ بن جاتی ہے۔

سُمِت سرکار کی Writing Social History (سماجی تاریخ نویسی) کو دیکھتے ہوئے بھی یہ احساس ہوتا ہے کہ ان کے لیے تاریخ ہمیشہ سماج سے جڑی ہوئی تھی۔ وہ تاریخ کو صرف ریاست، حکومت اور بڑے سیاسی فیصلوں کی سطح پر نہیں دیکھتے تھے۔ سماج، ثقافت، مذہب، طبقہ، صنف اور عام انسانوں کے تجربات ان کی تاریخ نویسی کے اہم حصے تھے۔ ان کی تحریر ہندوستانی مسلمانوں کو سمجھنے کے لیے بھی ایک مفید راستہ فراہم کرتی ہے۔ مسلمان ہندوستانی تاریخ میں صرف مغل بادشاہوں، قلعوں، مسجدوں اور درباروں کے ذریعے موجود نہیں ہیں۔ وہ کسان بھی ہیں، دستکار بھی، مزدور بھی، شاعر بھی، صحافی بھی، سپاہی بھی، استاد بھی، طالب علم بھی، آزادی کے کارکن بھی اور عام شہری بھی۔

اگر ہندوستانی مسلمانوں کو صرف قرونِ وسطیٰ کی مسلم حکومتوں کے آئینے میں دیکھا جائے تو ان کی جدید تاریخ کا ایک بہت بڑا حصہ غائب ہو جاتا ہے۔ سُمِت سرکار کی سماجی تاریخ ہمیں اسی غیاب سے بچانے میں مدد دیتی ہے۔ ان کے یہاں عام آدمی تاریخ کا تماشائی نہیں، تاریخ کا حصہ ہے۔ ایک سیاسی نعرہ جب بڑے جلسے میں بلند ہوتا ہے تو اس کا مطلب ایک ہو سکتا ہے، لیکن جب وہی نعرہ کسی غریب کسان، مزدور یا شہری کی زندگی میں داخل ہوتا ہے تو اس کا مطلب بدل سکتا ہے۔ تاریخ نویسی کی اصل مشکل یہی ہے کہ وہ ان مختلف معنوں کو سن سکے۔ شاید سُمِت سرکار کی بڑی خوبی یہی تھی کہ وہ تاریخ میں موجود ان مختلف آوازوں کو ایک ہی قومی کہانی میں گم ہو جانے سے بچانا چاہتے تھے۔

لیکن سُمِت سرکار کی شخصیت کا وہ پہلو جو ان کے انتقال کے بعد سب سے زیادہ یاد آتا ہے، ان کی بعد کی فکر ہے؛ خاص طور پر ہندوتوا، فرقہ واریت، تاریخ نویسی اور ہندوستانی قومیت کے سوالات کے بارے میں ان کی گہری تشویش۔ انہیں صرف ’’کمیونسٹ نواز مؤرخ‘‘ کہنا ان کی پوری علمی شخصیت کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ وہ کسی خاص تنظیم، مذہبی جماعت یا سیاسی پلیٹ فارم کے ترجمان نہیں تھے۔ حالاں کہ ان کا بنیادی فکری پس منظر مارکسی اور بائیں بازو کی روایت سے جڑا ہوا تھا، پھر بھی وہ بنیادی طور پر ایک تنقیدی مؤرخ تھے۔ وہ ہندوستانی مسلمانوں کو ہندوستانی تاریخ اور ہندوستانی قومیت کے اندر ایک برابر کے تاریخی وجود کے طور پر دیکھتے تھے۔

ان کی فکر میں مسلمانوں کا سوال کسی الگ مذہبی رعایت کا سوال نہیں، بلکہ ہندوستانی جمہوریت اور شہری برابری کا سوال تھا۔ جب وہ ہندوتوا کی سیاست کے ممکنہ نتائج اور اقلیتوں کے لیے دوسرے درجے کی شہریت کے خطرے پر غور کرتے تو ان کی تشویش کا دائرہ مسلمانوں سے کہیں وسیع ہو جاتا۔ بنیادی سوال یہ بنتا ہے کہ کیا مذہبی اکثریت خود کو پورے ہندوستان کی واحد نمائندہ قوم تصور کر سکتی ہے؟ کیا کسی شہری کی وفاداری اس کے مذہب سے طے کی جا سکتی ہے؟ کیا صدیوں پرانے واقعات کا بوجھ آج کے انسان پر ڈالا جا سکتا ہے؟ سُمِت سرکار کے یہاں یہ سوال صرف مسلمانوں کا نہیں، بلکہ ہندوستانی شہریت کے پورے تصور کا سوال تھا۔

ہندوتوا کے بارے میں ان کی تشویش بھی کوئی وقتی سیاسی ردعمل نہیں تھی۔ بابری مسجد کے انہدام کے بعد 1993 میں شائع ہونے والی ان کی معروف تحریر The Fascism of the Sangh Parivar (سنگھ پریوار کی فاشِزم) میں انہوں نے سنگھ پریوار کی سیاست کو ہندوستانی سیکولرازم اور جمہوری بنیادوں کے لیے ایک بڑے خطرے کے طور پر دیکھا۔ بابری مسجد 6 دسمبر 1992 کو منہدم کی گئی اور اس کے بعد ہندوستانی سیاست میں جو تبدیلیاں سامنے آئیں، سُمِت سرکار نے ان میں تاریخ، مذہبی شناخت اور سیاسی متحرک کاری کے باہمی تعلق کو دیکھا۔ ان کی تشویش صرف ایک مسجد کے انہدام تک محدود نہیں تھی۔ ان کا سوال یہ تھا کہ اگر کسی مذہبی اکثریت کے نام پر سیاسی قوت خود کو پورے مذہبی معاشرے کی واحد نمائندہ قرار دینے لگے تو اختلاف، کثرت اور اقلیتوں کی شہری حیثیت کا کیا ہوگا؟

ان کی تحریر میں ’’فاشزم‘‘ (فسطائیت) کی اصطلاح بھی یورپی تاریخ سے ہندوستانی حالات کی مشابہت قائم کرنے کے لیے نہیں، بلکہ ایک مخصوص سیاسی عمل کے خطرات کو سمجھنے کے لیے استعمال ہوئی تھی۔ ان کے نزدیک مسئلہ یہ بھی تھا کہ سنگھ پریوار کی سیاست تاریخ کو موجودہ سیاسی شناخت بنانے کے لیے کس طرح استعمال کرتی ہے۔ ایک مخصوص ماضی کو منتخب کیا جاتا ہے، اس میں مظلوم اور ظالم کی سادہ تقسیم پیدا کی جاتی ہے اور پھر موجودہ نسلوں کو اس تاریخی کہانی کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے۔ اس عمل میں مسلمان ایک تاریخی ’’دوسرے‘‘ کے طور پر پیش کیے جا سکتے ہیں، حالاں کہ موجودہ مسلمان قرونِ وسطیٰ کے کسی حکمران کی پالیسیوں یا انفرادی فعل کے ذمے دار نہیں۔ سُمِت سرکار کی بنیادی تشویش یہی تھی کہ جب ماضی کو سیاسی انتقام کا وسیلہ بنا دیا جائے تو وہ ماضی نہیں رہتا، بلکہ موجودہ انسانوں کے خلاف ایک مسلسل مقدمہ بن جاتا ہے۔

ان کی کتاب Beyond Nationalist Frames (قوم پرستی کے فریم سے آگے) میں بھی یہ فکری سمت پوری وضاحت سے سامنے آتی ہے۔ جس میں ہندو دائیں بازو کے عروج، تاریخ نویسی، ہندو قوم پرستانہ تاریخ کے ازسرِنو تشکیل پانے، مذہب اور قومیت کے تعلق اور تاریخ کے سیاسی استعمال جیسے موضوعات پر ان کے مضامین شامل ہیں۔ کتاب کا ایک اہم حصہ Hindutva and History (ہندوتوا اور تاریخ) کے عنوان سے ہے، جبکہ دوسرے حصوں میں The BJP and Nationalism (بی جے پی اور قوم پرستی) اور Christianity, Hindutva, and the Question of Conversion (عیسائیت، ہندوتوا اور تبدیلیٔ مذہب کا سوال) جیسے مباحث شامل ہیں۔

اس کتاب کو پڑھتے ہوئے واضح ہوتا ہے کہ سُمِت سرکار کی تشویش کسی ایک سیاسی جماعت تک محدود نہیں تھی۔ وہ تاریخ کو اس وقت خطرناک سمجھتے تھے جب اسے پیچیدہ انسانی تجربے سے نکال کر ایک سیدھی، جذباتی اور سیاسی کہانی میں تبدیل کر دیا جائے۔ ان کے لیے تاریخ کا کام ماضی کے نام پر موجودہ انسانوں سے حساب لینا نہیں، بلکہ ماضی کو اس کے اپنے حالات، سماجی ڈھانچے اور انسانی تجربے کے اندر سمجھنا تھا۔ شاید آج کے ہندوستان میں یہ بات پہلے سے زیادہ اہم ہے، کیونکہ تاریخ اب صرف یونیورسٹیوں اور لائبریریوں میں نہیں رہتی؛ وہ انتخابی تقریروں، ٹیلی ویژن مباحث، سوشل میڈیا اور روزمرہ سیاسی گفتگو میں بھی موجود ہے۔

بابری مسجد کے سوال پر سُمِت سرکار کی فکر کو سمجھتے ہوئے ایک بات خاص طور پر اہم محسوس ہوتی ہے کہ انہوں نے مسلمانوں کے مسئلے کو محض ایک الگ ’’اقلیتی مسئلہ‘‘ نہیں بنایا۔ ان کے نزدیک اگر ایک مسلمان شہری کو اس لیے مشتبہ سمجھا جائے کہ اس کے مذہب کو ہندوستان کی کسی تاریخی بحث میں ایک مخصوص کردار کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے تو مسئلہ صرف اس مسلمان کا نہیں رہتا۔ اس سے آئینی شہریت کی پوری بنیاد متاثر ہوتی ہے۔ اسی طرح اگر کوئی سیاسی قوت خود کو پورے ہندو سماج کی واحد نمائندہ قرار دے تو مسئلہ صرف ہندوؤں کا نہیں رہتا، کیونکہ خود ہندو سماج کے اندر موجود اختلاف اور تنوع بھی اس دعوے کے نیچے دبنے لگتا ہے۔

اسی لیے سُمِت سرکار کی ہندوتوا پر تنقید کو صرف ’’مسلم حمایت‘‘ کہنا بھی ان کے موقف کو بہت چھوٹا کر دینا ہے۔ ان کا بنیادی سوال ہندوستانی قومیت کی بنیاد کا تھا۔ کیا قوم مذہب سے بنتی ہے یا مشترک سیاسی اور تاریخی زندگی سے؟ کیا شہری کی وفاداری اس کے مذہب سے طے کی جا سکتی ہے؟ کیا کسی شخص کو صدیوں پرانے واقعے کے ساتھ جوڑ کر اس کی موجودہ شہریت کو مشتبہ قرار دیا جا سکتا ہے؟ ان کے نزدیک ہندوستانی شہری ہونے کے لیے کسی مذہبی امتحان سے گزرنا ضروری نہیں ہونا چاہیے۔ اسی لیے مسلمانوں کی شہری حیثیت کا سوال ان کے یہاں ہندوستانی جمہوریت کی صحت کا سوال بن جاتا ہے۔

سُمِت سرکار کی فکری دیانت کا ایک پہلو یہ بھی تھا کہ ان کی تنقید صرف آر ایس ایس یا بی جے پی تک محدود نہیں تھی۔ وہ کسی گروہ کے ترجمان نہیں تھے۔ ان کے لیے معیار کسی دھڑے سے وابستگی نہیں، بلکہ جمہوری، سیکولر اور مساوات پر مبنی اصول تھے۔ اسی لیے وہ کانگریس کے کردار پر بھی تنقید کرتے تھے اور مذہبی جذبات کے سیاسی استعمال کو بھی سوال کے دائرے میں لاتے تھے۔ انہیں صرف بی جے پی مخالف مؤرخ سمجھنا ان کی علمی آزادی کو کم کر دینا ہوگا۔ وہ ہندوتوا کے سخت ناقد تھے، مگر ان کی تنقید کا معیار اصول تھا، جماعت نہیں۔

اسی طرح ان کا بائیں بازو سے تعلق بھی انہیں ان کی سیاست سے سوال کرنے سے نہیں روکتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی علمی زندگی میں اختلاف کی گنجائش ہمیشہ موجود رہی۔ وہ اپنے فکری حلقے کو بھی تنقید سے بالاتر نہیں سمجھتے تھے۔ شاید یہی ایک بڑے مؤرخ کی پہچان ہے کہ وہ اپنے لیے بھی وہی پیمانہ استعمال کرے جو دوسروں کے لیے کرتا ہے۔ اگر کوئی سیاسی قوت عوام کے نام پر عوام کے مفاد کے خلاف جائے تو سوال ہونا چاہیے؛ اگر کوئی قوم پرستی کے نام پر شہری برابری کو کمزور کرے تو سوال ہونا چاہیے؛ اور اگر کوئی سیکولرازم کے نام پر مذہبی جذبات کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کرے تو سوال ہونا چاہیے۔

سُمِت سرکار کی فکر میں فرقہ واریت بھی محض ایک طرف سے پیدا ہونے والی چیز نہیں تھی۔ وہ یہ بھی دیکھتے تھے کہ اکثریتی فرقہ واریت اقلیت کے اندر خوف، عدم تحفظ اور ردعمل کو کس طرح بڑھاتی ہے۔ جب کسی گروہ کو مسلسل یہ احساس دلایا جائے کہ اس کی شہریت مشتبہ ہے، اس کی وفاداری سوال کے دائرے میں ہے اور اس کی تاریخی شناخت کو کسی تاریخی دشمن کے کردار سے جوڑا جا رہا ہے تو اس کا اثر صرف سیاست پر نہیں پڑتا، اس سے معاشرے کی داخلی ساخت بھی بدلنے لگتی ہے۔ خوف اور عدم تحفظ بعض اوقات اقلیت کے اندر بھی ردعمل کی سیاست کو مضبوط کرتے ہیں۔ یوں فرقہ واریت اپنے لیے نئی زمین خود تیار کرتی رہتی ہے۔

شاید اسی لیے سُمِت سرکار کی فکر کو ’’ہندو مخالف‘‘ یا ’’مسلم حمایت‘‘ کے خانوں میں رکھنا ان کے تجزیے کو سمجھنے سے انکار کے مترادف ہے۔ وہ کسی مذہب کو مسئلہ نہیں بنا رہے تھے؛ وہ مذہب کے اس سیاسی استعمال کو مسئلہ بناتے تھے جس میں مذہبی شناخت کو شہری برابری کے خلاف کھڑا کیا جائے۔ ان کے نزدیک ہندوستانی معاشرے کی اصل حقیقت اس کی کثرت تھی۔ مختلف مذاہب، زبانیں، ذاتیں، طبقات، علاقے اور ثقافتی روایتیں ایک دوسرے کے ساتھ رہتی آئی ہیں۔ ہندوستان کو کسی ایک مذہبی شناخت میں بند کرنے کی کوشش صرف اقلیتوں کو نقصان نہیں پہنچاتی، بلکہ خود ہندوستان کی تاریخی حقیقت کو بھی مسخ کرتی ہے۔

سُمِت سرکار کی علمی زندگی بھی کسی ایک نظریے کے سیدھے سفر کی کہانی نہیں تھی۔ قومی تحریک اور سیاسی تاریخ سے ان کی دلچسپی آگے چل کر سماجی تاریخ کے مباحث تک پہنچی؛ سبالٹرن اسٹڈیز کے مباحث سے انہوں نے مکالمہ کیا؛ تاریخ نویسی کے نظریاتی سوالوں پر غور کیا؛ اور پھر ہندوتوا، فرقہ واریت، تاریخ اور معاصر ہندوستانی سیاست ان کی فکر میں زیادہ نمایاں ہوتے گئے۔ یہ تبدیلی فکری کمزوری نہیں، بلکہ علمی زندگی کی صحت کی علامت ہے۔ بڑا دانشور اپنے اولین زمانے کے تمام خیالات کو پوری زندگی ایک ہی شکل میں نہیں رولتا۔ وہ سوالوں کے ساتھ بدلتا ہے اور بدلتے ہوئے زمانے کو نئے سوالوں کے ساتھ دیکھتا ہے۔

اسی لیے سُمِت سرکار پر گفتگو صرف تعریف یا تنقید کے دو خانوں میں نہیں ہو سکتی۔ ان کی بعض تعبیرات سے اختلاف ہو سکتا ہے، ان کے مارکسی پس منظر پر بحث ہو سکتی ہے، سبالٹرن اسٹڈیز کے ساتھ ان کے تعلق پر سوال اٹھائے جا سکتے ہیں اور قومی تحریک کے بارے میں ان کے زاویۂ نظر سے اختلاف بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن ان سب کے باوجود ان کے کام کی علمی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ شاید بڑے مؤرخ کی یہی پہچان ہے کہ اس کے جانے کے بعد بھی اس کے کام پر بحث ختم نہیں ہوتی۔ اس سے اتفاق کرنے والے بھی اس کی طرف لوٹتے ہیں اور اختلاف کرنے والے بھی۔

آج ان کی وفات کے موقع پر میرا دل سچ مچ بہت افسردہ ہے، کیوں کہ وہ ایسے وقت میں رخصت ہوئے جب تاریخ شاید ان کی زندگی کے کسی بھی پچھلے مرحلے کے مقابلے میں زیادہ شدت کے ساتھ سیاسی میدان میں موجود ہے۔ مغل دور، مندر اور مسجد، تاریخی شخصیات، تبدیلیٔ مذہب، تقسیم اور آزادی کے واقعات کو بار بار موجودہ سیاسی سوالوں کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔ کبھی کبھی محسوس ہوتا ہے کہ ہندوستان اپنے ماضی کو سمجھنے کے بجائے اس سے مسلسل لڑ رہا ہے۔

ماضی کے انسانوں کو آج کے معیار سے کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا ہے اور آج کے شہریوں سے صدیوں پرانے واقعات کا حساب مانگا جاتا ہے۔ ایسے وقت میں سُمِت سرکار کی بنیادی تعلیم بہت سادہ مگر گہری معلوم ہوتی ہے: تاریخ کو اس کے سیاق سے کاٹ کر نہیں سمجھا جا سکتا۔ کسی بادشاہ کو اس کے زمانے سے نکال کر آج کی سیاسی بحث میں لا کھڑا کرنا تاریخ نہیں۔ کسی مسجد یا مندر کو صرف موجودہ مذہبی شناخت کی علامت بنا دینا تاریخ نہیں۔ کسی تاریخی واقعے کو آج کے شہری کے خلاف فردِ جرم بنا دینا بھی تاریخ نہیں۔ تاریخ اس سے کہیں زیادہ مشکل علم ہے، کیونکہ اس میں ہمیں ماضی کے انسانوں کو ان کے اپنے زمانے میں سمجھنا پڑتا ہے۔

آج جب ہندوستانی مسلمان اپنی شہریت، سیاسی نمائندگی، سماجی تحفظ اور مستقبل کے سوالوں کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں تو سُمِت سرکار کی بعض تحریریں ایک بار پھر پڑھنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ اس لیے نہیں کہ وہ مسلمانوں کے حق میں لکھتے تھے، بلکہ اس لیے کہ انہوں نے مسلمانوں کے سوال کو ہندوستانی جمہوریت کے سوال سے جوڑا۔ انہوں نے یہ سمجھنے کی کوشش کی کہ اکثریتی قوم پرستی کا اثر اقلیت کی اجتماعی نفسیات پر کیا ہوتا ہے، خوف کس طرح سیاسی زندگی کو بدلتا ہے اور شہری برابری کے کمزور ہونے سے جمہوری نظام کی بنیاد کس طرح متاثر ہوتی ہے۔ ان کی تشویش کو آج کے حالات سے جوڑنا اسی لیے فطری ہے، اگرچہ ہر تاریخی دور اپنی مخصوص پیچیدگی رکھتا ہے۔

سُمِت سرکار کی فکر صرف تاریخ کے شعبے تک محدود نہیں رہتی۔ وہ موجودہ ہندوستان کے سوالوں سے بات کرتی ہے۔ ان کی تحریریں یاد دلاتی ہیں کہ اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت صرف اقلیتوں کی ذمہ داری نہیں؛ یہ اکثریت کی بھی جمہوری ذمہ داری ہے۔ جس دن شہری برابری مذہبی اکثریت کی مرضی پر منحصر ہو جائے گی، اسی دن جمہوریت کی بنیادی روح کمزور پڑنے لگے گی۔

آج ان کے انتقال پر انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ہم سب کے لیے سب سے مناسب طریقہ شاید یہی ہے کہ ہم انہیں صرف ’’عظیم مؤرخ‘‘ کہہ کر آگے نہ بڑھ جائیں۔ عظیم مؤرخ کہہ دینا آسان ہے، اس کی کتاب دوبارہ کھولنا مشکل ہے۔ تعزیتی مضمون لکھ دینا آسان ہے، اس کے سوالوں کے ساتھ ایمانداری سے بیٹھنا مشکل ہے۔ کسی مرحوم دانشور کی تعریف کرنا آسان ہے، اس کی فکری دیانت کو اپنی سوچ کا حصہ بنانا مشکل ہے۔ اس لیے ان کے لیے حقیقی شرَدھانجلی یہی ہوگی کہ ہم انہیں دوبارہ پڑھیں۔ ان کی ہر بات سے مکمل اتفاق ضروری نہیں۔ بڑے مؤرخ سے اتفاق کرنا اس کی شرط بھی نہیں ہوتی۔ ضروری یہ ہے کہ ہم ان سوالوں کو سنجیدگی سے لیں جنہیں انہوں نے اپنی مختلف تحریروں میں الگ الگ صورتوں میں اٹھایا۔ شاید یہی سُمِت سرکار کے ساتھ انصاف ہوگا۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔