کیا یہی عاشقی ہے؟

.

✍ظفر امام قاسمی

____________________

نامِ محمد سے مزین کسی کاغذ کو اگر کہیں گرا ہوا دیکھتا ہوں تو واللہ جی دہل اٹھتا ہے،بسا اوقات آنکھیں نم بھی ہوجایا کرتی ہیں،تحدیث بالنعمة کے طور پر لکھ رہا ہوں کہ اسم ”محمد“سے آراستہ کاغذ کو مروڑ کر چٹکیوں کے بل ہواؤں میں اچھالنا تو دور کبھی ایسا نہیں ہوا کہ نامِ محمد کسی کاغذ پر مرقوم کہیں گرا ہوا دیکھوں اور قدم آگے بڑھ جائیں،حالات چاہے کیسے بھی ہوں مگر اسمِ محمد کا تحفظ اپنا اولین فریضہ سمجھتا ہوں،اسے اٹھاتا ہوں،کاغذ پر بکھرے غبار کو ادب سے جھاڑتا ہوں،نامِ ”محمد“ کو آنکھوں سے لگاتا ہوں اور کسی محفوظ مقام پر لاکر رکھ دیتا ہوں۔

گزشتہ سال کی بات ہے،صوبائی الیکشن کی تیاریاں زوروں پر تھیں، سڑکوں اور شاہراہوں پر پرچار و پرسار کی دھما چوکڑیاں جاری تھیں، امیدوار اور ان کے ہرکارے ہر گلی نکڑ پر اپنے پرچاری بینر آویزاں کرنے میں مگن تھے،کانگریس کے امیدوار جناب مصور صاحب کے نام کے شروع میں ”محمد“ کا سابقہ بھی جڑا ہوا تھا،دیگر امیدواروں کی مثل ان کے بینر بھی جا بجا ووٹروں کو دعوتِ ووٹ کے لئے لٹکائے گئے تھے، اب خدا جانے کہ کسی نے جان بوجھ کر یا دھوکے سے ایک پوسٹر کو علی حسن چوک (بہادرگنج یہ علاقہ بریلویوں کا گڑھ مانا جاتا ہے) سے ذرا آگے شارعِ عام کے بیچوں بیچ زمین پر چپکادیا تھا یا وہ پوسٹر دھوکے سے گرکر وہاں پیوست ہوگیا تھا،مجھے نہیں معلوم کہ کتنے دنوں سے وہ پوسٹر وہاں چپکا پڑا تھا،پوسٹر کی زبوں حالی بتلا رہی تھی کہ اسے وہاں گرے کئی دن ہوچکے تھے،اس بیچ سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں انسانوں کی گاڑیوں، قدموں حتی کہ جوتیوں نے العیاذ باللہ اِس دنیا کے سب سے زیادہ متبرک،مقدس حسین اور اس جہانِ فانی کے لاثانی نام یعنی ”محمد“ متبرک کو روندا تھا،مگر واحسرتا کہ کسی بھی انسان کے دل میں اس پاک اور مقدس نام کے احترام نے جوش نہ مارا اور نہ ہی اس کے سینے میں نامِ محمد کی قندیلِ محبت فروزاں ہوسکی۔
پھر آیا جمعرات کا دن،انسان کو اپنی منزل تک پہنچنے کی ویسے بھی جلدی ہوا کرتی ہے،میری منزل چونکہ دور تھی،اور ادھر آفتاب کی سنہری کرنیں مغرب کے افق پر بڑی تیزگامی کے ساتھ سمٹتی جا رہی تھیں،ایسے میں میری گاڑی فراٹے کے ساتھ بازار کی بھیڑ کو روندتی ہوئی آگے بھاگ رہی تھی کہ اچانک علی حسن چوک کے شارعِ عام پر پڑے اُس پوسٹر پر میری نظر پڑی جس کا ذکر میں اوپر کر آیا ہوں،ابھی میں کچھ سوچتا کہ میری گاڑی کافی آگے تک جا پہنچی،میں نے گاڑی پر بریک لگائی،اور وہیں کھڑے کھڑے سوچنے لگا کہ:کیا کرنا چاہیے“چاہیے تو یہ تھا کہ بنا کسی تاخیر اور دیری کہ میں اسے کھرچنے کے لئے فورا لپک پڑتا،لیکن یہاں حالات کے تقاضے نے مجھے تھوڑی دیر سوچنے پر مجبور کردیا تھا،کیونکہ وہ عصر کے بعد کا وقت تھا،اس وقت بازار کی بھیڑ نسبتا بڑھ جایا کرتی ہے،پھر یہ کوئی سنسان علاقہ کی غیر چلنسار سڑک نہ تھی بلکہ یہ بہادرگنج مارکیٹ کے مین بازار کی مین سڑک تھی،اور پوسٹر بھی سڑک کے بیچوں بیچ چپکا ہوا تھا،اگر میں پوسٹر کو کھرچنے کے لئے سڑک پر جا کھڑا ہوتا تو ایک منٹ میں درجنوں گاڑیاں میرے آگے پیچھے قطار اندر قطار کھڑی ہوجاتیں،ایسے میں میرا کس حد تک تماشا بنتا اس کا اندازہ آپ بخوبی لگا سکتے ہیں،اور لوگوں کی جو گھرکیاں ملتیں وہ الگ، میں کس کس کو صفائیاں دیتا اور کتنے لوگوں کو سمجھاتا،بس اسی وجہ نے مجھے تھوڑی دیر سوچنے پر مجبور کردیا تھا،اب میرے سامنے دو راہیں تھیں،ایک سرکارِ دوجہاں،شہنشاہِ بطحی،سرورِ انبیاء،عبداللہ کے نورِ نظر اور آمنہ کے جگر پارےﷺ کے اسمِ ”محمد“ سے محبت و عشق کی راہ اور دوسرا اپنی ذات کا تماشہ بننے اور گھرکیاں سننے کی راہ،لیکن فورا سے پیشتر میرے دل نے اس راہ پر چلنے کو انتخاب کیا جو میرے لئے کامرانی کی ضمانت بن سکتی تھی،میرے دل نے ذاتی تماشے پر احمد مجتبی کی محبت کو ترجیح دی،میں نے گاڑی اسٹینڈ کی اور لپک کر اس جگہ جا پہنچا جہاں اس کائناتِ ارضی کے حسینوں میں حسین نام دھول مٹی کی گھٹاؤں میں چھپا ہوا تھا، مجھے پورا پوسٹر اکھاڑنے کا موقع تو نہ ملا البتہ میں نے بڑی سرعت کے ساتھ اسمِ ”محمد“ کی جگہ کو اپنے ناخنوں سے کھرچ لیا،اور ان کترنوں کو اپنی جیب میں رکھ کر آگے بڑھ گیا،واللہ اس وقت میرے دل کو جو سکون ملا اور میرے اوپر سرشاری کی جو کیفیت طاری ہوئی اس پر میں لفظوں کا جامہ چڑھانے سے قاصر ہوں،اور نہ ہی دنیا کا کوئی بڑا سے بڑا سخنور اسے کاغذ کے صفحات پر منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

یہی نہیں بلکہ میں نے پچھلے اٹھارہ سالوں سے کبھی نہ نامِ محمد کو قلمزد کیا ہے اور نہ ہی اسمِ الہی پر قلم چلایا ہے بلکہ اگر کبھی انہیں حذف کرنے کی نوبت آئی تو ان پر قلم چلانے کے بجائے قرینے سے انہیں گول دائرے میں گھیر دیا کرتا ہوں،اس کا بھی ایک دلچسپ پس منظر ہے،سال 2008 کا تھا،تب میں جامعہ حسینیہ مدنی نگر فرینگورا کشن گنج کے شعبۂ عربی اول کا طالب علم تھا،ایک دن میں املا کی کاپی لیکر استاذ محترم حضرت اقدس الحاج مولانا غلام مصطفی صاحب قاسمی دامت برکاتہم العالیہ کے رو بہ رو بیٹھا ہوا تھا کہ مجھے اسم ِ محمد یا نامِ خدا کو حذف کرنے کی ضرورت پیش آگئی،میں نے قلم اٹھایا اور اس پر بلا کسی تاخیر کے قلم چلا دیا،استاذ محترم کی دور رس نگاہوں نے میری اس مطرود حرکت کو دیکھ لیا،آپ نے قریب بلایا اور حسبِ عادت ملائمت سے سمجھایا کہ: بیٹے! جب بھی ان دونوں ناموں کو حذف کرنے کی نوبت آن پڑے تو انہیں قلم زَد کرنے کے بجائے گول دائرے میں محصور کر دیا کرنا، وہ دن ہے اور آج کا دن بحمداللہ کبھی اپنے استاذ کی اس نصیحت سے تخلف نہ کیا،بلکہ اب اپنے تلامذہ کو بھی بارہا یہی سمجھاتا ہوں،اور ان کے دلوں کو نامِ خدا اسمِ محمد کی عظمتوں سے معمور کرنے کی کوشش کرتا ہوں، اور موقع بہ موقع عملی نمونہ پیش کرکے بھی دکھاتا ہوں۔

دو سال پہلے کی بات ہے،کچھ ننھے منے طلبہ کھیل کے میدان میں فٹ بال کھیل رہے تھے اور میں وہاں کھڑا ہوکر ان کے کھیل اور کھیل کے درمیان ہو رہی ان کی نوک جھونک سے محظوظ ہو رہا تھا کہ میرے دل میں بھی بال پر ایک کک مارنے کی خواہش پیدا ہوئی،میں نے طلبہ سے بال منگوایا اور جونہی اس پر کک مارنے کے لئے مستعد ہوا تو میری نگاہ بال پر لکھے کچھ نقوش سے جا ٹکرائی،یہ دیکھتے ہی میں نے کک مارنے کے بجائے بال کو ہاتھوں سے اوپر اٹھایا، دیکھتا کیا ہوں کہ اس پر محمد کے ساتھ کوئی نام لکھا ہوا ہے،میں نے تمام طلبہ کو قریب بلایا اور ان کو نامِ محمد کی عظمت سمجھائی کہ جس بال کو آپ پاؤں سے ہواؤں میں اچھال رہے ہو اگر اسی بال پر اپنے نبی کا نام لکھوگے تو ذرا بتاؤ کہ پڑھائی میں نور آئےگا؟طلبہ سمجھدار تھے بات کو سمجھ گئے،پھر میں نے ان سے پہلے ”محمد“ کو کھرچوایا اس کے بعد انہیں کھیلنے کے لئے بال دیا۔
مدارس ہوں یا مکاتب،اسکول ہوں یا دیگر تعلیم گاہیں،ان میں پڑھنے والے بہت سے طلبہ نادان بھی ہوا کرتے ہیں،بھلے برے کی ان میں تمیز نہیں ہوا کرتی،وہ دھڑلے سے کاغذ کے لکھے اوراق کو زمین پر بکھیر دیتے ہیں،بسا اوقات ان میں قرآن کریم کی آیتیں ہوا کرتی ہیں،کبھی احادیثِ رسول کے الفاظ،کبھی خدائے پاک ذات کے نام ہوا کرتے ہیں اور کبھی نبی پاک ﷺ کا اسمِ گرامی،اگر ان میں سے کچھ نہ بھی ہو تب بھی وہ ہمارے لئے اس معنی کر قابل احترام ہیں کہ ان میں وہ حروف و نقوش منقوش ہوا کرتے ہیں جن کے حصول کے لئے ہم سالہا سال محنتیں کرتے اور مشقتیں جھیلتے ہیں،کبھی طلبہ رحل کے ٹکڑوں کو بھی ادھر ادھر پھینک دیا کرتے ہیں،جبکہ رحل کے ٹکڑوں کی حیثیت صرف دیگر لکڑی یا پلاسٹک کے ٹکڑوں کی نہیں ہوا کرتی بلکہ ان کا رشتہ چونکہ قرآن کریم سے جڑگیا ہوتا ہے اس لئے وہ بھی ہمارے لئے محترم ہیں،ایسے میں اساتذہ کو چاہیے کہ وہ طلبہ کو سمجھائیں،ان کے دلوں میں قرآن، حدیث، خدا،رسول اور علم کی عظمت کو بسانے کی کوشش کریں اور انہیں اس بات کا خوف دلائیں کہ اگر:ان کی عظمت دلوں میں نہ ہوگی تو پھر علم اور معرفت کی روشنی سے دل کبھی روشن نہ ہوسکے گا،جن علوم کو حاصل کرنے کے لئے آپ کوشاں ہیں وہ علوم کبھی بھی آپ کے لئے سود مند اور نفع رساں نہ بن سکیں گے، اس طرح کی باتوں سے امید ہے کہ بہت حد تک طلبہ کے قلوب عشق الہی اور محبت رسول ﷺ سے معمور ہوں گے جن کی ضیاء پاش کرنوں سے ان کی زندگی بھی جگمگا اٹھیں گی ان شاء اللہ۔

خیر دیکھئے نا کہ میں چند سطریں لکھنے کے لئے بیٹھا تھا مگر نہ جانے کیا کیا لکھ گیا،مگر حاشا و کلا کہ اپنی باتیں لکھ کر نہ میرے من میں اپنی محبت رسول اور عشق نبی کو اُجاگر کرنے کا مقصد موجزن ہے کہ اس میں میں بھی کامل نہیں اور نہ ہی یہ باتیں لکھنے کی ہیں،مگر آج ایک ایسے بینر پر نگاہ پڑی جس میں جلی حروف میں اسمِ ”محمد“ کندہ تھا،جسے جلوسِ محمدی کے دوران ٹریکٹر کی ٹرالی یا کسی اور چیز میں اس طور پر آویزاں کیا گیا تھا کہ اس کے اوپر چند سرپھرے،آوارہ قماش نام نہاد عشاقِ رسول اور خود ساختہ دیوانۂ نبی بڑی ڈھٹائی اور بےشرمی کے ساتھ بیٹھ کر میوزک کی تھاپ پر چل رہے ”سرکار کی آمد مرحبا“ اور ”جشن آمد رسول “ پر جھوم رہے تھے،تو یکایک میرے دل کی تختی پر اپنی کچھ یادیں وارد ہوتی چلی گئیں کہ اللہ کے فضل سے ہم اور ہمارے اکابرین اس حد تک نامِ ”محمد“ سے عشق رکھتے ہیں اس کے باوجود بھی ہم ان کی نظروں میں گستاخ اور کافر و مرتد ہیں اور وہ اتنی صریح بےادبی کرنے کے بعد بھی پکے مؤمن اور اعلی درجے کے عاشق رسول۔

ٹریکٹر کی ٹرالی کے ساتھ گھسٹتے ہوئے نامِ ”محمد“سے مزین اس پوسٹر پر بیٹھے چند آوارہ قماش نوجوانوں پر نظر پڑتے ہی میرا دل پاروں میں بکھر گیا،تب سے ان پاروں سے اٹھ رہے ایک سوال کی بازگشت مجھے پریشان کئے جا رہی ہے کہ:کیا یہی عاشقی ہے؟“

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔