کلامِ کاٹجو سے پھر ایک آگ لگی

از:- رشید ودود

سوال یہ ہے کہ سپریم کورٹ آف انڈیا کے کتنے ججوں کے نام سے آپ واقف ہیں یا یہ پوچھا جائے کہ سپریم کورٹ آف انڈیا کے موجودہ چیف جسٹس کا کیا نام ہے تو بہتیرے لوگ سر کھجانے لگیں گے لیکن سپریم کورٹ کے سبکدوش جج Markandey Katju کی شخصیت خاصی مشہور ہے وہ اپنے تیز و تند لیکن متنازع بیانات کو لے کر ہمیشہ سرخیوں میں رہنا پسند کرتے ہیں۔ انہیں سبکدوش ہوئے عرصہ گزر گیا لیکن آج بھی وہ خبروں میں بنے ہوئے ہیں۔

کاٹجو صاحب بحیثیت جج متآثر کن کم متنازع زیادہ رہے۔ کنگنا رناوت نے ایک بار بیان دیا تھا کہ راہل گاندھی ان کے پستان کو تکتے رہتے ہیں۔ اسی طرح کا بیان ایک بار کاٹجو صاحب نے بھی دیا تھا۔ کاٹجو صاحب نے فرمایا تھا کہ خواتین وکلاء دوران بحث انہیں آنکھ مار دیتی ہیں جس کی وجہ سے وہ گڑبڑا کر ان کے حق میں فیصلہ دے دیتے تھے۔ یہاں کنگنا رناوت اور کاٹجو صاحب کا موازنہ مقصود نہیں۔ مقصود بس اتنا ہے کہ کاٹجو صاحب کی افتاد طبع ایسی ہے کہ وہ خبروں میں رہنے کیلئے کچھ بھی کر سکتے ہیں۔

کاٹجو صاحب کی عدالت میں ایک مقدمہ سماعت کیلئے پیش ہوا۔ عرضی گزار طالب علم کو داڑھی رکھنے سے مشنری اسکول نے منع کر دیا تھا لیکن کاٹجو صاحب تو کاٹجو صاحب ٹھہرے۔ انہوں نے جلال میں آ کر فرمایا کہ "ہم ملک میں طالبان نہیں دیکھنا چاہتے۔ بھارت ایک سیکولر ملک ہے، اور سیکولرازم کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ملک کی طالبانائزیشن (Talibanisation) کی اجازت دے دی جائے یا تعلیمی اداروں میں مذہبی بنیاد پر ضابطوں کی خلاف ورزی کی چھوٹ دی جائے۔”

کاٹجو صاحب کا یہ فیصلہ سپریم کورٹ نے واپس لے کر دوسری بنچ کو بھیج دیا تھا۔ بعد میں کاٹجو صاحب نے بھی وضاحت پیش کی تھی کہ میرا مقصد کسی کی دل آزاری نہیں تھی لیکن کاٹجو صاحب ہی سے یہ "کارنامہ” سرزد ہو سکتا تھا کہ وہ داڑھی رکھنے کو طالبانائزیشن کہہ کر اسے دہشت گردی کی علامت سے جوڑ دیں۔ کاٹجو صاحب کی طبیعت ہی میں توازن نہیں ہے تو وہ متوازن زبان کہاں سے لائیں گے؟

کاٹجو صاحب جس لکھنؤ کے ہیں اسی لکھنؤ کے یاس یگانہ چنگیزی کا ایک شعر ہے۔

کلام یاسؔ سے دنیا میں پھر اک آگ لگی
یہ کون حضرت آتشؔ کا ہم زباں نکلا

تو "کلام کاٹجو” سے بھی آگ لگتی رہتی ہے رہی آتش کی ہم زبانی تو اپنے کاٹجو صاحب کبھی کپل شرما جیسے کامیڈین بن جاتے ہیں تو کبھی امت مالویہ سے ہم سخنی کرتے نظر آتے ہیں۔ حال ہی میں کاٹجو صاحب نے ایک متنازع بیان اور دیا ہے جس میں وہ "صوفی اسلام” کی ہمنوائی اور "وہابی اسلام” کی مذمت کرتے نظر آتے ہیں۔ وہابی اسلام کی مذمت کوئی نئی بات نہیں۔ بدرالدين اجمل صاحب بھی ترنگ میں آتے ہیں تو وہابی اسلام کی ایسی تیسی کر کے رکھ دیتے ہیں اور بدرالدين اجمل صاحب ہی پر کیا موقوف۔ ہمارے جتنے بھی صوفی دانشور ہیں۔ وہابی اسلام کا نام آنے پر سب کے منہ کا مزہ بگڑ جاتا ہے۔

کاٹجو صاحب کو معلوم ہونا چاہیے کہ محبت، ہمدردی، بھائی چارہ، رواداری، کشادہ نظری اور برداشت جیسی صفات کا تعلق اسلام سے ہے اس لیے ان صفات کو صرف صوفی اسلام کا طرۂ امتیاز سمجھنا کاٹجو صاحب کی کور فہمی ہے۔ کاٹجو صاحب پڑھے لکھے آدمی ہیں اگر وہ چاہیں تو وہابی اسلام کو پڑھ کر اپنی رائے دے سکتے ہیں لیکن ہمارے ججوں کا مسئلہ یہ ہے کہ آج کل وہ "اکثریت کی آستھا” کا خیال بہت رکھ رہے ہیں۔ چاہے انصاف کا خون ہو۔ چاہے کسی کی دل آزاری ہو انہیں تو بس اکثریت کے جذبات کا خیال رکھنا ہے۔ کاٹجو صاحب جس "صوفی اسلام” کا حوالہ دے رہے ہیں اسی کا طرۂ امتیاز ہے کہ کسی کا دل نہ دکھایا جائے۔ کسی کی دل آزاری نہ کی جائے لیکن کاٹجو صاحب صوفی اسلام کی ہمنوائی کے دعویدار ہیں لیکن یہ کیسی ہمنوائی ہے کہ وہ صوفیوں کی بنیادی تعلیمات کی خلاف ورزی کرتے نظر آ رہے ہیں۔

وحدت ادیان کے گمراہ کن نظریے سے قطع نظر کاٹجو صاحب نے حضرت نظام الدین اولیاء کا جو قول نقل کیا ہے۔

"ہر قوم راست راہے دینے و قبلہ گاہے” تو اسی کی روشنی میں وہابی اسلام کو بھی دیکھ لیا جائے۔ جب "ہر قوم راست راہے” ہے تو اس کے دائرے میں وہابی اسلام کو کیوں نہیں داخل کیا جاتا۔

کاٹجو صاحب اردو سے بھی شغف رکھتے ہیں لیکن اردو کی شیرینی بھی ان کا کچھ بگاڑ نہیں سکی۔ تلخ کلامی اردو والوں کو زیب نہیں دیتی۔ کاٹجو صاحب لکھنؤ والے ہیں۔ لکھنؤ والے کب سے دل آزاری کرنے لگے؟ میر نے کہا تھا۔

دل وہ نگر نہیں کہ پھر آباد ہو سکے
پچھتاؤ گے سنو ہو یہ بستی اجاڑ کر

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔