اعلیٰ تعلیم میں حائل مالی رکاوٹیں

از:- مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی

نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ

اس وقت نئی نسل کے سامنے پیشہ ورانہ اعلیٰ تعلیم کے لیے مالی وسائل کا بحران ہے، اقتصادی اور معاشی اعتبار سے اوسط اور غریب خاندان کے لیے کوالی فائی کرنے اور اہلیت ثابت کرنے کے لیے کوچنگ انڈسٹری پر خرچ کرنے کے لیے رقم نہیں ہے، خواہشیں کچھ کرنے کی ہیں، صلاحیتیں بھی ایسی ہیں کہ تھوڑی تیاری کے بعد وہ مقابلہ جاتی امتحان نکال سکتے ہیں، لیکن اس ’’تھوڑی تیاری‘‘ کے لیے ان کے پاس وسائل نہیں ہیں، اس لیے وہ آگے نہیں بڑھ پاتے، یقیناً بہار حج ہاؤس اور ان جیسی چند جگہوں پر فری کوچنگ کا انتظام ہے اور اس کے نتائج بھی اچھے آرہے ہیں، لیکن عمومی صورت حال یہ ہے کہ غریبوں کے نام پر قائم اور زکوٰۃ کی رقم سے چلنے والے ادارے بھی مال کمانے کی انڈسٹری بن گئی ہے، جن کے پاس روپے اور وسائل ہیں وہ اس صنعتی اداروں سے فائدہ اٹھا کر آگے بڑھ رہے ہیں، کوچنگ کے نام پر اس صنعت میں نفع ہے، اوپر سے پروپیگنڈہ نے اس قسم کے اداروں کی کشش کو بہت بڑھا دیا ہے اور لڑکوں کی کثیر تعداد ادھر متوجہ ہو رہی ہے، چاہے باپ کو زمین بیچنی پڑے یا ماں کے زیورات ساہوکار کے یہاں بندھک ہو جائیں، انہیں اس کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی، طلبہ و طالبات مقابلہ جاتی امتحانات نکال رہے ہیں، لیکن کٹ آف مارکس میں انہیں مایوسی ہاتھ لگتی ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جے ای ای مین میں ننانوے پرسنٹائل لانے کے بعد بھی آئی آئی ٹی میں سیٹ کا ملنا یقینی نہیں ہوتا، کامیابی ہوگئی، نمبرات بھی آئے، لیکن داخلہ نہیں مل پایا، اس لیے کہ نمبرات کے دوڑ میں آپ سے اوپر دوسرے لوگ ہیں، اس صورت حال کے پیدا ہونے میں کوچنگ انڈسٹری کا بڑا اہم رول ہوتا ہے، کوچنگ والے ہر سال ہونے والے مقابلہ جاتی امتحان میں پوچھے جانے والے سوالات کا تجزیہ کر کے اس کے مطابق تیاری کرواتے ہیں اور اس کے لیے طالب علم کو اٹھارہ سے پچیس لاکھ تک خرچ کرنے پڑتے ہیں، کوچنگ انڈسٹری کی تیاری کی وجہ سے ننانوے پرسنٹائل کا حصول اب زیادہ دشوار نہیں رہا، لیکن وہ طلبہ جو اتنی موٹی رقم خرچ نہیں کر سکتے،، وہ اپنی بے پناہ صلاحیتوں کے باوجود خسارہ میں رہتے ہیں اور اتنے نمبرات محض ذاتی تیاری سے حاصل نہیں کر پاتے۔
اس وقت پوری دنیا میں کل گھریلو آمدنی کا زیادہ تر حصہ دفاع پر خرچ ہو رہا ہے، تعلیم پر حکومتیں اس قدر خرچ نہیں کرتیں، ترقی یافتہ ممالک سویڈن میں گھریلو آمدنی %6.9، برطانیہ میں %5.6، امریکہ میں %6.0 اور جاپان میں سب سے زیادہ %7.43 فیصد تعلیم پر خرچ ہو رہا ہے، جاپان میں تعلیم پر زیادہ خرچ کی وجہ یہ ہے کہ اس نے دوسری جنگِ عظیم کے بعد جھگڑوں سے اپنے کو دور کر لیا تھا، اس لیے اس کے یہاں دفاع کے لیے کسی بڑے بجٹ کی ضرورت نہیں تھی، لیکن اب اس نے اس پالیسی میں تبدیلی کر لی ہے، اس لیے اب ہتھیار وغیرہ کی تیاری اور دفاع کا بجٹ اس کا خاصہ بڑھ گیا ہے، اس لیے آئندہ اس کے بجٹ میں تعلیمی اخراجات یقینی طور پر کم ہو جائیں گے۔
ایشیائی ملکوں کی بات کریں تو تاجکستان میں تعلیم پر %5.7، قزاقستان میں %7.2، چین میں %6.13، بھوٹان میں %7.5 اور نیپال میں گھریلو آمدنی کا صرف %7.2 فیصد خرچ ہو رہا ہے، ہندوستان گھریلو آمدنی سے صرف %4 فیصد تعلیم پر خرچ کر رہا ہے، سرکاری اور پرائیوٹ اداروں میں 2022 میں ساٹھ ہزار سیٹیں تھیں، اس سال نیٹ کے لیے بائیس لاکھ طلبہ نے امتحان میں شریک ہوئے تھے، تیس (30) لاکھ سے زیادہ طلبہ ہر سال نیٹ، جے ای ای اور سی یوئی جیسے امتحانات کی تیاری کرتے ہیں، سرکاری سطح پر تیاری کا مضبوط انتظام نہ ہونے کی وجہ سے کوچنگ انڈسٹری والوں نے امتحانات کی تیاری کرانے کے لیے اٹھاون ہزار کروڑ روپے کا مارکیٹ بنا لیا ہے، اس اعتبار سے کامیابی کا تناسب نہیں بڑھ رہا ہے، صرف کوٹہ راجستھان میں دو لاکھ طلبہ سالانہ، انجینئرنگ اور میڈیکل کے داخلہ امتحان کی تیاری کی غرض سے جا رہے ہیں، 2022 کے داخلہ امتحان کے دباؤ اور اس میں ناکامی کے خوف سے تیرہ ہزار طلبہ نے خودکشی کر لی تھی، 1968 میں کوٹھاری کمیشن نے تعلیم پر کل گھریلو آمدنی کا چھ فیصد مختص کرنے کی سفارش کی تھی، لیکن اس پر آج تک عمل نہیں ہو سکا۔

اپریل میں ہوئے ایک سروے کے مطابق براسی (82) فی صد لوگوں کی رائے ہے کہ ڈاکٹر، انجینئر بننے کی دوڑ میں کوچنگ انڈسٹری کی اہمیت بڑھ گئی، جب کہ اٹھارہ فی صد نے اس رائے سے اتفاق نہیں کیا ہے، چھہتر فی صد لوگوں نے اس بات سے اتفاق کیا کہ تیاری کے مہنگے خرچ کی وجہ سے وسائل سے محروم باصلاحیت طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگ رہا ہے۔

اس مسئلہ کا حل یہ ہے کہ سرکاری اسکولوں میں سرکاری خرچ پر کوچنگ اور مقابلہ جاتی امتحان کی تیاری کا نظم کیا جائے، ہر ضلع میں کچھ ایسے سرکاری اسکول ہونے چاہیے جو جے ای ای اور نیٹ جیسے داخلہ امتحان کی تیاری کے لیے مقرر ہوں، منتخب طلبہ کو رہائش کی سہولت بھی فراہم کرائی جائے، اس کا بڑا فائدہ سماج کے محروم طبقات کو پہونچے گا جو تعلیم میں وسائل کی کمی کی وجہ سے پچھڑ جاتے ہیں۔
والدین کو بھی اپنے بچوں کی پسند اور ان کی صلاحیتوں کا خیال رکھ کر فیصلہ کرنا چاہیے، ہر طالب علم جے ای ای اور نیٹ نہیں نکال سکتا اور ہر طالب علم کو ایمس میں داخلہ بھی نہیں مل سکتا، اس کے لیے طلبہ کو نفسیاتی طور پر تیار بھی رہنا ہوگا، ورنہ ان پر مایوسی اور ڈیپریشن کا غلبہ ہوگا جو خودکشی تک پہنچ سکتا ہے، جیسا کہ ماضی میں ہوچکا ہے، اس لیے ہر طالب علم کو اس ”چوہا دوڑ“ میں شامل نہیں ہونا چاہیے، اپنی پسند کے اعتبار سے پیشہ ورانہ تعلیم کا انتخاب کرنا چاہیے، تاکہ انہیں مایوسی ہاتھ نہ لگے اور وسائل کی کمی اس کی تعلیمی منصوبہ بندی میں رکاوٹ نہ بنے۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔