سہارنپور: کلکٹریٹ احاطے میں مسجد منہدم کیے جانے کے بعد جائے وقوعہ سے ملبہ ہٹانے اور علاقے کو محفوظ بنانے کی کارروائی تیز کر دی گئی ہے۔ اسی دوران صحافی آفتاب عالم کی جانب سے مسجد کے ملبے سے 1909ء کی درج تاریخ والی ایک اینٹ اور موقع پر موجود قدیم کنویں کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد مسجد کی تاریخی حیثیت سے متعلق بحث نے بھی زور پکڑ لیا ہے۔
آفتاب عالم نے اپنی سوشل میڈیا رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ملبے سے برآمد ہونے والی اینٹ مسجد کی قدامت کی جانب اشارہ کرتی ہے۔ تاہم محض 1909ء کی تاریخ درج ہونے والی اینٹ کو مسجد کی قانونی حیثیت کا قطعی ثبوت قرار دینا فی الحال ممکن نہیں ہے اور اس سلسلے میں مزید شواہد و تحقیق درکار ہوگی۔
دریں اثنا مسجد کے ملبے کے درمیان تقریباً 20 فٹ گہرا قدیم کنواں ملنے کے بعد آثارِ قدیمہ سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) اور ریاستی محکمۂ آثارِ قدیمہ کے ماہرین نے موقع پر پہنچ کر اس کا معائنہ کیا۔ ماہرین نے کنویں کے اندر اتر کر اس کی ساخت، اینٹوں اور تعمیراتی مواد کا تفصیلی جائزہ لیا اور ضروری نمونے بھی حاصل کیے۔ ابتدائی مشاہدات کی بنیاد پر کنویں کی عمر تقریباً 200 سے 250 سال ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، تاہم اس کی حتمی عمر کا تعین مزید سائنسی و تاریخی تحقیق کے بعد ہی ہوسکے گا۔
معائنے کے دوران جائے وقوعہ پر پولیس کی سخت نگرانی رہی اور علاقے میں بیریکیڈنگ کرکے میڈیا سمیت غیر متعلقہ افراد کے داخلے پر پابندی عائد رہی، جس کے باعث صحافیوں کو اندر جاکر موقع کی آزادانہ طور پر کوریج کی اجازت نہیں دی گئی۔
مسجد کی مسماری کے قانونی جواز کے حوالے سے انتظامیہ کا موقف ہے کہ کارروائی عدالتی حکم کی بنیاد پر کی گئی، جبکہ مسجد کمیٹی اور اس کے حامیوں کی جانب سے اس فیصلے کو چیلنج کیا جا رہا ہے۔ ضلعی عدالت نے 2 ستمبر کو مسجد کمیٹی کی اپیل مسترد کرتے ہوئے سٹی مجسٹریٹ کے سابقہ حکم کو برقرار رکھا تھا۔