آپریشن پولو 1948: حیدرآباد کا ہندوستانی یونین میں انضمام، پس منظر، سیاسی کشمکش، فوجی کارروائی اور اس کے نتائج

از:- شیخ مصطفی الرحمن

دارالہدیٰ اسلامک یونیورسٹی

برصغیر کی تقسیم اور آزادی کے بعد 1947ء میں ہندوستان کے سامنے سب سے بڑے سیاسی مسائل میں سے ایک مختلف شاہی ریاستوں کا مستقبل تھا۔ برطانوی اقتدار کے خاتمے کے ساتھ ہی وہ سیاسی انتظام بھی ختم ہوگیا جس کے تحت سینکڑوں ریاستیں برطانوی تاج کے ساتھ مختلف نوعیت کے تعلقات میں قائم تھیں۔ نئی ہندوستانی حکومت کے لیے یہ سوال نہایت اہم تھا کہ ان ریاستوں کو کس طرح ایک مربوط سیاسی اور انتظامی نظام کا حصہ بنایا جائے۔

ان ریاستوں میں حیدرآباد ایک غیر معمولی حیثیت رکھتا تھا۔ یہ نہ صرف رقبے اور معاشی وسائل کے اعتبار سے ایک بڑی ریاست تھی بلکہ جنوبی ہند کے قلب میں واقع ہونے کی وجہ سے اس کی جغرافیائی اہمیت بھی بہت زیادہ تھی۔ ریاست کے حکمران میر عثمان علی خان، آصف جاہ ہفتم، اپنے اقتدار کو برقرار رکھتے ہوئے حیدرآباد کے مستقبل کے لیے ایسا انتظام چاہتے تھے جس میں ریاست کو وسیع خودمختاری حاصل رہے۔ دوسری طرف حکومتِ ہند کا مؤقف یہ تھا کہ ہندوستان کے جغرافیائی، معاشی اور سیاسی استحکام کے لیے حیدرآباد کا ہندوستانی یونین کے ساتھ قریبی اور مستقل تعلق ضروری ہے۔

1947ء سے 1948ء کے درمیان اسی بنیادی اختلاف نے رفتہ رفتہ ایک شدید سیاسی بحران کی شکل اختیار کی۔ مذاکرات، معاہدوں، اندرونی سیاسی تحریکوں، سرحدی کشیدگی، رضاکاروں کی سرگرمیوں، اقوام متحدہ میں شکایت اور متعدد سفارتی کوششوں کے بعد ستمبر 1948ء میں ہندوستانی فوج نے حیدرآباد میں فوجی کارروائی شروع کی، جسے ہندوستانی حکومت نے “پولیس ایکشن” قرار دیا اور اس کا فوجی نام “آپریشن پولو” تھا۔ کارروائی چند ہی دنوں میں ختم ہوگئی اور حیدرآباد کی سیاسی سمت بنیادی طور پر تبدیل ہوگئی۔

لیکن اس واقعے کو صرف چند دنوں کی فوجی کارروائی تک محدود کرکے دیکھنا تاریخ کو بہت مختصر کردینا ہوگا۔ اس کے پس منظر میں برطانوی ہندوستان کی سیاسی ساخت، شاہی ریاستوں کا مسئلہ، نظام کی خودمختاری کی خواہش، حیدرآباد کی داخلی سیاست، مجلسِ اتحاد المسلمین اور رضاکاروں کا کردار، تلنگانہ کی کسان تحریک، ہندوستانی قیادت کے اندر اختلافات، پاکستان اور اقوام متحدہ کا پہلو، اور آخرکار فوجی کارروائی کے بعد پیش آنے والے انسانی مسائل سب شامل تھے۔

برطانوی اقتدار کے خاتمے کے بعد شاہی ریاستوں کا مسئلہ

1947ء میں برطانوی اقتدار کے خاتمے کے وقت برصغیر میں برطانوی صوبوں کے علاوہ بڑی تعداد میں شاہی ریاستیں بھی موجود تھیں۔ ان ریاستوں کی داخلی خودمختاری مختلف سطحوں پر برقرار تھی، جبکہ برطانوی تاج کے ساتھ ان کے تعلقات بالادستی کے مخصوص نظام کے تحت قائم تھے۔

آزادی کے بعد یہ پرانا نظام ختم ہوگیا۔ اب ریاستوں کے حکمرانوں کو اپنے مستقبل کے بارے میں فیصلے کرنا تھے۔ ہندوستانی حکومت نے بیشتر ریاستوں کو ہندوستانی یونین میں شامل کرنے کے لیے مذاکرات اور سیاسی عمل اختیار کیا۔ حکومتِ ہند کے نزدیک صرف قانونی حیثیت کافی نہیں تھی بلکہ جغرافیہ، مواصلات، معیشت، عوامی نمائندگی اور انتظامی استحکام بھی اہم عوامل تھے۔

حیدرآباد کا معاملہ اس لیے زیادہ پیچیدہ تھا کہ ریاست ہندوستان کے اندر واقع تھی اور اس کی کوئی آزاد بیرونی سرحد نہیں تھی۔ جواہر لال نہرو نے ستمبر 1948ء میں ہندوستانی پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے اسی جغرافیائی اور معاشی حقیقت پر زور دیا تھا اور کہا تھا کہ حیدرآباد کو ہندوستان سے الگ ایک مستقل ریاست کے طور پر برقرار رکھنا عملی طور پر بہت مشکل تھا۔ ان کے مطابق ہندوستانی حکومت حیدرآباد کو ایک خودمختار اکائی کی حیثیت سے ہندوستانی یونین میں شامل کرنے کا راستہ چاہتی تھی۔

یہی وہ بنیادی نقطہ تھا جہاں نظامِ حیدرآباد اور حکومتِ ہند کے تصورات ایک دوسرے سے مختلف ہوگئے۔

نظامِ حیدرآباد اور آزاد حیثیت کی خواہش

میر عثمان علی خان، آصف جاہ ہفتم، حیدرآباد کے آخری نظام تھے۔ ان کے دور میں حیدرآباد برطانوی ہندوستان کی بڑی اور باوسائل شاہی ریاستوں میں شمار ہوتا تھا۔ ریاست کا اپنا انتظامی ڈھانچہ، فوج، پولیس، مالیاتی نظام اور سیاسی ادارے موجود تھے۔

1947ء کے بعد نظام کی کوشش یہ تھی کہ حیدرآباد کو فوری طور پر ہندوستان یا پاکستان میں ضم کیے بغیر ایک الگ سیاسی حیثیت حاصل رہے۔ حیدرآباد کا پاکستان کے ساتھ براہِ راست جغرافیائی رابطہ بھی نہیں تھا، اس لیے پاکستان میں شمولیت کا سوال ہندوستان میں شمولیت سے بالکل مختلف نوعیت رکھتا تھا۔ اصل تنازع زیادہ تر اس بات پر مرکوز تھا کہ کیا حیدرآباد ہندوستانی یونین کے باہر اپنی الگ سیاسی حیثیت برقرار رکھ سکتا ہے یا نہیں۔

حکومتِ ہند کے نقطۂ نظر سے یہ صورتِ حال قابلِ قبول نہیں تھی۔ نہرو نے بعد میں واضح کیا کہ ہندوستان کے مرکز میں واقع ایک بڑی ریاست کا بیرونی طاقتوں کے ساتھ آزادانہ تعلقات قائم کرنا ہندوستان کی سلامتی اور سیاسی استحکام کے لیے مستقل مسئلہ بن سکتا تھا۔ اسی لیے ہندوستانی حکومت حیدرآباد کے ساتھ کسی ایسے مستقل انتظام کی تلاش میں تھی جو اسے ہندوستانی یونین کے وسیع سیاسی ڈھانچے سے جوڑ دے۔

شمولیتِ ہند تحریک اور حیدرآباد کی داخلی سیاست

حیدرآباد کے مستقبل کا مسئلہ صرف نظام اور حکومتِ ہند کے درمیان اختلاف نہیں تھا۔ ریاست کے اندر بھی سیاسی تبدیلی کی مختلف تحریکیں سرگرم تھیں۔

ریاست کی اکثریتی آبادی ہندو تھی، جبکہ ریاستی اقتدار کے اعلیٰ طبقات اور انتظامیہ میں مسلمانوں کا نمایاں اثر موجود تھا۔ اسی وجہ سے نمائندہ حکومت، سیاسی حقوق اور انتظامی نمائندگی کا سوال حیدرآباد کی داخلی سیاست میں اہم ہوتا گیا۔

ہندوستانی قومی تحریک سے وابستہ حلقوں نے حیدرآباد کو ہندوستان کے ساتھ جوڑنے اور ذمہ دار حکومت کے قیام کا مطالبہ کیا۔ اس رجحان کو وسیع معنوں میں شمولیتِ ہند تحریک (Join India Movement) کہا گیا۔ دوسری طرف نظام نواز اور مسلم سیاسی حلقے حیدرآباد کی موجودہ سیاسی حیثیت اور مسلم سیاسی قیادت کے تحفظ کے خواہاں تھے۔

اس داخلی کشمکش نے مسئلے کو مزید پیچیدہ کردیا، کیونکہ اب حیدرآباد کا سوال محض خارجہ یا الحاق کا مسئلہ نہیں رہا تھا بلکہ ریاست کے اندر اقتدار، نمائندگی اور عوامی حقوق کی بحث بھی اس میں شامل ہوگئی تھی۔

معاہدۂ تعطل: ایک عارضی سیاسی حل

طویل مذاکرات کے بعد 29 نومبر 1947ء کو ہندوستان اور حیدرآباد کے درمیان معاہدۂ تعطل (Standstill Agreement) طے پایا۔ اس معاہدے کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ فوری طور پر کسی حتمی سیاسی تصفیے پر پہنچے بغیر دونوں فریق پہلے سے موجود انتظامات کو ایک عبوری مدت کے لیے جاری رکھیں۔

ہندوستانی حکومت کو امید تھی کہ اس عبوری انتظام کے دوران حیدرآباد کے مستقبل کے بارے میں مزید مذاکرات ہوسکیں گے۔ لیکن یہ معاہدہ مستقل حل ثابت نہ ہوسکا۔ دونوں جانب عدم اعتماد بڑھتا گیا اور سرحدی واقعات، اسلحے کی نقل و حرکت، سیاسی سرگرمیوں اور داخلی بدامنی کی اطلاعات نے حالات کو مزید کشیدہ کردیا۔

جواہر لال نہرو نے ستمبر 1948ء میں پارلیمان میں کہا کہ نومبر 1947ء کا معاہدۂ تعطل ایک سال کے لیے عبوری انتظام کے طور پر سامنے آیا تھا، لیکن ہندوستانی حکومت کی خواہش یہ تھی کہ آخرکار ذمہ دار حکومت اور ہندوستانی یونین کے ساتھ ایسا تعلق قائم ہو جس میں حیدرآباد کو مناسب خودمختاری حاصل رہے۔

مجلسِ اتحاد المسلمین اور رضاکاروں کا بڑھتا ہوا اثر

حیدرآباد کے بحران میں مجلسِ اتحاد المسلمین اور اس کے عسکری رضاکار دستوں کا کردار انتہائی اہم اور متنازع رہا۔ مجلس کی قیادت میں بعد کے مرحلے میں قاسم رضوی نمایاں ہوئے۔ ان کے زیراثر رضاکاروں نے نظام کی سیاسی حیثیت کے دفاع اور ہندوستانی شمولیت کی مخالفت میں سرگرم کردار ادا کیا۔

ان رضاکاروں کو عام طور پر رضاکار (Razakars) کہا جاتا ہے۔ حکومتِ ہند نے ان کی سرگرمیوں کو حیدرآباد کے بحران کی بنیادی وجوہ میں شمار کیا اور ان پر تشدد، خوف و ہراس اور سرحدی علاقوں میں کارروائیوں کے الزامات عائد کیے۔

نہرو کے 21 اگست 1948ء کے ایک سرکاری مراسلے میں حکومتِ ہند کی طرف سے حیدرآباد میں سرحدی حملوں اور غیر مسلم آبادی کے خلاف تشدد کی اطلاعات کا ذکر کیا گیا اور یہ مؤقف ظاہر کیا گیا کہ حالات بگڑنے کی صورت میں ہندوستان کو “پولیس ایکشن” کرنا پڑ سکتا ہے۔

تاہم تاریخی مطالعے میں اس دور کے تشدد اور اس کی نوعیت کو سمجھتے ہوئے مختلف ذرائع کا تقابلی جائزہ ضروری ہے۔ ہندوستانی حکومت کے سرکاری بیانات میں رضاکاروں کو بنیادی خطرے کے طور پر پیش کیا گیا، جبکہ حیدرآباد کے نمائندوں نے ہندوستانی حکومت کے اقدامات اور سرحدی دباؤ کو مسئلے کے دوسرے پہلو کے طور پر بیان کیا۔ اقوام متحدہ کے ریکارڈ میں دونوں جانب کے دعوے محفوظ ہیں۔

تلنگانہ کی کسان تحریک: ایک الگ داخلی محاذ

حیدرآباد کا بحران صرف ہندوستانی حکومت اور نظام کے درمیان سیاسی اختلاف تک محدود نہیں تھا۔ ریاست کے مختلف علاقوں میں سماجی اور معاشی تنازعات بھی موجود تھے۔ خصوصاً تلنگانہ کے دیہی علاقوں میں کسانوں کی تحریک نے ریاستی انتظامیہ کے لیے ایک الگ چیلنج پیدا کردیا۔

زمین، جاگیردارانہ نظام، کسانوں کے حقوق اور مقامی طاقت کے ڈھانچوں کے خلاف تحریک نے متعدد علاقوں میں مسلح تصادم کی شکل اختیار کی۔ اس تحریک میں کمیونسٹ عناصر کا اہم کردار تھا۔

اس طرح 1948ء کے حیدرآباد کو ایک ہی سیاسی تنازع سے سمجھنا مشکل ہے۔ ایک طرف ہندوستان کے ساتھ الحاق کا مسئلہ تھا، دوسری طرف نظام کی خودمختاری کا مطالبہ، تیسری طرف رضاکاروں کی سرگرمیاں اور چوتھی طرف دیہی علاقوں میں کسانوں کی مسلح تحریک۔ ان تمام عوامل نے ریاست کو ایک پیچیدہ بحران میں مبتلا کردیا تھا۔

1948ء کے دوران ہندوستانی اور حیدرآبادی نمائندوں کے درمیان متعدد مذاکرات ہوئے۔ لارڈ ماؤنٹ بیٹن، جواہر لال نہرو، سردار ولبھ بھائی پٹیل، وی۔ پی۔ مینن اور دیگر ہندوستانی عہدیدار مختلف مراحل پر اس مسئلے سے وابستہ رہے۔ حیدرآباد کی طرف سے سر والٹر مونکٹن جیسے قانونی اور سیاسی نمائندوں نے نظام کے مؤقف کی نمائندگی کی۔

ہندوستانی حکومت کے اندر بھی طریقۂ کار کے بارے میں مکمل یکسانیت نہیں تھی۔ ایک جانب ایسے عناصر تھے جو مزید مذاکرات کے ذریعے حل چاہتے تھے، جبکہ دوسری طرف یہ احساس بڑھ رہا تھا کہ طویل مذاکرات سے صورتحال بہتر ہونے کے بجائے مزید خراب ہوسکتی ہے۔

ستمبر 1948ء کے آغاز تک حکومتِ ہند کا صبر تقریباً ختم ہوچکا تھا۔ 9 ستمبر کو نہرو نے صوبائی وزرائے اعلیٰ کو لکھا کہ حیدرآباد کے سلسلے میں اب صورتِ حال پہلے جیسی جامد نہیں رہی اور واقعات تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ کسی بھی اقدام کے نتیجے میں فرقہ وارانہ کشیدگی کو بڑھنے سے روکنا انتہائی ضروری ہوگا۔

اقوام متحدہ میں حیدرآباد کا معاملہ

حیدرآباد کی حکومت نے اگست 1948ء میں معاملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے سامنے لے جانے کی کوشش کی۔ 21 اگست کو حیدرآباد کی طرف سے سلامتی کونسل کو خط بھیجا گیا جس میں ہندوستان اور حیدرآباد کے درمیان تنازع کو بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا گیا۔ ستمبر کے آغاز میں مزید دستاویزات بھی جمع کرائی گئیں۔

12 ستمبر کو حیدرآباد نے سلامتی کونسل سے فوری کارروائی کی درخواست کی اور 13 ستمبر کو ایک اور پیغام میں ہندوستانی فوجی کارروائی شروع ہونے کی اطلاع دی۔ 15 ستمبر کو حیدرآباد کی حکومت نے اپنے مؤقف کی حمایت میں ایک مفصل یادداشت پیش کی۔

سلامتی کونسل نے 16 ستمبر 1948ء کو حیدرآباد کے مسئلے کو زیرِ غور لیا اور ہندوستان اور حیدرآباد کے نمائندوں کو کونسل کے سامنے اپنی بات رکھنے کا موقع دیا۔ اقوام متحدہ کے سرکاری ریکارڈ میں اس مسئلے کے متعلق 16، 20 اور 28 ستمبر کی کارروائیاں محفوظ ہیں۔

لیکن سفارتی عمل اپنی رفتار سے آگے بڑھ پاتا، اس سے پہلے ہی حیدرآباد میں ہندوستانی فوجی کارروائی شروع ہوچکی تھی۔

آپریشن پولو: فوجی کارروائی کا آغاز

13 ستمبر 1948ء کو ہندوستانی فوج نے حیدرآباد کے خلاف فوجی کارروائی شروع کی۔ ہندوستانی حکومت نے اسے باقاعدہ جنگ کے بجائے “پولیس ایکشن” قرار دیا۔ اس اصطلاح کا سیاسی مقصد بھی تھا، کیونکہ حکومتِ ہند حیدرآباد کو ایک غیر ملکی ریاست کے طور پر تسلیم نہیں کررہی تھی۔

نہرو کے 17 ستمبر کے نوٹ میں واضح طور پر لکھا گیا کہ ہندوستانی کارروائی کو “پولیس ایکشن” کہا گیا ہے اور حکومت اسے کسی غیر ملکی ریاست کے خلاف جنگ نہیں سمجھتی۔ ان کے مطابق کارروائی کا تصور یہ تھا کہ حیدرآباد میں نظم و ضبط بحال کیا جائے، نہ کہ اسے ایک فتح شدہ غیر ملکی ملک کی حیثیت سے برتا جائے۔

آپریشن کی مجموعی کمان میجر جنرل جے۔ این۔ چودھری کے پاس تھی۔ ہندوستانی افواج نے مختلف سمتوں سے حیدرآباد کی ریاستی افواج کے مقابل پیش قدمی کی۔ مغربی سمت میں شولاپور کے علاقے سے پیش رفت ہوئی، جبکہ مشرقی سمت میں بھی فوجی دباؤ بڑھایا گیا۔

حیدرآباد کی ریاستی فوج کے ساتھ رضاکار دستے بھی موجود تھے، لیکن ہندوستانی فوج کے مقابلے میں ریاست کی فوجی صلاحیت محدود تھی۔ ہندوستانی فوج کو جدید اسلحے، فضائی مدد، بہتر مواصلات اور منظم فوجی ڈھانچے کا فائدہ حاصل تھا۔

پانچ دن کی فیصلہ کن پیش رفت

آپریشن پولو کا فوجی مرحلہ مختصر رہا۔ چند دن کے اندر ہندوستانی فوج نے حیدرآباد کی مختلف دفاعی پوزیشنوں پر قبضہ حاصل کرتے ہوئے دارالحکومت کی طرف پیش قدمی کی۔

اس دوران ریاستی فوج کی قیادت جنرل سید احمد ایڈروس کے ہاتھ میں تھی۔ فوجی مزاحمت مختلف مقامات پر ہوئی، لیکن مجموعی طور پر حیدرآباد کی ریاستی فوج ہندوستانی فوج کی پیش قدمی کو طویل عرصے تک روکنے کی پوزیشن میں نہیں تھی۔

17 ستمبر تک صورتِ حال فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوگئی۔ نظام کی حکومت نے جنگ بندی اور سیاسی تصفیے کی سمت قدم بڑھایا۔ اس کے بعد حیدرآباد میں ہندوستانی فوج کا انتظامی کردار قائم ہوگیا۔

18 ستمبر کو نہرو نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ پانچ دنوں میں حالات بہت تیزی سے بدلے ہیں، ہندوستانی کارروائی اپنا مقصد حاصل کرچکی ہے اور رضاکاروں کو ممنوع قرار دے کر ان کی تنظیم ختم کی جارہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حیدرآباد کے عام لوگوں کی زندگی معمول پر لانا اب حکومت کی اہم ذمہ داری ہے۔

نظام کا مؤقف اور نئی سیاسی صورتِ حال

فوجی کارروائی کے اختتام کے بعد حیدرآباد میں سیاسی انتظام تبدیل ہوگیا۔ نظام نے اپنی حکومت میں تبدیلیاں کیں اور حیدرآباد کے اقوام متحدہ میں زیرِ سماعت معاملے کو واپس لینے کا فیصلہ کیا۔

18 ستمبر کے ایک سرکاری پیغام کے مطابق نظام نے اپنے سابق وزارتی نظام کے نمائندوں کو اقوام متحدہ میں حیدرآباد کا مقدمہ مزید آگے نہ بڑھانے کی ہدایت دی، کیونکہ وہ ہندوستان کے ساتھ ایک نئے دوستانہ باب کا آغاز کرنا چاہتے تھے۔

اقوام متحدہ کے ریکارڈ میں اس معاملے کے بارے میں بعد کے دنوں میں اختلاف بھی سامنے آیا۔ حیدرآباد کے نمائندوں نے بعض مواقع پر یہ مؤقف اختیار کیا کہ شکایت واپس لینے کے معاملے میں نظام پر دباؤ تھا، جبکہ ہندوستانی حکومت نے اس کے برعکس نظام کے فیصلے کو ان کی اپنی حکومت کے سیاسی فیصلے کے طور پر پیش کیا۔ اقوام متحدہ کے سالانہ ریکارڈ میں دونوں مؤقف محفوظ ہیں۔

یہ پہلو اس واقعے کی بین الاقوامی تاریخ میں خاص اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپریشن ختم ہونے کے باوجود حیدرآباد کا مسئلہ فوری طور پر عالمی سفارتی سطح سے غائب نہیں ہوا تھا۔

فوجی کارروائی کے بعد انتظامی تبدیلی

فوجی کارروائی کے اختتام کے بعد ہندوستانی حکومت کے سامنے سب سے بڑا سوال نظم و نسق کی بحالی تھا۔ ریاست میں سیاسی کشمکش، مسلح گروہوں، داخلی تشدد اور انتظامی انتشار نے صورتحال کو نازک بنا دیا تھا۔

نہرو نے 18 ستمبر کے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ فوری فوجی مرحلے کے بعد اصل کام عام زندگی کی بحالی اور مستقبل کے آئینی انتظام کی تیاری ہے۔ انہوں نے حیدرآباد کے ہندو اور مسلمان دونوں باشندوں کو ہندوستان کے مشترکہ ورثے کا حصہ قرار دیا اور اس بات پر زور دیا کہ ریاست کے مستقبل کا تعلق اس کے تمام باشندوں سے ہے۔

اسی دور میں ہندوستانی حکومت کے اندر یہ بحث بھی ہوئی کہ حیدرآباد کو کس طرح سیاسی طور پر منظم کیا جائے۔ نہرو نے 17 ستمبر کے ایک نوٹ میں واضح کیا کہ ہندوستان کو حیدرآباد کو ایک “فتح شدہ غیر ملکی ریاست” کی طرح نہیں برتنا چاہیے۔ اس کے بجائے آئینی اور سیاسی انتظام کے ذریعے اسے ہندوستانی نظام میں شامل کیا جانا چاہیے۔

آپریشن پولو کی تاریخ کا سب سے حساس اور دردناک پہلو فوجی کارروائی کے بعد ہونے والا فرقہ وارانہ تشدد ہے۔

حیدرآباد کے مختلف علاقوں میں فوجی کارروائی سے پہلے بھی تشدد موجود تھا، خصوصاً رضاکاروں اور مخالف سیاسی گروہوں کے درمیان۔ لیکن فوجی کارروائی کے بعد بعض علاقوں میں مسلمانوں کے خلاف حملوں، قتل، لوٹ مار اور دیگر زیادتیوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔

نومبر 1948ء میں نہرو کو بھی ایسی اطلاعات موصول ہوئیں کہ اورنگ آباد، بیڑ، بیدر، گلبرگہ، ناندیڑ، جالنا، نظام آباد، عثمان آباد اور دیگر علاقوں میں متعدد مسلمان تشدد کا نشانہ بنے۔ ان حالات کا جائزہ لینے کے لیے ایک خیرسگالی اور تحقیقاتی وفد بھی حیدرآباد بھیجا گیا۔

یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ ہندوستانی حکومت کی اعلیٰ قیادت میں بھی اس تشدد کو نظر انداز نہیں کیا گیا۔ 22 ستمبر 1948ء کو نہرو نے ایک مراسلے میں اس بات پر زور دیا کہ مسلمانوں کے خلاف فرقہ وارانہ بنیادوں پر کارروائی نہیں ہونی چاہیے اور حکومت کو زیادہ سے زیادہ فراخ دلی اور غیر فرقہ وارانہ طرزِ عمل اختیار کرنا چاہیے۔

سندر لال کمیٹی اور ہلاکتوں کے اعداد کا مسئلہ

بعد کے برسوں میں سندر لال کمیٹی کی رپورٹ حیدرآباد میں آپریشن پولو کے بعد ہونے والے فرقہ وارانہ تشدد کے حوالے سے بہت اہم حوالہ بن گئی۔ کمیٹی کے ارکان نے مختلف متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور مقامی حالات کا جائزہ لیا۔ نہرو آرکائیو کے ریکارڈ سے معلوم ہوتا ہے کہ پنڈت سندر لال، قاضی عبدالغفار اور دیگر افراد نے مختلف اضلاع کا سفر کرکے حالات کا جائزہ لیا اور اپنی رپورٹ حکومت کے سامنے پیش کی۔

بعد میں منظرِ عام پر آنے والی رپورٹ میں مسلمانوں کی ہلاکتوں کے حوالے سے بہت بڑے اعداد کا تخمینہ پیش کیا گیا، جسے تاریخ نگاری میں مختلف انداز سے نقل کیا گیا ہے۔ تاہم ان اعداد کو حتمی اور قطعی تعداد سمجھنے کے بجائے کمیٹی کے تخمینے کے طور پر بیان کرنا زیادہ محتاط طریقہ ہے، کیونکہ اس دور کے مکمل اور یکساں سرکاری اعداد و شمار دستیاب نہیں تھے۔

یہ بھی اہم ہے کہ حیدرآباد کے بحران میں تشدد صرف ایک فریق تک محدود نہیں تھا۔ رضاکاروں کی کارروائیوں، ریاستی طاقت کے استعمال، کسان تحریک، مقامی مسلح گروہوں اور بعد ازاں فوجی کارروائی کے نتیجے میں مختلف طبقات متاثر ہوئے۔ اس لیے 1948ء کی تاریخ کو صرف ایک فریق کی تکلیف یا دوسرے فریق کی کارروائی تک محدود کرکے دیکھنا مکمل تاریخی تصویر پیش نہیں کرتا۔

آپریشن پولو کے بعد حیدرآباد کی سابق سیاسی ساخت عملاً ختم ہوگئی۔ ہندوستانی حکومت نے ریاست کا انتظام سنبھالا اور رفتہ رفتہ اسے ہندوستانی آئینی اور انتظامی نظام میں شامل کرنے کا عمل آگے بڑھایا۔ نظام کا منصب بھی مکمل طور پر فوراً ختم نہیں ہوا بلکہ ایک عبوری سیاسی بندوبست کے تحت ان کے ساتھ ایک نئی آئینی نوعیت کا تعلق قائم کیا گیا۔ بعد کے مرحلے میں حیدرآباد ہندوستانی وفاقی نظام کا باقاعدہ حصہ بن گیا۔

یہ تبدیلی صرف حیدرآباد تک محدود نہیں تھی۔ 1947ء سے 1950ء کے درمیان ہندوستانی ریاستوں کے انضمام نے پورے برصغیر کے سیاسی نقشے کو بدل دیا۔ حیدرآباد کا انضمام اس وسیع عمل کا ایک اہم مرحلہ تھا۔

17 ستمبر کی تاریخی اہمیت

17 ستمبر 1948ء حیدرآباد کی تاریخ میں ایک فیصلہ کن تاریخ بن گیا۔ ہندوستانی سرکاری روایت میں اسے حیدرآباد کے ہندوستانی یونین میں انضمام اور رضاکاروں کے خلاف کارروائی کے اختتام سے جوڑا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے بعد کے زمانے میں اسے مختلف ناموں سے یاد کیا گیا، جن میں حیدرآباد انضمام دن، حیدرآباد لبریشن ڈے اور دیگر علاقائی سیاسی تعبیرات شامل ہیں۔

لیکن اس تاریخ کی تعبیر سب کے لیے یکساں نہیں رہی۔ ہندوستانی قومی بیانیے میں اسے ریاستی انضمام، سیاسی یکجہتی اور نظم و نسق کی بحالی کے تناظر میں دیکھا گیا، جبکہ بعض حیدرآبادی اور مسلم حلقوں کے لیے یہی واقعہ ایک ایسے دور کے اختتام کی علامت رہا جس کے ساتھ بڑے پیمانے پر سیاسی، سماجی اور انسانی نقصانات بھی وابستہ تھے۔

تاریخ کا کام ان مختلف یادوں میں سے کسی ایک کو زبردستی واحد تعبیر قرار دینا نہیں، بلکہ ان تمام پہلوؤں کو شواہد کی روشنی میں سمجھنا ہے۔

آپریشن پولو: پولیس ایکشن یا فوجی انضمام؟

آپریشن پولو کے نام اور نوعیت پر بھی تاریخی بحث موجود ہے۔ ہندوستانی حکومت نے اسے “پولیس ایکشن” کہا، کیونکہ اس کے مطابق حیدرآباد کوئی غیر ملکی ریاست نہیں تھی اور کارروائی کا مقصد ہندوستان کے اندر نظم و نسق قائم کرنا تھا۔

نہرو کے 17 ستمبر کے سرکاری نوٹ میں بھی یہی منطق واضح طور پر نظر آتی ہے۔ انہوں نے لکھا کہ کارروائی کو جنگ نہیں کہا گیا اور اس لیے حیدرآباد کو ایک فتح شدہ غیر ملکی ملک کے طور پر برتنے کا سوال پیدا نہیں ہونا چاہیے۔

دوسری طرف حیدرآباد کی حکومت نے اقوام متحدہ میں ہندوستانی کارروائی کو اپنے خلاف جارحیت کے طور پر پیش کیا تھا۔ 1948ء کے اقوام متحدہ کے ریکارڈ میں حیدرآباد کے نمائندوں کے ایسے بیانات موجود ہیں جن میں ہندوستانی فوجی اقدام کو حیدرآباد کی سیاسی خودمختاری کے خلاف کارروائی قرار دیا گیا۔

لہٰذا “پولیس ایکشن” اور “فوجی حملہ” جیسی اصطلاحات صرف الفاظ نہیں بلکہ اس واقعے کی قانونی اور سیاسی تعبیر سے وابستہ ہیں۔ ایک تاریخی مضمون میں دونوں فریقوں کے مؤقف کو الگ الگ بیان کرنا زیادہ مناسب ہے۔

حیدرآباد کا انضمام ہندوستانی ریاست کی تشکیل کے بڑے عمل کا حصہ تھا۔ آزادی کے فوراً بعد ہندوستانی حکومت کے سامنے یہ چیلنج تھا کہ مختلف تاریخی، سیاسی، مذہبی اور انتظامی اکائیوں کو ایک ایسے وفاقی نظام میں کس طرح جوڑا جائے جو مرکزی حکومت کو بھی مضبوط رکھے اور علاقائی شناختوں کو بھی جگہ دے۔

حیدرآباد اس سلسلے میں ایک پیچیدہ مثال تھا۔ یہاں ایک طاقتور شاہی خاندان، وسیع جغرافیائی علاقہ، مختلف مذہبی و لسانی آبادیاں، سیاسی تحریکیں، مسلح گروہ اور بین الاقوامی سفارتی مسئلہ سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے۔ اسی لیے آپریشن پولو کو صرف “پانچ دن کی جنگ” کہنا اس واقعے کی تاریخی گہرائی کو کم کردیتا ہے۔ اصل بحران تقریباً ایک سال سے زیادہ عرصے تک مختلف سیاسی اور سفارتی شکلوں میں جاری رہا تھا۔

تاریخی جائزہ

1948ء کا حیدرآباد ایک ایسے دور کی تصویر پیش کرتا ہے جب برصغیر ایک نئے سیاسی نقشے میں داخل ہورہا تھا۔ برطانوی اقتدار ختم ہوچکا تھا، مگر اس کے ساتھ وابستہ سیاسی ڈھانچے، شاہی ریاستیں، سرحدی مسائل اور مختلف قومیتی و مذہبی شناختیں ابھی اپنے نئے مقام کی تلاش میں تھیں۔

حیدرآباد کے معاملے میں تین بڑے سوال ایک ساتھ سامنے آئے۔ پہلا سوال یہ تھا کہ ایک شاہی ریاست آزادی کے بعد اپنی سابق حیثیت کو کس حد تک برقرار رکھ سکتی ہے۔ دوسرا سوال یہ تھا کہ کسی ریاست کے مستقبل کا فیصلہ صرف اس کے حکمران کے ذریعے ہونا چاہیے یا وہاں کے عوام، جغرافیہ اور سیاسی حالات کو بھی برابر اہمیت دی جانی چاہیے۔ تیسرا سوال یہ تھا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوجائیں اور داخلی و سرحدی حالات مسلسل خراب ہوتے جائیں تو مرکزی حکومت کے پاس فوجی اقدام کے علاوہ کون سے راستے باقی رہ جاتے ہیں۔

حکومتِ ہند نے ان سوالات کے اپنے جوابات دیے۔ نظام اور حیدرآباد کے نمائندوں نے ان کے مقابل اپنا سیاسی و قانونی مؤقف پیش کیا۔ اقوام متحدہ بھی اس تنازع کا ایک مرحلہ بنا، مگر اس سے پہلے کہ عالمی سفارتی عمل کسی حتمی نتیجے تک پہنچتا، زمینی حالات نے فیصلہ بدل دیا۔

آپریشن پولو 1948ء ہندوستان اور حیدرآباد کی تاریخ کا ایک فیصلہ کن واقعہ تھا۔ اس کے نتیجے میں حیدرآباد کی سابق شاہی سیاسی حیثیت کا خاتمہ ہوا اور ریاست ہندوستانی یونین کے انتظامی و آئینی ڈھانچے میں شامل ہونے کے راستے پر آگئی۔

لیکن اس واقعے کی اہمیت صرف سیاسی انضمام تک محدود نہیں۔ اس کے پس منظر میں شاہی ریاستوں کا مستقبل، نظام کی خودمختاری کی خواہش، شمولیتِ ہند تحریک، معاہدۂ تعطل، مجلسِ اتحاد المسلمین اور رضاکاروں کی سرگرمیاں، تلنگانہ کی کسان تحریک، ہندوستانی حکومت کی سفارتی کوششیں، اقوام متحدہ میں حیدرآباد کی شکایت اور آخرکار فوجی کارروائی سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے۔

13 ستمبر سے شروع ہونے والی فوجی کارروائی چند دنوں میں اپنے فیصلہ کن مرحلے تک پہنچ گئی، اور 17 ستمبر کو حیدرآباد کی سیاسی صورتِ حال بنیادی طور پر تبدیل ہوگئی۔ 18 ستمبر کو نہرو کے خطاب سے بھی واضح ہوتا ہے کہ حکومتِ ہند کے سامنے اگلا بڑا چیلنج صرف فوجی کامیابی نہیں بلکہ امن، انتظام، سیاسی استحکام اور تمام شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانا تھا۔

اسی طرح بعد کے مہینوں میں مسلمانوں کے خلاف ہونے والے تشدد اور انسانی نقصانات نے اس واقعے کے ایک ایسے پہلو کو سامنے لایا جسے کسی بھی سنجیدہ تاریخی مطالعے میں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ سندر لال اور دیگر افراد کے جائزوں، نہرو کے خطوط اور بعد کے سرکاری و غیر سرکاری ریکارڈ سے معلوم ہوتا ہے کہ انضمام کے بعد امن و امان کی بحالی بھی ایک بڑا مسئلہ تھا۔

اس لیے 1948ء کا حیدرآباد نہ صرف ایک فوجی آپریشن کی داستان ہے اور نہ صرف ایک سیاسی انضمام کی۔ یہ برصغیر کی تقسیم کے بعد نئی ریاست کی تشکیل، شاہی اقتدار کے خاتمے، عوامی سیاست کے ابھار، مذہبی و سیاسی کشمکش، ریاستی طاقت کے استعمال اور انسانی المیے—ان سب کو ایک ہی تاریخی منظرنامے میں دیکھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

حیدرآباد کا انضمام ہندوستانی ریاست کے استحکام اور سیاسی وحدت کی تاریخ میں ایک اہم موڑ تھا، لیکن اس کی مکمل تاریخی تفہیم اسی وقت ممکن ہے جب اس کے سیاسی، قانونی، فوجی، سماجی، مذہبی اور انسانی تمام پہلوؤں کو ایک ساتھ دیکھا جائے۔ یہی جامع نقطۂ نظر 1948ء کے حیدرآباد کو محض ایک واقعے کے بجائے برصغیر کی جدید تاریخ کے ایک پیچیدہ اور فیصلہ کن باب کے طور پر سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔