از:- عادل فراز
adilfarazlko@gmail.com
سہارن پور کلکٹریٹ میں واقع قدیم تاریخی مسجد کا انہدام مسلمانوں کے لیے پہلی خطرے کی گھنٹی نہیں، اس سے پہلے بھی لاتعداد مسجدوں، مزاروں اور مدرسوں پر بلڈوزر چل چکے ہیں۔ نریندر مودی کی حکومت انگریزوں کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ انگریزوں نے 1857ء کی بغاوت کو کچلنے کے بعد جو آمرانہ رویہ مسلمانوں کے خلاف روارکھاتھانریندر مودی حکومت اسی راستے پر گامزن ہے ۔رفیق ذکریا نے ایک جگہ لکھا ہے کہ: ’’1857ء کی بغاوت کو کچلنے کے بعد انگریزوں نے مسلمانوں کے وقار کو پامال کرنے کے کئی منصوبے بنائے۔ برطانوی عہدیداروں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت اس قدر بڑھ گئی کہ کئی انگریز افسر اس خیال کی پُرزور حمایت کرنے لگے کہ دہلی کی جامع مسجد کو منہدم کردیا جائے تاکہ مسلمانوں پر یہ واضح ہوجائے کہ ان کا وقار کس حد تک مجروح ہوچکا ہے۔ گورنر جنرل نے تو یہاں تک تجویز رکھ دی تھی کہ آگرہ کا تاج محل منہدم کردیا جائے اور سنگ مرمر کی سلوں کو فروخت کردیا جائے۔‘‘انگریز تو بوجوہ اپنی ان پالیسیوں پر عمل نہیں کرسکے، مگر انگریزوں کے وفادار آج ان کے منصوبے کو عملی جامہ پہنا رہے ہیں۔ ہندوستان میں نریندر مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد مسلسل مسلمانوں کے وقار کو پامال کیا جارہا ہے۔ چونکہ مودی بی جے پی کے رکن کی حیثیت سے اقتدار میں نہیں آئے تھے، بلکہ انہیں سنگھ کے رکن کی حیثیت سے وزیر اعظم کا عہدہ ملا تھا، اس لئے وہ سنگھ کی پالیسیوں پر آج تک عمل پیرا ہیں۔ ہندوستان میں بی جے پی نام کی سیاسی جماعت ضرور موجود ہے، مگر دراصل اس کے نام پر سنگھ اقتدار میں ہے۔چونکہ سنگھ ہمیشہ انگریزوں کی وفادار تنظیم رہی، لہٰذا آج ہندوستان میں اقلیتوں کے ساتھ جو رویہ اپنایا جارہا ہے، اس کی زمین انگریزوں نے ہی تیار کی تھی۔ انگریزوں نے یہ منشور دیا تھا کہ اگر کسی قوم کا وقار پامال کرنا ہو تو اس کے وقار کی علامتوں کو زمین بوس کردیا جائے۔ آزادی کے بعد سنگھ مسلسل بابری مسجد کے انہدام کے ذریعہ مسلمانوں کو کچلنے کی فکر میں تھا۔ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ء کو مسجد گرادی گئی، لیکن اس کی جگہ مندر تعمیر نہیں ہوسکا۔ گویا جمہوریت میں مسلمانوں پر زمین تو تنگ کردی گئی، مگر ان کے وقار کو حالت نزع میں چھوڑ دیا گیا۔اس غیر آئینی اقدام کو عدالت عظمیٰ نے آئینی جواز فراہم کیاجس میں جسٹس رنجن گوگوئی نے نمایاں کردار اداکرکے اپنے ضمیر کی عدالت میں مجرم بن گئے ۔
9نومبر 2019ء کو عدالت عظمیٰ نے بابری مسجد پر اپنا فیصلہ سنایا۔ اس فیصلے میں تاریخی شواہد کو نظر انداز کرکے ’آستھا‘ کی بنیاد پر مسجد کی زمین ہندوؤں کے حوالے کردی گئی۔ مسلمان عدالت عظمیٰ کے فیصلے سے پہلے ایک اچھے شہری کی طرح کہتے رہے کہ انہیں عدالت کا فیصلہ قبول ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ عدالت کے فیصلے پر اتنا اعتبار کیوں کیا گیا؟ عدالتیں تو ہمیشہ ریاست کے زیر اثر ہوتی ہیں۔ عدالت عظمیٰ کا فیصلہ ’آستھا‘ کی بنیاد پر تھا۔ اس فیصلے کے مطالعے کے بعد مسلمانوں کو مزاحمت کرنی چاہیے تھی، مگر مسلم قیادت، جسے دہلی بلاکر پہلے ہی رام کرلیا گیا تھا، مہر بہ لب رہی۔بابری مسجد کے فیصلے کو بغیر مزاحمت کے قبول کرنے کا نتیجہ آج سب کے سامنے ہے ۔مسلمانوں کی خاموشی نے سنگھ کو یہ باورکرادیاکہ مسلمان یا توخوف زدہ ہے یا اس کی قوت عمل شل ہوچکی ہے۔
بابری مسجد کے بعد مسلمانوں کے تشخص اور ان کی عبادت گاہوں پر منظم حملے شروع ہوگئے ۔خوف زدہ کرنے اور کچلنے کی نئی حکمت عملی اختیار کی گئی ۔عدالتوں نے انصاف کو بالائے طاق رکھ دیا۔پولیس پہلے بھی یک طرفہ کاروائی کرتی تھی مگر اب زیادہ جانب دار نظر آنے لگی ۔سرکار نے کانوں میں انگلیاں ڈال لیں ۔شرپسند شاہراہوں پر دندناتے گھومنے لگے ۔ نہ سڑکیں محفوظ رہ گئیں اور نہ پبلک ٹرانسپورٹ۔فرضی انکائونٹر تو پہلے بھی ہوتے تھے مگر باقاعدہ اس سلسلے کو آگے بڑھایاگیا۔رام نومی جیسے تیوہاروں میں مسلمانوں کے محلوں اور مسجدوں کے سامنے ہڑدنگ مچایاجانے لگا۔مسجدوں پر بھگواجھنڈ ے لہرائے گئے ۔کانوڑ یاترا کے نام پر مسلمانوں کے اقتصادی بائیکاٹ کی اپیلیں جاری کی گئیں ۔دھرم سنسد میں مسلمانوں کی نسل کشی کے نعرے لگے ۔اس ناگفتہ بہ صور ت حال پر عدلیہ خاموش تماشائی بنی رہی ۔مسجدوں پر بلڈوزر چلتے رہے مگر کوئی منصفانہ آواز نہیں اٹھی ۔ جب کہ عدالت عظمیٰ نے بابری مسجد کے فیصلے میں یہ بھی کہا تھا: ’’عبادت گاہوں سے متعلق ایسا کوئی تنازع زیر سماعت نہیں لایا جائے گا اور نہ ہی انہیں دوبارہ کھولا جائے گا۔‘‘ مگر عدالت عظمیٰ کی یہ یقین دہانی فریب ثابت ہوئی۔ مسلم قیادت میں اتنی بھی جرأت نہیں رہی کہ وہ عدالت عظمیٰ سے اس کے فیصلے پر سوال کرسکے۔جس ملک میں عدالت عظمیٰ کی زبان کی اہمیت نہ ہووہاں انصاف کی توقع کیسے کی جاسکتی ہے ۔ہندوستان میں مسلسل عبادت گاہوں کے قانون کو توڑا گیا، مگر کبھی عدالت عظمیٰ نے از خود نوٹس نہیں لیا۔ جب بعض معاملات میں ہم نے عدالت عظمیٰ کو از خود نوٹس لیتے ہوئے دیکھاہے۔ اگر عدالتیں منصف اور ملک سے مخلص ہوتیں تو نوبت سہارن پور کی مسجد کے انہدام تک نہیں پہنچتی۔سہارن پور کی مسجد کا انہدام محض ایک مسجد کا انہدام نہیں ہے؛ یہ اس پورے سلسلے کی ایک اور کڑی ہے جس میں مسلمانوں کے مذہبی تشخص، سماجی وقار اور تاریخی ورثے کو مسلسل نشانہ بنایا جارہا ہے۔ مساجد اور مدارس کے خلاف یہ سلسلہ ابھی یہیں رکنے والا نہیں ہے۔ جب تک مسلمان مزاحمت نہیں کرے گا، ان کے وقار کو پامال کرنے کا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔
مزاحمت کے لئے مسلمانوں کو اپنی حکمت عملی بدلنی ہوگی۔ انہیں دفاعی انداز چھوڑنا ہوگا۔ اگر قدیم مساجد اور مزاروں کے خلاف عدالتوں میں اپیلیں دائر کی جارہی ہیں تو مسلمان اس بارے میں پیچھے کیوں ہے؟ سرکاری زمینوں پر تو سینکڑوں مندر بھی بنے ہوئے ہیں۔ حتیٰ کہ وہ اوقاف کی زمینیں جو وقف بورڈ میں رجسٹرڈ ہیں، ان پر بھی مندر بنے ہوئے ہیں۔ پولیس تھانوں سے لے کر عدالتی احاطوں میں غیر مسلموں کی عبادت گاہیں موجود ہیں۔ مسلمانوں کو ان کے خلاف عدالت سے مراجعہ کرنا چاہیے۔ جن بنیادوں پر مسجدیں اور مزار منہدم ہورہے ہیں، انہیں بنیادوں پر دوسری عبادت گاہوں کے وجود پر سوال اٹھایا جاسکتا ہے۔اس کے لئے مستقل کمیٹیاں اور قانونی ماہرین کا ایک سیل ہونا چاہیے۔ مسلمانوں کو غیر ضروری جگہوں پر چندے دینے کے بجائے ایسی کمیٹیوں اور قانونی ماہرین کی مدد کرنی چاہیے۔ عدالتوں کی غیر منصفانہ روش کے خلاف کھل کر آواز اٹھانی ہوگی تاکہ بین الاقوامی سطح پر ہندوستانی عدلیہ کا چہرہ بے نقاب ہوسکے۔ جب تک عدالتوں کے جانبدارانہ رویے اور ان کے غیر منصفانہ اقدامات پر سوال نہیں اٹھائے جائیں گے، تب تک یہ سلسلہ نہیں تھمے گا۔ ظاہر ہے یہ راہ آسان نہیں ہے، لیکن اس کے بغیر چارہ بھی نہیں ہے۔اگر مسلمانوں نے اس وقت مزاحمت اور بیداری کا راستہ اختیار نہیں کیا تو آئندہ ان کی ناموس بھی محفوظ نہیں رہے گی۔ اگر انہیں اپنی بہو بیٹیوں کے حجاب نوچنے کا انتظار ہے تو الگ بات ہے۔ یاد رکھیے، مزاحمت کا مطلب ہرگز تصادم نہیں ہے۔ لیکن ناانصافی کے خلاف اور اپنے حقوق کی بازیابی کے لئے آواز اٹھانا ہی زندگی کی علامت ہے۔
بابری مسجد کے فیصلے کے خلاف اگر مزاحمت ہوتی تو نوبت یہاں تک نہیں پہنچتی ۔سہارن پور کے بعد فرقہ پرستوں کے نشانے پربے شمار عبادت گاہیں اور عمارتیں ہیں ۔اس لئے مزاحمت ضروری ہے ورنہ آئے دن عدالتی سرپرستی میں مذہبی عمارتیں مسمار ہوتی رہیں گی ۔اس بارے میں قیادت کو بھی اپنا احتساب کرناہوگا۔ان کی مصلحت پسندانہ روش نے آج یہ دن دکھلائے ہیں ۔انہیں سنگھ کی چوکھٹ چومنے سے کیاحاصل ہوا،نہیں معلوم ۔علماء کو چاہیے کہ اگر انہیں قیادت کا شوق ہے تو مخلصانہ جدوجہد کریں۔شرعی رقومات اور اداروں میں شفافیت کو جگہ دیں ۔مسلمانوں کی فلاح وترقی کے لئے شرعی رقم ہی کافی ہےبشرطیکہ اس کاشفاف استعمال ہو ۔خاص طورپر موجودہ ناگفتہ بہ صور تحال میں شرعی رقم کے ذریعہ مسائل کا تصفیہ کیاجائے ۔البتہ علماء کی قیادت سے ہمیں ہمیشہ ہی اختلاف رہاہے ۔ قیادت خلا میں نہیں بنتی ۔اُسے اپنے درمیان تلاش کرناہوگا۔جب تک قیادت کھڑی نہیں کریں گے ،مسائل کاحل ممکن نہیں!