تبصرہ نگار:- بدالعلیم الاعظمی
"عہد غالب کے چند نامور " ڈاکٹر محمد مشتاق تجاروی کے مضامین و مقالات کا مجموعہ ہے، جس میں عہد غالب کی 13/ شخصیات کی زندگی سے بحث کی گئی ہے، ان مضامین کے ذریعہ غالب کی شخصیت کو جاننے اور ان کے ماحول اور اس دور کے معاشرے کو سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ مضامین پہلے ہی ملک کے معیاری رسائل و جرائد میں شائع ہوکر اہل علم ؛ بالخصوص غالیبات سے دلچسپی رکھنے والوں کی توجہ کو مرکز بن چکے ہیں۔
عہد غالب ہندوستان کی تاریخ کا ایک اہم دور رہا ہے بقول مصنف :
"مرزا غالب ایک ایسا نام ہے جو اس صدی کی تمام شخصیات، تحریکات ، ادبیات کے تناظر، تخلیقی سفر کے مطالعے اور تہذیبی روایات کے لیے حوالے کا کام کرتا ہے، اس دور کی بہت سی شخصیات تو ایسی ہیں کہ اب ان کی شناخت بھی غالب کے حوالے سے ہی کی جاتی ہے، ان کی ذاتی حیثیت ختم ہو گئی ہے۔ یوں کہہ سکتے ہیں کہ مرزا غالب کا نام ایک ایسا بڑا حوالہ ہے جس کے وجود سے پوری انیسویں صدی کے برصغیر کی بازیافت کی جاسکتی ہے اور عہد غلامی کی اس تاریک صدی -میں روشنی کی رمق دیکھی جا سکتی ہے۔”
کتاب میں درج ذیل شخصیات کے احوال و کوائف اور غالب سے ان کے نجی تعلقات سے بحث کی گئی ہے:
-
1۔ اعتماد الدولہ نواب میر حامد علی خاں
( نواب میر حامد علی خاں کے بارے میں سید نظر حسنین نے لکھا ہے کہ وہ علم دوست اور علما نواز تھے، طبیعت میں صلہ رحمی کا جذبہ تھا۔ مخیر اور غریب پرور تھے، وضع کے پابند تھے”
-
2 ۔ ارسطو جاہ مولوی سید رجب علی خاں
(مولوی سیدر جب علی خاں اپنے علم و فضل اور تحریر و تقریر کی نمایاں صلاحیتوں کے باوجود ذاتی طور پر بہت اچھا کردار پیش نہ کر سکے، انھوں نے پنجاب کی سکھ حکومت اور دہلی کی مغل حکومت کو ختم کرانے میں انگریزوں کا ساتھ دیا، دیکھا جائے تو انگریزوں کی حمایت میں وہ میر جعفر اور میر صادق سے کم نہیں تھے، بنگال میں میر جعفر نے جو کام نواب سراج الدولہ کے خلاف کیا اور میسور میں میر صادق نے شیر میسور کے ساتھ کیا ، وہی کام ارسطو جاہ مولوی سیدر جب علی خاں نے سلطان دہلی ، بہادر شاہ ظفر کے ساتھ کیا۔)
-
3۔ نواب مصطفی خاں شیفتہ
( نواب مصطفیٰ خاں اور مرزا غالب کی دوستی کا آغاز دہلی میں ہوا۔ ظاہری طور پر دونوں کے مقام و مرتبہ اور احوال میں بھی یکسانیت تھی اور دونوں کا اولین شوق علم و دانش اور شعر وسخن کا ذوق تھا۔ اس لیے دونوں کے درمیان اتحاد و یگانگت کا ہونا فطری بات تھی ۔ اسی طرح اس زمانے کے امراء ورؤسا کے شوق بھی دونوں کے درمیان میں ایک جیسے ہی تھے، فرق یہ ہے کہ نواب مصطفیٰ خاں نے عین عالم شباب میں توبہ کرلی اور مرزا غالب کے شوق عمت کے ایک طویل عرصے تک جاری رہے۔ )
-
4۔ بدرالدین علی خاں مہرکن
( بدرالدین علی خاں مہر کن عہد غالب کے نامور خطاط اور بے نظیر مہر کن تھے۔ مہر کنی میں ان کی شہرت دور دور تک پھیلی ہوئی تھی۔ بہادر شاہ ظفر، ملکہ انگلستان، نواب گورنر جنرل یعنی ہندوستان میں ایسٹ انڈیا کمپنی کا سر براہ اور اس زمانے کے سبھی بڑے اور معروف لوگ اپنی مہریں انہی سے بنوایا کرتے تھے۔ مرزا غالب بھی اپنی اور اپنے احباب کی مہریں انہی سے بنوایا کرتے تھے۔ مرزا نے اپنے خطوط میں متعدد جگہ ان کی تعریف و توصیف کی ہے۔)
-
5۔ مرزا عباد اللہ بیگ
(مرزا اسد اللہ خاں غالب نے جن خوش نویسوں اور خطاطوں کا تذکرہ اپنے خطوط میں کیا ہے، ان میں مرزا عباداللہ بیگ بھی شامل ہیں۔ )
-
6۔ مختار الدولہ ناظر وحیدالدین احمد خاں
( اپنے دور کی معروف ہستیوں میں شامل تھے۔ دنیاوی وجاہت اور شان و شوکت میں وہ اپنے زمانے کے صف اول کے لوگوں میں تھے۔ مرزا غالب سے بھی ان کے روابط تھے۔ )
-
7۔ اصغر علی خاں نسیم دہلوی
( حکیم مومن کے شاگرد تھے، دہلی کے بڑے شاعروں میں شمار ہوتے تھے اور دبستان دہلی کے نمائندہ شاعر تھے۔ انھوں نے کم و بیش 50 برس دہلی میں بسر کیے، 1845 کے بعد وہ کسی وقت لکھنو چلے گئے اور لکھنو میں ہی بود و باش اختیار کرلی ۔ انھوں نے لکھنو میں ایسے طرزِ شاعری کی بنیا د رکھی جو دبستان دہلی و دبستان لکھنو کے محاسن کا جامع تھا۔)
-
8۔ قاضی محمد عنایت حسین رشکی
( یہ مضمون رشکی کی بیاض کے متعلق ہے۔ ” رشکی کی حیات و شاعری کے مطالعہ کے لیے اس کتاب کی بڑی اہمیت ہے۔ رشکی کے کلام میں متعدد اہم اشعار موجود ہیں اور کہیں کہیں تو ایسا منفرد رنگ نظر آتا ہے کہ طبیعت پھڑک اٹھتی ہے۔ شمس بدایونی نے ان کے اشعار کا ایک اچھا انتخاب کیا ہے تاہم ابھی تشنگی ہے، ایک شاعر کا جیسا تعارف ہونا چاہیے رشکی کی شخصیت ابھی اس کی منتظر ہے اور اس کی بھی ضرورت ہے کہ ان کے دیوان کو مکمل شائع کیا جائے۔”)
-
9۔ شیخ اشرف علی اشرف
(اشرف اردو فارسی دونوں زبانوں میں شعر کہتے تھے، شاعری میں ان کو غزل گوئی سے خاص مناسبت تھی حسن و عشق کے مضامین کو بڑے نادر اسلوب میں باندھا کرتے تھے۔ انھوں نے غزل میں روایتی زبان و انداز کے علاوہ تلمیحات کا برمحل استعمال کیا ہے اور محاورات کا ایسا بر جستہ اور نیا مفہوم اپنی غزلوں میں باندھا ہے کہ بے ساختہ قاری کے دل کو چھو لیتا ہے۔)
-
10۔ میر پنجہ کش دہلوی
( مولانا اختر الدین شاغل نے لکھا ہے کہ ہندوستان میں سلطنت مغلیہ کے آخری تاجدار بہادر شاہ ظفر تھے تو اقلیم خطاطی کے آخری تاجدار میر پنجہ کش دہلوی تھے)
-
11۔ مرزا اسفند یار بیگ دہلوی
( زیر مطالعہ اسفند یار بیگ دہلی کے باشندے تھے اور حیدرآباد میں رہے۔ 1890 کے قریب وہیں ان کا انتقال ہوا اور نسیم مرزا کی روایت کے مطابق صاحب اولاد بھی تھے، جب کہ دیوان الور اسفند یار بیگ کے اولاد نہیں تھی۔ انھوں نے کسی کو متبنی بنا لیا تھا ، اس نے ریاست الور میں پرورش کا مقدمہ دائر کیا تھا جس کا تذکرہ مرزا غالب نے اپنے بعض خطوط میں کیا ہے۔)
-
12۔ شاہ فدا حسین
(شاہ فدا حسین روزہ نماز سے بے نیاز ، بدن پر بھبوت ملے رہتے تھے، ستر عورت کے نام پر ایک لنگوٹی لگائے رکھتے ، چار ابرو ( داڑھی ، مونچھ ، سر اور بھوں ) کا صفایا کرتے تھے، حد درجہ خلوت پسند تھے، لوگوں سے میل جول نہیں رکھتے تھے، اکثر اپنے حجرے میں بند رہتے. سیرت فریدیہ میں ان کا تذکرہ کرتے ہوئے جو زبان استعمال کی گئی ہے اس کو نقل کرتے ہوئے انگشت شہادت لرزتی ہے اور صریر خامہ فرط ادب سے گم کردہ ہوش ہوجاتی ہے، اس کو نقل کرنا اس لیے ضروری ہے کہ اُس قعر مذلت کا اندازہ ہو جہاں یہ لوگ گر چکے تھے۔)
-
13 غوث علی شاہ پانی پتی
( غوث علی شاہ نے اس طویل سیاحت میں شمالی ہند کا کونہ کونہ چھان مارا۔ شمالی ہند کا شاید ہی کوئی قابلِ ذکر شہر ہو جہاں حضرت غوث علی شاہ نہ گئے ہوں اور ایسی کوئی قابل ذکر شخصیت بھی مشکل سے ملے گی جن تک رسائی آسان ہو اور حضرت نے ان سے ملاقات نہ کی ہو۔ وہ خود صاحب نسبت صوفی تھے اس لیے صوفیاء کرام سے ملاقات کرنا اور خانقاہوں میں قیام کرنا سمجھ میں آتا ہے لیکن ان کے روابط ہر قسم کے لوگوں سے تھے ۔ ادباء ، شعراء اور سرکاری حکام ، رند مشرب، زید پیکر غرض ہر طرح کے لوگوں سے ملاقات کی اور ان کی خوبیوں کی ستائش حضرت کا شیوہ تھا۔)
کتاب کے مصنف ڈاکٹر محمد مشتاق تجاروی جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی میں شعبہ اسلامک اسٹڈیز میں ایسوسیٹ پروفیسر ہیں، کئی علمی اور ادبی کتابوں کے مصنف ہیں، غالبیات کے حوالے سے یہ دوسری کتاب ہے، اس سے قبل "غالب اور الور ” شائع ہوچکی ہے۔ ڈاکٹر تجاروی کی نثر آسان، سہل مگر سلیس اور رواں ہوتی ہے۔ زیر نظر مضامین بہت ہی محنت اور تحقیق سے لکھے گئے ہیں، ان میں جہاں ایک طرف ان شخصیات کے مخفی پہلو اجاگر ہوتے ہیں، بعض شخصیتوں کو گمنامی سے نکالا گیا ہے، وہیں غالب اور عہد غالب کے حوالے سے کئی اہم پہلو بھی ہویدا ہوتے ہیں؛ یہی وجہ ہے کہ بعض مضامین کو ماخذ کی حیثیت سے غالیبات کے ماہرین نے بھی اپنی تحقیق میں استعمال کیا ہے۔ فاضل مصنف لکھتے ہیں :
"مذکورہ مقالات کے حوالے سے ایک بات یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ غالبیات کے ماہرین نے ان میں سے کئی مقالات کو بڑی اہمیت دی ہے، اپنی تحقیقات میں ان کے حوالے دیے ہیں اور بعض مقالات کی روشنی میں تحقیق کے کارواں کو آگے بڑھایا ہے، میرے لیے بڑے اعزاز کی بات ہے کہ پروفیسر نثار احمد فاروقی جیسے عظیم محقق نے ان میں سے ایک مقالہ یعنی بدرالدین علی خاں کی اہمیت کا اعتراف کیا ہے اور اپنی تحقیق کی بنیاد میرے مقالے پر رکھی ہے اور واضح الفاظ میں اس کا اعتراف کیا۔ دیگر مقالات کو بھی کئی ماہرین غالبیات نے نظر تحسین سے دیکھا ہے اور اپنی تحقیقات میں ان کے حوالے دیے ہیں۔ یہاں سب کی تفصیل میں جانے کا موقع نہیں ہے۔”
کتاب 168 صفحات پر مشتمل ہے۔ اسے غالب انسٹی ٹیوٹ نئی دہلی نے شائع کیا ہے۔