شہر بھبھوا میں تنظیم امارت ضلع کیمور کے عہدہ داران و ارکان کی خصوصی میٹنگ اور اسناد کی تقسیم
ملت اسلامیہ ایک امت ایک جماعت کی حیثیت سے برپا کی گئی ہے ،پوری اسلامی تعلیمات میں جماعتی نظام کی اہمیت اس کی برکت اور اس کی قوت کو مختلف پہلوؤں سے اُجاگر کیا گیا ہے ،دنیا کی قوموں کی تاریخ اور خود اسلام کی لمبی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ عزت و سربلندی اور فلاح و کامیابی ہمیشہ جماعتی قوت اور آپسی اتحاد کی برکت سے نصیب ہوئی ہے اور جب بھی ملت آپسی انتشار ،باہمی خلفشار اور منافقانہ راہ پر چلی ہے ہمیشہ ذلت و رسوائی اور ناکامی و نامرادی اس کا مقدر بنی ہے ،قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے وحدت کی ایک رسیِّ کو مضبوطی سے تھامنے آپشی انتشار سے بچنے اور ایک امت اور ایک جماعت بن کر زندگی گذارنے کی واضح ہدایت دی ہے ،حدیث پاک میں ملت اسلامیہ کو ایک جسم کے مانند قرار دیا گیا ہے اور بتایا گیا کہ اس کی اصل تصویر یہی ہے کہ جس طرح جسم کا ہر عضو ایک دوسرے سے مربوط اور ایک دوسرے کے دُکھ سُکھ میں شامل ہے ،جب تک یہی کیفیت ملت کے جماعتی وجود پر طاری نہ ہو اس وقت تک نہ نصرت خداوندی میسر آسکتی ہے اور نہ ہی یہ جماعتی وجود خدا اور رسول کی نگاہ میں معتبر ہو سکتا ہے ،اس لئے ضرورت ہے کہ موجودہ بدلتے ہوئے حالات میں ملت کے علماء و ائمہ ،سماجی نمائندگان، مؤثر شخصیات اور دینی و ملی تنظیمات و تحریکات کے علمبرداران اپنے وسائل و صلاحیت کے مطابق تنظیم ملت اور ہر سطح پر آپسی اتحاد کو مستحکم بنانے پر توجہ دیں ،اس وقت یہ ملت جن جن ناکامیوں سے دوچار ہے اور جس طرح دنیا کی نگاہوںمیں بے وزن ہو رہی ہے اس کی واحد وجہ آپسی انتشار ،اتحاد کا فقدان اور ایک دوسرے کے تعاون سے کنارہ کشی ہے ،علامہ اقبال ؒ نے وحدت و محبت کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کیا ہی خوب کہا تھا کہ؎
فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں
امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ پھلواری شریف پٹنہ جس کو ملت کے ممتاز اکابر نے تنظیم ملت کے اسی بڑے مقصد اور وحدت کلمہ کی بنیاد پر ایسے ہی جماعتی نظام کے قیام کے لئے قائم کیا تھا ،بحمداللہ اس کے سائے میں شب و روز ایسی کوششوں کا سلسلہ جاری ہے ،اتحاد و اتفاق کا عمومی شعور ملت میں عام کرنے کے ساتھ امارت کے زیر انتظام قائم شعبۂ تنظیم کے ذریعہ بہار ،اڈیشہ و جھارکھنڈ کی مسلم آبادیوں کو ایک امیر شریعت کے ماتحت متحد رکھنے اور گاؤں سے لے کر صوبہ تک ایک تنظیمی کڑی میں مربوط رکھنے کی ہر ممکن کوشش جاری و ساری ہے ،ان خیالات کا اظہار نائب ناظم امارت شرعیہ جناب مولانا مفتی محمد سہراب ندوی قاسمی صاحب انچارج شعبۂ تبلیغ و تنظیم نے آج مورخہ ۲۰؍ستمبر ۲۰۲۶ء کو شہر بھبھوا میں واقع جامع مسجد مدرسہ قاسم العلوم میں منعقد تنظیم امارت ضلع کیمور کے عہدہ داران و ارکان کو خطاب کرتے ہوئے کیا ، انہوں نے کہا کہ گذشتہ ۹؍ مئی کو اسی شہر بھبھوا میں امیر شریعت مفکر ملت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی مدظلہ کی صدارت میں پورے بھبھوا ضلع کی مسلم آبادیوں میں تنظیم امارت کے قیام اور نقباء و نائبین کی نامزدگی کے بعد ضلع کے نقباء کا تربتی اجلاس منعقد ہوا تھا ،اس موقع پر بلاک اور ضلع کی کمیٹیوں کے لئے نام پیش ہوئے تھے اور اس کی مجوزہ فہرست بھی تیار ہوئی تھی ،اب اس کو حتمی شکل دینے کے بعد حضرت امیر شریعت مدظلہ کی ہدایت اور ناظم امارت شرعیہ جناب مولانا مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی صاحب کے مشورہ سے یہ خصوصی میٹنگ منعقد ہوئی ہے ، جس میں آپ تمام ضلع و بلاک کمیٹیوں کے ذمہ داران و ارکان کو حضرت امیر شریعت مدظلہ کی طرف سے جاری کردہ سند دی جارہی ہے اور بحیثیت عہد ہ دار یا رکن آپ کو چند اہم تنظیمی ذمہ داریاں سپرد کی جارہی ہیں ،اس سند کے حصول کے بعد آپ اپنے ضلع و بلاک میں امارت شرعیہ کے ترجمان اور حضرت امیر شریعت کے نمائندہ ہیں آپ کی پہلی ذمہ داری ہے کہ آپ خود شریعت کے پابندرہیں اور دوسروںکو بھی شریعت کا پابند رہنے کی تلقین کرتے رہیں ،سماج میں آپسی اتحاد کو مضبوط بنائیں ، ذات برادری اور مسلک و مشرب کی بنیاد پر پیدا ہونے والی ہر تفریق کو ختم کریں ،معاشرتی خرابیوں خاص طور پر تلک جہیز اور نشہ خوری ،سودی لین دین اور شادی بیاہ کی فضول خرچی جیسی چیزوںکو روکنے کی کوشش کریں ،امارت شرعیہ جو ایک ایمانی فکر اور اسلامی منہج کا نام ہے اس فکر کو لوگوں میں عام کرنے اور ایک امیر شریعت کی ماتحتی میں سمع و طاعت کے ساتھ زندگی گذارنے کی تلقین کریں ،انسانیت کی خدمت کو عبادت سمجھیں اور جب کوئی اللہ کی مخلوق پریشانیوں میں مبتلا ہو تو ہر ممکن اس کی مدد کے لئے آگے بڑھیں اور تنظیمی ڈھانچہ کو زیادہ سے زیادہ مضبوط بنائے رکھنے کی فکر کریں۔
اس موقع پر میٹنگ کو خطاب کرتے ہوئے امارت شرعیہ کے معاون ناظم جناب مولانا قمر انیس قاسمی صاحب نے امارت شرعیہ کے نظام کی عظمت موجودہ وقت میں اس کی خدمات کے بڑھتے دائرہ کار ،امراء شریعت کے علمی و فکر ی مقام اور امارت شرعیہ کے مختلف شعبوں سے انجام پانے والی خدمات کا تفصیلی تذکرہ کیا اور کہا کہ یہ نظام امارت جہاں ملک کے لئے اللہ کی رحمت ہے وہیں مسلمانوںکے لئے خدا کی طرف سے ایک عظیم نعمت ہے ، ضرورت ہے کہ اس ادارہ سے وابستگی کو سعادت سمجھتے ہوئے اس کی ترقی و استحکام میں بھرپور حصہ لیا جائے ،اس خصوصی میٹنگ میں محترم نائب ناظم صاحب اور معاون ناظم صاحب کے ہاتھوں ضلع و بلاک کے ذمہ داران و ارکان کو سند عطا کی گئی اور ہدایات و اختیارات پر مشتمل تحریر بھی پیش کی گئی ۔بحیثیت صدر ضلع کمیٹی جناب مولانا آفتاب قاسمی صاحب اور بحیثیت جنرل سکریٹری جناب عارف انصاری صاحب سند سے نوازے گئے ،اس کے علاوہ ضلع کے دیگر ۱۸؍ عہدہ داران و ذمہ دارن اور ۱۱؍ بلاک کے ۷۹ ؍ ذمہ داران وعہدہ داران کو سند دی گئی ،میٹنگ میں ضلع ہیڈ کوارٹر کے علاوہ تمام بلاک کے ذمہ داروں نے بڑے جوش و خرو ش سے شرکت کی اور اور سند کے حصول کے بعد نئے عزم و حوصلہ کے ساتھ ذمہ داریوں کوپورا کرنے کے عزم کا اظہار کیا ،یقین ہے کہ اس تنظیمی ڈھانچہ کے ذریعہ ضلع کیمور میں ملی بیداری کی نئی لہر محسوس کی جائے گی۔
اجلاس کا آغاز جناب قاری ارشد صاحب کی تلاوت کلا م پاک سے ہوا ،نعت پاک جناب حافظ ادیب الرحمن صاحب نے پیش کی ، ضلع صدر و سکریٹری نے شکریہ کے کلمات کہے ، جناب مولانا رفیع احمد ندوی صاحب مبلغ امارت شرعیہ نے میٹنگ کی نظامت کی ،مولانا اسعداللہ نیموی صاحب مبلغ امارت شرعیہ ،جناب قاری ارشاد صاحب ناظم مدرسہ قاسم العلوم اور مدرسہ کے اساتذہ و طلبہ نے انتظام کو سنبھالا ،اخیر میں صدر مجلس کی دعا پر میٹنگ اختتام پذیر ہوئی ۔