پھلواری شریف پٹنہ: طویل علالت کے بعد دارالعلوم ندوۃ العلماء کے مہتمم، انٹیگرل یونیورسٹی کے وائس چانسلر، استاد الاساتذہ بلکہ استادگر ،مجلہ البعث الاسلامی کے ایڈیٹر ،عربی زبان و ادب کے ماہر، وقت کی پابندی اس قدر کہ ان کے درسگاہ اور مسجد میں آنے جانے کو دیکھ کر لوگ گھڑی کے اوقات کو درست کر لیتے، مولانا ابوالحسن علی میاں ندوی، مولانا محمد رابع حسنی کے معتمد خاص، مولانا بلال حسنی کے مشیر خاص اور مشفق شخصیت مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی کا آج 7/ اکتوبر 2026ء بعد نماز ظہر انتقال ہو گیا ،یہ بڑا علمی سانحہ ہے، کہنا چاہیے کہ مولانا کے وصال سے ایک عہد کا خاتمہ ہو گیا۔جنازہ کی نماز 8/اکتوبر کو صبح 8بجے دارالعلوم ندوۃ العلماء کے احاطہ میں ادا کی جائے گی۔
مولانا سعید الرحمن اعظمی بن مولانا محمد ایوب اعظمی کی ولادت 14 مئی 1935 کو مؤناتھ بھنجن میں ہوئی، جو اب خود ایک ضلع ہے اس وقت یہ ضلع اعظم گڑھ کا ایک حصہ تھا، اسی اعتبار سے آپ اعظمی لکھا کرتے تھے، ان کا پورا خاندان علمی اعتبار سے قابل رشک تھا ،والد مولانا محمد ایوب صاحب بڑے عالم اور محدث تھے، مولانا کے بڑے بھائی حکیم عزیز الرحمن دارالعلوم ندوۃ العلماء کے طبیہ کالج میں استاد تھے، مولانا حبیب الرحمن اعظمی جو ہندوستان میں رجال حدیث کے بڑے ماہر اور مؤ والوں کی زبان میں بڑے مولانا کہے جاتے تھے، ان کے مشورہ سے ندوۃ العلماء کے عربی زبان و ادب میں تخصص کیا اور عربی زبان و ادب کے استاد کی حیثیت سے ان کی تقرری ندوۃ العلماء میں ہو گئی، 1985 میں انہوں نے عربی زبان و ادب کے ماہر ڈاکٹر تقی الدین ہلالی مراکشی سے بغداد میں جا کر استفادہ کیا ،1993 سے 1999ء تک دارالعلوم ندوۃ العلماء میں کلیۃ العربیہ وآدابھا کے معتمد رہے،2000 میں دارالعلوم ندوۃ العلماء کے مہتمم کی حیثیت سے صحت کی برقراری تک کام کیا اور تاحیات اس منصب پر فائز رہے، 1955 میں جب البعث الاسلامی نکلنا شروع ہوا تو مولانا محمد الحسنی کے ساتھ شریک ادارت رہے، 1979ء میں ان کی وفات کے بعد سے البحث الاسلامی کے مدیر اعلی رہے، انہوں نے پندرہ روزہ الرائد کے مدیر کی حیثیت سے بھی زمانہ دراز تک کام کیا ،انہوں نے کم و بیش 50 سال سے زائد دارالعلوم ندوۃ العلماء کی مسجد میں امامت و خطابت کے فرائض انجام دیے ، انہوں نے عالمی رابطہ اسلامی کے رکن ،دینی تعلیمی کونسل کے نائب صدر اور متعدد مدارس کے ناظم و سرپرست رہے،خطابت کے ساتھ تصنیف و تالیف کی بھی ان کے اندر غیر معمولی صلاحیت تھی، ان کی سات کتابیں عربی ،پانچ کتابیں اردو میں مطبوعہ ہیں اور مقبول و معروف ہیں، سات کتابوں کا انہوں نے اردو سے عربی میں ترجمہ کیا یہ کتابیں اردو میں حضرت شیخ زکریا کاندھلوی، مولانا امین اصلاحی، مولانا علی میاں ندوی، مولانا محمد منظور نعمانی اور مولانا مفتی محمد شفیع عثمانی کی ہیں، عربی زبان و ادب کی نمایاں اور قابل قدر خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے حکومت ہند نے انہیں صدر جمہوریہ ایوارڈ سے نوازا تھا، عرب دنیا میں ان کی خاص پکڑ تھی، البعث اور الرائد کے اداریے بہت مقبول تھے۔
مولانا کا درس اور تربیت کا انداز بڑا نرالا تھا،اصول کی پابندی ان کا طرہ امتیاز تھا ،وقت کی پابندی ان کی ضرب المثل تھی، وہ اکابر ندوۃ کے معتمد خاص تھے، عہدے کی طلب اور حرص ان کے اندر کبھی نہیں رہی، انہوں نے بڑی با فیض زندگی گزاری، دارالعلوم ندوۃ العلماء کے ساتھ ان کی عقیدت و محبت مثالی تھی، میری ملاقات بار بار رہی، وفاق المدارس اسلامیہ کے تدریب المعلمین کے پروگرام کے لیے انہوں نے اپنی ایک تحریر کی طرف رہنمائی کی تھی جو تدریب کے موقع سے پیش کی گئی اور میری کتاب "مدارس اسلامیہ منصب تدریس اور طریقہ تدریس” میں شامل ہے ،اللہ رب العزت حضرت کی مغفرت فرمائے اور درجات بلند کرے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرماکر دارالعلوم ندوۃ العلماء کو ان کا نعم البدل عطا فرمائے ۔فی الوقت بس اتنا ہی