ایک عہدِ علم و تربیت کا اختتام: حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ کی یاد میں

از:- سیّد جاوید احمد ندوی

جامعہ اسلامیہ ، مظفر پور ، اعظم گڑھ

حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ کے انتقال کی خبر نے دل کو ایک ایسے استاد کی جدائی کا احساس دلایا ہے جس کی شخصیت ہمارے لیے محض ایک استاذ یا دارالعلوم کے مہتمم کی حیثیت نہیں رکھتی تھی، بلکہ وہ علم، تربیت، نظم و ضبط اور ندوہ کی علمی روایت کی ایک جیتی جاگتی علامت تھے، ایک طویل عہد تک ان کی ذات دارالعلوم ندوۃ العلماء کے علمی و انتظامی منظرنامے سے اس طرح وابستہ رہی کہ آج ان کی وفات سے ایک فرد نہیں، ایک پورا عہد رخصت ہوتا محسوس ہو رہا ہے۔

حضرت کی سب سے نمایاں خصوصیت علم کے ساتھ عمل، تدریس کے ساتھ تربیت اور انتظام کے ساتھ احساسِ ذمہ داری تھی، ان کی کلاس میں داخل ہوتے ہی طالب علم کو علم کی عظمت اور استاد کی ہیبت دونوں کا احساس ہوتا تھا۔ وہ عبارت کی صحت، زبان کی نزاکت اور علمی دقت کے معاملے میں بے حد حساس تھے، عربی ادب، بلاغت اور اسلامی علوم کے دقیق مباحث کو نہایت توجہ اور انہماک سے پڑھاتے، ان کی تدریس کا اثر صرف کتاب کے صفحات تک محدود نہ رہتا، بلکہ طالب علم کی علمی ذوق، زبان اور فکری تربیت پر بھی پڑتا تھا۔

حضرت کی شخصیت کا ایک روشن پہلو ان کی عربی صحافت و ادب سے گہری وابستگی تھا۔

ماہنامہ البعث الإسلامي کے ساتھ ان کی طویل رفاقت اور ادارت نے عربی دنیا میں ندوۃ العلماء کی علمی آواز کو مسلسل پہنچایا، ان کے اداریے، مضامین اور تحریری خدمات اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ صرف درس گاہ کے استاد نہیں بلکہ ایک صاحبِ قلم عالم بھی تھے، ان کی علمی زندگی کا دائرہ تدریس، تصنیف، صحافت، خطابت اور دعوت تک وسیع تھا؛ ان کی زندگی اور آثار پر حال ہی میں ایک مفصل تحقیقی کتاب بھی شائع ہوئی جس میں ان کی ان مختلف جہتوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔
بطور مہتمم دارالعلوم ندوۃ العلماء بھی حضرت نے اپنی ذمہ داری کو محض ایک انتظامی منصب نہیں سمجھا۔ ندوہ ان کے لیے ایک ادارہ ہی نہیں بلکہ ایک عہد، ایک مشن اور ایک علمی امانت تھا۔ ان کی طویل وابستگی اور ادارے کی ترقی کے لیے مسلسل جدوجہد کا اعتراف ان کے معاصرین نے بھی کیا ہے۔

میرے لیے حضرت کی یاد کا سب سے قیمتی پہلو استاذ ہونے کی نسبت ہے، استاد کی زندگی میں بعض اوقات اس کے شاگردوں کو اس کے مقام کا پورا اندازہ نہیں ہوتا؛ لیکن جب وہ دنیا سے رخصت ہوتا ہے تو اس کی کہی ہوئی باتیں، کلاس کا انداز، تنبیہ کے جملے، شفقت کی نگاہیں اور علمی رہنمائی سب ایک ایک کرکے یاد آنے لگتے ہیں، تب محسوس ہوتا ہے کہ استاد صرف کتاب نہیں پڑھاتا، وہ اپنی شخصیت کا ایک حصہ بھی شاگردوں کے اندر منتقل کرتا ہے۔

حضرت مولانا اعظمیؒ کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ علم سے وفاداری کا مطلب صرف کتابیں لکھ دینا نہیں، بلکہ پوری زندگی کو علم، تعلیم، تربیت اور ملت کی خدمت کے لیے وقف کردینا ہے۔ انہوں نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ ندوۃ العلماء کے ساتھ وفاداری میں گزارا اور اس ادارے کی علمی شناخت کو مضبوط کرنے میں اپنا حصہ ادا کیا، ان کے بارے میں یہ بات خاص طور پر کہی گئی کہ علمی صلاحیت کے باوجود انہوں نے ندوۃ العلماء سے جو وفا کا عہد کیا، اسے پوری زندگی نبھایا۔

اب وہ ہمارے درمیان نہیں رہے ، مگر ان کا علم ان کی کتابوں میں، ان کی آواز ان کے شاگردوں کی یادوں میں، ان کی فکر ان کی تحریروں میں اور ان کی تربیت ان کے تلامذہ کے کردار میں زندہ رہے گی، یہی اہلِ علم کی حقیقی زندگی ہے کہ ان کے جسم رخصت ہوجاتے ہیں، مگر ان کے فیض کے سلسلے جاری رہتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، ان کی علمی و دینی خدمات کو شرفِ قبول عطا فرمائے، ندوۃ العلماء اور ان کے متعلقین کو اس عظیم فقدان پر صبر عطا فرمائے اور ان کے شاگردوں کو اپنے استاذ کے علمی ورثے کی حفاظت اور اس کو آگے پہنچانے کی توفیق دے۔

اللهم اغفر له وارحمه، وعافه واعف عنه، وأكرم نزله، ووسع مدخله، واجعل قبره روضة من رياض الجنة۔ آمین۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔