اکھلیش کا بھگوا لباس اور اویسی کا نعرۂ تکبیر

از:۔ ناصر رامپوری مصباحی

سماجی وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو کی ایک تصویر جس میں وہ بھگوا لباس پہنے ہوئے ہیں سوشل میڈیا پر وائرل ہے اور آج کل اویسی حامیوں نے اُسے مزید وائرل کر رکھا ہے، وہ اِس تصویر کے ذریعہ بار بار یہ طعنہ دے رہے ہیں کہ اکھلیش بھی تو دھرم کی سیاست کرتے ہیں، یہ دیکھو بھگوا پہنے ہوئے ہیں، ان میں اور مودی یوگی میں کیا فرق ہے۔

میں نے ابھی نیٹ پر اِس تصویر کی تحقیق کی تو پتا چلا کہ اکھلیش اِسی اکتوبر کی 8 تاریخ کو ایودھیا اپنے ایک پارٹی نیتا کے گھر ایک نجی اور خالص مذہبی پروگرام میں شرکت کے لیے گئے تھے جو "شری مد بھگوت گیتا” کے نام سے منعقد ہوا تھا، وہیں اُنہیں اہل خانہ نے یہ لباس پہنایا، تو یہ خالص نجی گھریلو مذہبی پروگرام کا واقعہ ہے کسی پبلک سیاسی ریلی کا نہیں۔

اب میں اویسی کے بھگتوں سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا اویسی کے ناقدین اویسی پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ وہ حج میں احرام کیوں پہنتے ہیں، یا وہ کسی درگاہ پر سر پر مذہبی صافا کیوں لِپَٹواتے ہیں، یا وہ نماز میں سر پر ٹوپی کیوں پہنتے ہیں یا وہ نماز میں اللہ اکبر یا حیدرآباد کی میلاد کانفرنس میں نعرۂ تکبیر و رسالت کیوں لگاتے ہیں۔

بلکہ اویسی پر اعتراض یہ ہے کہ وہ خالص سیاسی ریلیوں میں نعرۂ تکبیر کیوں لگاتے ہیں، وہ خالص سیاسی ریلیوں میں اللہ و رسول کے مبارک اسما کا تقدس کیوں پامال کرتے ہیں، اویسی حامی بتائیں کہ کیا خالص سیاسی ریلیوں میں اکھلیش یہ حرکت کرتے ہیں؟ راہل یہ حرکت کرتے ہیں؟ تیجسوی یہ حرکت کرتے ہیں؟ ممتا یہ حرکت کرتی ہیں؟ جب کہ آج کل اویسی یہ حرکت بلا ناغہ اور بالالتزام کر رہے ہیں۔

افسوس کہ اویسی بھگت اویسی کا خالص عقیدت مندانہ اور اندھا دفاع کرتے ہیں اور اُن پر لوگوں کے اعتراض کی اصل نوعیت کو نہیں سمجھتے یا اگر سمجھتے ہیں تو جان بوجھ کر اندیکھی کرتے ہیں، ایسے ہی 2023 کے اپوزیشن کے سانسدوں کی بڑی تعداد میں معطلی کی گئی، کانگریس کے تقریباً 80 فیصد ممبران معطل کر دیے گئے، تین اُسی دن معطل ہوئے جس دن بل پر بحث تھی، جس کے خلاف کانگریس سمیت اپوزیشن نے احتجاھاً بحث میں نہیں لیا اور ہال سے واک آوٹ کیا۔

اپوزیشن کا کہنا تھا کہ جب ہماری کوئی خاص تعداد ہی نہیں بچی تو بحث میں حصہ لینے نہ لینے کا کیا فائدہ، اپوزیشن اپنے سانسدوں کی معطلی کے خلاف سخت احتجاج درج کراتے ہوئے واک آؤٹ کر گیا، اور اس کے خلاف جنتر منتر میں احتجاج کیا، تو اس واک آوٹ کا یہ مطلب نہیں کہ اپوزیشن بل کے خلاف نہیں تھا بالکل خلاف تھا، ہاں معطلی پر احتجاج کرتے ہوئے صرف بحث اور ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا، خلاصہ یہ کہ بل کے اپوزیشن اور اویسی سب خلاف تھے، البتہ اویسی نے واک آوٹ نہیں کیا تو مخالفت میں تقریر کی اور اپوزیشن واک آؤٹ کر گیا تو تقریر نہیں کر سکا۔

تو یہ ہے اصل حقیقت، لہذا اویسی حامیوں سے گزارش ہے کہ وہ اپنے خلیفۃ المسلمین یا فتنۃ المسلمین کا دفاع بھی کریں تو اتنے سطحی درجے کا دفاع نہ کیا کریں، گمراہ کن مغالطے نہ دیا کریں۔

یاد رہے میں اکھلیش یا کسی بھی سیکولر سیاسی پارٹی یا نیتا کو دودھ کا دُھلا نہیں کہہ رہا، میرا کہنا صرف اتنا ہے کہ ہم کسی سیکولر نیتا یا پارٹی کو ووٹ دیں تو اُس کو کنٹرول بھی کریں اور اُس سے وعدے بھی پورے کرائیں اور اُس کو کنٹرول کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ ہم کسی کو محض بھیڑ بن کر ووٹ نہ دیں بلکہ ہم اپنا ایک مختلف المقاصد مشترکہ ملی اتحاد تشکیل دیں اور اس کی نگرانی میں ووٹ دیں تاکہ بعد میں وہ اتحاد کسی بھی پارٹی سے احتساب کرے اور جب پارٹی اس میں سچی نہ اُترے تو اگلی بار ہم اپنے اتحاد کے منع کرنے پر اُسے ایک بھی ووٹ نہ دیں، بس ایک ہی بار میں سیکولر پارٹیوں کو عقل آجائے گی، لیکن بھیڑ کی شکل میں ووٹ دے کر ہم کسی بھی پارٹی اور نیتا کو کنٹرول نہیں کر سکتے اور ہمیشہ دھوکہ کھاتے رہیں گے۔

آج کل اویسی ہی کی مثال لے لیجیے، سیمانچل اور دیگر جگہ کے مسلمان اگر اویسی کو بھیڑ کی شکل میں ووٹ نہ دے کر اپنی کسی مشترکہ ملی قیادت کی نگرانی میں ووٹ دیتے تو ملی قیادت کے صدر کے صرف ایک بار منع کر دینے سے اویسی سیاسی ریلیوں میں مذہبی نعرے لگانے سے ہمیشہ کے لیے تائب ہو جاتے، صرف ایک بار منع کر دینے سے ہمایوں کے ساتھ اتحاد سے باز رہتے اور صرف ایک بار منع کر دینے سے بنگال بابری مسجد فتنہ سے باز رہتے۔

لیکن آج کل وہ کسی کی ایک بات نہیں مان رہے، عاصم وقار کہتے رہ گئے ہمایوں سے اتحاد نہ کرو، لیکن نہیں سُنی، کیوں کہ عاصم وقار پارٹی چھوڑیں تو چھوڑ دیں، مسلمانوں کی بھیڑ تو اُنہیں ووٹ دیتی ہی رہے گی، ایسے نہیں دے گی تو مذہب کے نام پر بے وقوف بنا لیں گے، نعرۂ تکبیر کی مدد سے ووٹ لے لیں گے، بابری مسجد کا فتنہ کھڑا کر کے بے وقوف بنا لیں گے، تو یہی دراصل ڈکٹیٹرشپ ہے، یہ ایک مسلم کے ہاتھوں لاکھوں مسلمانوں کا استحصال ہے۔

البتہ اکھلیش کو ووٹ دینے میں اور اویسی کو ووٹ نہ دینے میں فرق یہ ہے کہ اکھلیش کو ووٹ دینے سے ان کی سرکار بن جانا ممکن ہے، کیوں کہ اُن کو مسلمانوں کے ساتھ ہندو ووٹ بھی آئے گا، اور اُن کی سرکار کم از کم یوگی حکومت سے تو غنیمت ہوگی، جب کہ اویسی کو ووٹ دینے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اویسی بھی ہارے گا اور اکھلیش بھی، اور بدلے میں ہمیشہ بلڈوزر حکومت بنتی رہے گی۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔