از:- معصوم مرادآبادی
راجدھانی دہلی میں ایک اور تاریخی مسجد پر انہدام کی تلوار لٹک رہی ہے۔نئی دہلی میں وزیراعظم کی سرکاری رہائش گاہ کے قریب ریس کورس علاقے میں واقع 150؍سالہ قدیم اس مسجد کو اچانک خالی کرنے کا حکم دہلی سرکار کی طرف سے دیا گیا ہے۔نئی دہلی میونسپل کارپوریشن (این ڈی ایم سی )نے مسجد کی بجلی اور پانی کی سپلائی کاٹ دی ہے اور امام کو مسجد خالی کرنے کے لیے محض چھ دن کی مہلت دی گئی ۔ حالانکہ یہ مسجد ابھی تک این ڈی ایم سی کی ویب سائٹ پر ایک تاریخی ورثے کے طورپر درج ہے اور وقف بورڈ میں بھی اس کا تمام ریکارڈ موجود ہے ، لیکن آج کل ملک میں اندھے کی لاٹھی جس انداز میں چل رہی ہے، اس میں کسی بھی مسجد اور مزار کو ناجائز تعمیر قرار دے کر راتوں رات منہدم کیا جاسکتا ہے۔سہارنپور کلکٹریٹ میں واقع 100سالہ قدیم مسجد کے ظالمانہ انہدام کے بعد اجین کی شاہی مسجد کو سڑک چوڑا کرنے کے نام پر نشانہ بنایا گیا اور اس کے جزوی انہدام کے دوران مسجد کے مینار اور گنبد کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔غرض یہ کہ پورے ملک میں مسجدوں ، مدرسوں اور مزاروں کو غاصبانہ قبضہ قرار دے کر منہدم کرنے کی سازشوں کا بازار گرم ہے ۔المیہ یہ ہے کہ اس معاملے میں مسلمانوں کی آواز کہیں نہیں سنی جارہی ہے۔ حدتو یہ ہے کہ عدالتیں بھی اس معاملے میں لاچار نظر آتی ہیں اور بعض معاملات میں ان کا رویہ بھی ناقابل فہم ہے ۔ مدھیہ پردیش کے دھار ضلع میں واقع تاریخی کمال مولیٰ مسجد کو جس انداز میں مندر قراردے کر وہاں پوجا پاٹ کی اجازت دی گئی ، اس نے بابری مسجد کے زخم ہرے کردئیے ہیں۔
نئی دہلی کے جس علاقہ میں ریس کورس روڈ کی تاریخی مسجد واقع ہے وہ وزیراعظم نریندر مودی کی سرکاری رہائش گاہ کا علاقہ ہے جو حفاظتی نقطہ نظر سے دہلی کا سب سے حساس علاقہ مانا جاتا ہے۔ اب یہ بھی ہوگیا کہ حفاظتی نقطہ نظر سے کسی حساس علاقہ میں کوئی مسجد ہوتی ہے تو اسے سیکورٹی کے لیے خطرہ قرار دیا جاتا ہے۔راجستھان میں پاکستانی سرحد سے متصل مسلم آبادی میں درجنوں مسجدوں کو سیکورٹی کے لیے خطرہ بتاکر منہدم کیا جاچکا ہے۔ریس کورس مسجد کے اوپر لٹکتی ہوئی انہدام کی تلوار پر پورے ملک میں بے چینی پھیل گئی ہے۔ ایک طرف جہاں بیرسٹر اسد الدین اویسی نے اس پر احتجاج درج کرایا ہے تو وہیں کشمیری رہنما میرواعظ عمر فاروق نے بھی تشویش ظاہر کی ہے۔مسلم تنظیمیں بھی اس مسئلہ پر احتجاج کررہی ہیں ۔دوبیگھہ زمین پر پھیلی ہوئی یہ مسجد اتنی بڑی ہے کہ یہاں ایک وقت میں 800 لوگ نماز ادا کرسکتے ہیں۔اس جمعہ کو بہ مشکل تمام مسلمانوں کو یہاں نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت دی گئی۔مسجد کے امام نے بجلی اور پانی کا کنکشن بحال کرنے کے لیے دہلی ہائی کورٹ میں جو عرضی داخل کی تھی وہ پہلے ہی مسترد کی جاچکی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ریس کورس کی مسجد کا معاملہ گزشتہ چھ ماہ سے چل رہا ہے اور مسجد کے امام مولانا محمدہارون نے باربار دہلی وقف بورڈ کو اس طرف متوجہ کیا ہے ، لیکن وقف بورڈ نے مسجد میں بجلی اور پانی کی سپلائی بحال کرنے کے سلسلہ میں این ڈی ایم سی کو خط لکھنے کے علاوہ کوئی اور کام نہیں کیا۔مسجد کے امام مولانا محمدہارون نے اس سلسلے میں جو دردمندانہ ویڈیو پیغام ملت کے بہی خواہوں کے نام جاری کیا ہے ، اس میں دہلی وقف بورڈ کی غفلت اور لاپروائی کا کچا چٹھا موجود ہے۔امام صاحب کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ چھ ماہ سے وقف بورڈ کو مسلسل اس جانب متوجہ کررہے ہیں ، لیکن بورڈ نے اس سلسلہ میں کوئی ٹھوس کارروائی نہیں کی جبکہ مسجدکے معاملے میں وہی مجاز اتھارٹی ہے۔اگر بورڈ چاہتا تو اس معاملے میں عدالت سے رجوع ہوسکتا تھا لیکن المیہ یہ ہے کہ وقف بورڈ نہ تو خود عدالت گیا اور نہ ہی مسجد کے امام کو ایسا کرنے کی اجازت دی ۔
مسجد کے امام کا کہنا ہے کہ یہ مسجد قطعی قانونی اور جائز عمارت ہے ۔ 2021 میں جو سروے کیا گیا تھا اس میں بھی مسجد کو قانونی طورپرجائز عمارت تسلیم کیا گیا تھا۔ ظاہرہے وقف بورڈ سرکار کے ماتحت ایک ادارہ ہے اور جب سے دہلی میں بی جے پی اقتدار میں آئی ہے تو اس قسم کے معاملات بڑھ گئے ہیں۔دہلی سرکار کے لینڈ اینڈ ڈیولپمنٹ آفس (ایل اینڈ ڈی او )نے مسجد کے اطراف میں موجود جھگیوں اور بعض مکانات کو ہٹانے کی کارروائی کے دوران کسی پیشگی اطلاع کے بغیر مسجد کا بجلی اور پانی کا کنکشن کاٹ دیا جبکہ یہاں1976سے بجلی کا کنکشن موجود تھا اور وقت پر بل کی ادائیگی بھی ہورہی تھی ۔ بجلی کا کنکشن کاٹنے کے بعد نماز میں خلل واقع ہوا ہے ۔ یہاں تک کہ مسجد کا راستہ بھی بند کردیا گیا اور اب نمازیوں کو جانے کی اجازت نہیں ہے۔ ریس کورس میں واقع مسجد کی اراضی اور اس سے متصل قبرستان کو 8؍ستمبر 1977 کو دہلی انتظامیہ نے سرکاری گزٹ میں وقف جائیداد کے طورپر نوٹیفائی کیا تھا ۔ اس اندراج میں مسجد ، حجرہ ، کنواں اور قبرستان کا ذکر ہے ۔ یکم اکتوبر 2026 کو دہلی حکومت کے محکمہ شہری ترقیات کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی اس مقام کو ’مسجد اور احاطہ ‘ کے طورپر گریڈ دوم کے تاریخی ورثے کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے ۔اس سلسلے میں اے پی سی آر نے دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر سردار ترنجیت سنگھ کو جو عرض داشت پیش کی ہے، اس میں بتایا گیا ہے کہ 17؍اکتوبر کو ایل اینڈ ڈی او نئی دہلی ریجن کے ڈپٹی افسرکنال بھاسکر دیگر حکام کے ساتھ مسجد کے احاطہ میں پہنچے تھے اور انھوں نے مبینہ طورپر مسجد کو منہدم کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔
اگر غور سے دیکھا جائے تو مسجد ریس کورس کے معاملے میں اصل قصور دہلی وقف بورڈ کا ہے ، جس نے مسجد کے امام کی طرف سے بار بار توجہ دلانے کے باوجود کوئی قانونی کا رروائی نہیں کی اور چھ ماہ کا عرصہ یونہی ضائع کردیا۔
بی جے پی سرکاروں میں وقف بورڈوں کا حال کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ وقف بورڈہی اپنے ہاں رجسٹرڈ مسجدوں اور مدرسوں کے تحفظ کے لیے ذمہ دار ہے ، لیکن دہلی میں وقف بورڈاس وقت معطل ہے اور وہاں ایک جزوقتی سی ای او تعینات ہے ، جو اپنے اوپر کوئی ذمہ داری لینے کو تیار ہی نہیں ہے۔نیا وقف ایکٹ نافذ ہونے کے بعد وقف بورڈوں کی کارکردگی کتنی ناقص ہے، اس کا اندازہ گزشتہ دنوں اس وقت ہوا جب کشمیر وقف بورڈ کی خاتون چیئر مین نے یہ حکم جاری کیا کہ پورے کشمیرمیں نماز جمعہ کے دوران ایک ہی خطبہ پڑھا جائے گا اور کوئی امام اپنی مرضی سے دوسرا خطبہ نہیں پڑھے گا۔ یہ واضح طورمسلمانوں کے مذہبی امور میں مداخلت تھی جس کی شدید مخالفت ہوئی ۔ مسجد ریس کورس کامعاملہ یہ ہے کہ یہ مسجد نئے وقف ترمیمی قانون کے تحت وقف بائی یوزر کی حیثیت سے وقف ترمیمی قانون کے تحت آتی ہے اور ماضی میں رجسٹرڈ املاک کو اس قانون کے تحت تحفظ حاصل ہے۔ لیکن اس کے باوجوداس معاملے میں دہلی وقف بورڈ نے جو غفلت برتی ہے وہ لائق مذمت ہے۔
دہلی ہندوستان کا واحد شہر ہے جہاں مسلم بادشاہوں کی تعمیر کردہ عالیشان مسجدیں موجود ہیں۔ ان میں سے بیشتر محکمہ آثار قدیمہ کی تحویل میں ہیں اور وہاں نماز کی اجازت نہیں ہے۔ان مسجدوں میں سیاحوں کو جوتیوں سمیت گھومنے کی اجازت ہے ، لیکن مسلمانوں کو نماز کی نہیں۔مجھے یاد ہے کہ نوّے کی دہائی میں دہلی کے کچھ مسلم نوجوانوں نے ’مسجد بساؤ کمیٹی ‘ بناکر ان تاریخی مسجدوں میں نماز کی اجازت کے لیے ایک زوردار تحریک چلائی تھی ۔ اس تحریک کے نتیجے میں مسلم قائدین نے آنجہانی وزیراعظم اندرا گاندھی سے ملاقات کی اور کچھ تاریخی مسجدوں میں نماز کی اجازت حاصل کرلی تھی ، لیکن آج بھی اس شہر میں لاتعداد تاریخی مسجدیں ایسی ہیں جہاں نماز کی اجازت نہیں ہے، جہاں اجازت ہے وہاں مختلف حیلوں بہانوں سے نماز کا سلسلہ روکنے اور مسجد کو متنا زعہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔جس کا تازہ ترین ثبوت ریس کورس کی مسجد ہے۔