طلبہ احتجاج میں پیلٹ گن کے مبینہ استعمال پر وزیر داخلہ سے بیان کا مطالبہ، حکومت کی یقین دہانی نہ ملنے پر دونوں ایوانوں کی کارروائی متاثر
نئی دہلی: راجیہ سبھا میں جمعرات کو اپوزیشن کے شدید ہنگامے کے دوران چیئرمین سی پی رادھا کرشنن نے حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ قائد حزب اختلاف سمیت اپوزیشن کے اس مطالبے پر سنجیدگی سے غور کرے، جس میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی ایوان میں موجودگی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
ایوان کی کارروائی کے دوران اپوزیشن ارکان نے حالیہ طلبہ احتجاج کے دوران پولیس کی جانب سے پیلٹ گن کے مبینہ استعمال کے معاملے پر وزیر داخلہ امت شاہ سے ایوان میں آکر بیان دینے کا مطالبہ کیا۔ اپوزیشن کا کہنا تھا کہ یہ عوامی اہمیت کا حساس معاملہ ہے، اس لیے حکومت کو براہِ راست پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا چاہیے۔
چیئرمین سی پی رادھا کرشنن نے پارلیمانی امور کے وزیر کرن ریجیجو سے کہا کہ وہ ایوان کے جذبات حکومت اور وزیر داخلہ تک پہنچائیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے مطالبے پر غور کیا جانا چاہیے تاکہ ایوان کی کارروائی خوش اسلوبی سے چل سکے اور تعطل ختم ہو۔
تاہم حکومت کی جانب سے امت شاہ کی ایوان میں موجودگی کے حوالے سے فوری طور پر کوئی یقین دہانی نہیں کرائی گئی، جس کے بعد اپوزیشن نے اپنا احتجاج جاری رکھا۔ شور شرابے اور نعرے بازی کے باعث راجیہ سبھا کی کارروائی کئی بار متاثر ہوئی اور بالآخر ایوان کو ملتوی کرنا پڑا۔ ادھر لوک سبھا میں بھی اپوزیشن کے ہنگامے کے سبب کارروائی بار بار تعطل کا شکار رہی۔
اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ اتنے اہم معاملے پر وزیر داخلہ کو خود ایوان میں آکر وضاحت دینی چاہیے، جبکہ حکومت نے اب تک اس سلسلے میں کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے۔