زکوۃ کی وصولی

سائنس اور ٹیکنالوجی کے ماہرین ہماری زندگی کو آسان بنانے ، ہمیں راحت پہنچانے ، ہمارے کام کو منظم اور خوب سے خوب تر بنانے، اور کم محنت میں زیادہ کام کرنے کے لائق بنانے کے لئے دن رات جدوجہد کر رہے ہیں۔ انہوں نے انسانوں کو سہولیات پہنچانے کے لیے اپنی زندگیوں کو وقف کر رکھا ہے ۔ ان کی عرق ریزی کا نتیجہ ہے کو جو کام پہلے ہفتوں اور مہینوں میں ہوتا تھا اب وہ چند گھنٹے میں ہونے لگا ۔ انہوں نے ایسی ایسی ایجادات کو متعارف کرایا کہ عقل حیران ہے۔‌ بینکوں میں اکاؤنٹ کھلوانے ، پیسے جمع کرنے اور نکالنے کے لئے گھنٹوں قطار میں کھڑے رہنے سے اس طرح نجات دلایا کہ اب سارے ٹرانزیکشن آن لائن ہونے لگے۔ اسی طرح دوسرے میدانوں میں نئی ٹیکنالوجی کی وجہ سے کم وقت اور کم صرفہ میں بہتر اور زیادہ کام ہونے لگا۔

زکوۃ کی وصولی Read More »

دین اور مسلمان

رمضان کا مہینہ آتے ہی اکثر دوست احباب پوچھنا شروع کر دیتے ہیں کہ بھائی یہ زکواۃ کا کیا معاملہ ہے ۔ مجبوراً جواب دینا پڑتا ہے کہ بھائی کب تک یہ معاملہ پوچھتے رہیں گے ؟ ۔جواب ملتا ہے کہ یہ تو معلوم ہے کہ ڈھائی فیصد نکالنا ہے لیکن ہمارے پاس نقد تو رہتا نہیں ہے اور جو تجارت میں ہے آپ تو جانتے ہی ہیں کہ وہ کب ملے گا اور ملے گا بھی یا نہیں اس کی کوئی ضمانت نہیں۔ جہاں تک زیورات کی بات ہے اس کی زکواۃ تو ہم نکالتے ہی ہیں لیکن اپنی عورتوں سے کہتے ہیں کہ زیوارات اتنا ہی رکھیں جتنی ضرورت ہے کیوں کہ زیادہ زیورات رکھ کر اس کی زکواۃ ادا کرکے کیا فائدہ جب ضرورت ہوگی زیور خرید لیں گے ۔

دین اور مسلمان Read More »

اپریل فول: ایک رسم بد

موجودہ دور میں لوگوں کو ہنسانا بھی آرٹ اور فن میں شامل کرلیا گیا ہے ،اس کے نمائندوں کو ’’کامیڈین‘‘ (Comedian) کے نام سے شہرت ملتی ہے،نیزان پروگراموں میں وہی لوگ کامیاب سمجھتے ہیں جوجھوٹ بولنے میں اول درجے کی مہارت رکھتے ہوں اور اپنی کذب بیانی سے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ہنسا سکتے ہوں۔

اپریل فول: ایک رسم بد Read More »

نسل نو کی تربیت کے بغیر اعلی تعلیم بھی کسی تباہی سے کم نہیں !

ہمارے سماج اور معاشرے میں پہلے اتنے اسکول کالج مکتب اور یونیورسٹی نہیں تھی لیکن خاندانی بزرگوں میں بچوں کی تربیت کا ایک مزاج بنا ہوا تھا ۔ہمارے پڑوس کے بزرگ بھی ہماری غلط حرکتوں پر ٹوک دیتے تھے ۔اب اسکول کالج مکتب اور یونیورسٹی کی تو بھر مار ہے لیکن پڑوسی تو دور کی بات نہ صرف والدین خود اپنے بچوں کو نصیحت کرنے سے ڈرتے ہیں خود ان کی بھی ایسی حرکتیں ہوتی ہیں کہ سب سے پہلے تو والدین بھی تربیت کے محتاج ہیں ۔جب کسی سماج سے انسانی معاشرے کی اصلاح اور تربیت کا یہ ستون منہدم ہو جاۓ تو پھر وہاں خیر نہیں شر کا بول بالا ہو گا ۔جو ہم دیکھ رہے ہیں ۔

نسل نو کی تربیت کے بغیر اعلی تعلیم بھی کسی تباہی سے کم نہیں ! Read More »

اوپر تک سکرول کریں۔