نئی دہلی: بھارت کو جنوبی افریقہ کے خلاف اہم ٹی20 میچ میں 76 رنز کی بھاری شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس ناکامی نے نہ صرف شائقین کو مایوس کیا بلکہ ٹیم کے توازن اور حکمت عملی پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق بھارتی ٹیم کی شکست کے پیچھے چند بنیادی وجوہات کارفرما رہیں، جنہوں نے میچ کا پانسہ جنوبی افریقہ کے حق میں پلٹ دیا۔
بولرز دباؤ برقرار رکھنے میں ناکام
میچ کے ابتدائی مرحلے میں جنوبی افریقہ کی تین وکٹیں جلد گر گئیں اور اسکور 20 رنز پر 3 کھلاڑی آؤٹ تھے، تاہم بھارتی بولرز اس دباؤ کو برقرار نہ رکھ سکے۔ بعد ازاں ڈیوڈ ملر اور ڈیوالڈ بریوس کی شاندار شراکت نے اننگز کو سنبھالا اور ٹیم کو مضبوط پوزیشن میں پہنچا دیا۔
اسپن شعبے کی غیر مؤثر کارکردگی
بھارتی اسپنرز توقعات پر پورا نہ اتر سکے۔ خاص طور پر واشنگٹن سندر اور ورون چکرورتی خاطر خواہ اثر نہ چھوڑ سکے، جس کے باعث رنز کی رفتار کو قابو میں رکھنا ممکن نہ ہو سکا۔
آخری اوور میں مہنگی بولنگ
ہاردک پانڈیا کے آخری اوور میں اضافی رنز نے جنوبی افریقہ کو بڑا مجموعہ حاصل کرنے میں مدد دی۔ اس مرحلے پر قابو نہ پانا بھارتی ٹیم کے لیے نقصان دہ ثابت ہوا۔
اوپنرز کی ناکامی
ہدف کے تعاقب میں بھارتی اوپنرز اچھا آغاز فراہم کرنے میں ناکام رہے۔ ابتدائی وکٹیں جلد گرنے سے ٹیم دباؤ کا شکار ہو گئی اور مطلوبہ رفتار سے رنز بنانا مشکل ہو گیا۔ ابھیشیک شرمااور تلک ورما خاطر خواہ کارکردگی نہ دکھا سکے۔
غیر ذمہ دارانہ بیٹنگ
بھارتی بلے بازوں نے پچ اور حالات کو سمجھے بغیر جارحانہ شاٹس کھیلنے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں وکٹیں تیزی سے گرتی چلی گئیں۔ پوری ٹیم مقررہ ہدف کے تعاقب میں محض 111 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بھارت کو آئندہ مقابلوں میں کامیابی حاصل کرنی ہے تو بولنگ اور بیٹنگ دونوں شعبوں میں نمایاں بہتری لانا ہوگی، بصورت دیگر بڑے مقابلوں میں مشکلات برقرار رہیں گی۔