مدارسِ ملحقہ کی تنخواہیں روکنا انصاف کے خلاف: وزیرِ اعلیٰ سے مداخلت کی اپیل

از:- مولانا ڈاکٹر ابوالکلام قاسمی شمسی

بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ ایک مضبوط اور خود مختار ادارہ ہے ، جو حکومت بہار کی شان ہے ، اس کا قیام 1922 میں عمل میں آیا ، اس کے قیام کو 100/ سال سے زیادہ عرصہ گذر گیا ، اس سے بہت سے مدارس ملحق ہیں ، ان میں سے بڑی تعداد میں ایسے مدارس ہیں ،جن کے اساتذہ و ملازمین کی تنخواہ کی ادائیگی حکومت کی جانب سے کی جاتی ہے ، مدارس ملحقہ کے اساتذہ و ملازمین میں سے اکثر غریب فیمیلی سے تعلق رکھتے ہیں ، جن کے پاس تنخواہ کے علاؤہ کوئی آمدنی کا ذریعہ نہیں ہے ، ان کی فیمیلی کا انحصار تنخواہ ہی پر ہے ، ایسی حالت میں جانچ کی آڑ میں ان کی تنخواہ بند کردیا جانا نہایت ہی افسوس کی بات ہے ، اور یہ انصاف کے تقاضوں کے بھی خلاف ہے۔

جہانتک مدارس ملحقہ کی جانچ اور انکوائری کی بات ہے ، تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے ، حکومت کی جانب سے مدارس ملحقہ کی جانچ و انکوائری ہوتی رہی ہے ، مدارس کی انکوائری کے بعد ہی تنخواہ کی ادائیگی کی گئی ہے ، مدارس کے ذمہ داران اور اساتذہ انکوائری میں ہمیشہ تعاون کرتے رہے ہیں ، مگر موجودہ وقت میں تنخواہ بند کرکے انکوائری کرانے کی وجہ سے دشواری ہے ، جانچ اور انکوائری کے درمیان تنخواہ بند کرنے سے ادارے میں کام کرنے والے لوگوں کو کتنی دقتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، اس سے سبھی واقف ہیں ، مدارس کے اساتذہ و ملازمین ایسی ہی پریشانیوں سے دو چار ہیں ، ان کے گھروں میں فاقے ہورہے ہیں ، وہ تو خود پریشان ہیں ہی ، ان کے فیمیلی کے لوگ ، ان کے ماں باپ ، بال بچے سبھی بے قصور بھوک مری کے شکار ہورہے ہیں ، یہ حکومت بہار کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔

موجودہ وقت حکومت بہار کے لئے نہایت ہی اہم ہے ، یہاں نئی حکومت بنی ہے ، اس سے یہاں کے لوگوں کی امیدیں وابستہ ہیں ، ہونا یہ چاہئے کہ نئی حکومت یہاں کے کاموں کو نئے زاویئے سے دیکھتی ، اس کی کمیوں کا جائزہ لیتی ، جہاں کمی تھی اس کو دور کرتی ، پھر کام کا جائزہ لیتی کہ لوگ کام کر رہے ہیں کہ نہیں ؟ مگر ایسا نہ کر کے پہلے ہی جائزہ لینا شروع کردیا گیا ، اور انداز جارحانہ اختیار کیا گیا یعنی ٹنخواہ بند کردی گئی ، جس کی وجہ سے ایک مخصوص کمزور حلقہ کے ملازمین مایوسی کے شکار ہوگئے ، یہ حکومت کے لئے نیک فال نہیں ، اس لئے موجودہ وقت میں اس کی ضرورت ہے کہ حکومت بہار اپنے فیصلے پر نظرِ ثانی کرے۔

مذکورہ بالا حقائق کے تناظر میں حکومت بہار بالخصوص محترم وزیر اعلی حکومت بہار سے اپیل ہے کہ وہ مدارس ملحقہ کے اساتذہ و ملازمین کی تنخواہ جاری کرنے کے سلسلے میں مداخلت کریں ، اور تنخواہ کی ادائیگی کا حکم صادر کرنے کی زحمت کی جائے ، اور جلد انکوائری کے عمل کو مکمل کرایا جائے ، مدارس ملحقہ کے اساتذہ و ملازمین کی تنخواہ بند ہونے سے جہاں اساتذہ و ملازمین میں مایوسی ہے ، وہیں اس کی وجہ سے مسلم اقلیت کے عوام و خواص میں بھی مایوسی پائی جارہی ہے ، توقع ہے کہ حکومت بہار بالخصوص محترم وزیر اعلی اس جانب توجہ دیں گے ، اللہ تعالیٰ خیر کی توفیق عطا فرمائے۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔