مدارس سے طلبہ کی بے رغبتی کیوں بڑھ رہی ہے ؟

شوال المکرم یوں تو عربی سال و تقویم کا دسواں مہینہ ہے ،لیکن برصغیر ہندوپاک کے مدارس عربیہ کے لئے یہ نیا تعلیمی سال ہوتا ہے ،اس مہینے میں مدارسِ اسلامیہ لمبی تعطیل کے بعد کھلتے ہیں اور نئے اور پرانے داخلے شروع ہوجاتے ہیں اور وسط شوال یا اخیر شوال کے اخیر عشرہ میں اکثر مدارسِ میں تعلیم کا آغاز ہوجاتا ہے۔جن مدارس کا تعلیمی معیار بلند ہوتا ہے اور جہاں نظم و نسق اور سہولیات بہتر ہوتے ہیں یا جو شہری علاقوں میں ہوتے ہیں وہاں ہفتہ عشرہ میں داخلے کی کارروائی مکمل ہوجاتی ہے۔

مدارس سے طلبہ کی بے رغبتی کیوں بڑھ رہی ہے ؟ Read More »

شندے حکومت پرسپریم کورٹ کا فیصلہ ایک معمہ​

دراصل بی جے پی کی شہ پر شیوسینا میں بغاوت ہوئی سولہ ممبر اسمبلی الگ ہوگئے، اُس وقت کے گورنر بھگت سنگھ کوشیاری کو اطلاع ہوئی اُنھوں نے فورا اسمبلی میں اکثریت ثابت کرنے کا حکم دے دیا ـ شیوینا عدالت پہونچی عدالت نے فرمایا فکر نہ کرو “ ہم بیٹھے ہیں نا “ ـ

شندے حکومت پرسپریم کورٹ کا فیصلہ ایک معمہ​ Read More »

عمران خان کی سپریم کورٹ کے حکم پر رہائی​

عمران خان نے اپنی گرفتاری کے بعد ہونے والے احتجاج پر سپریم کورٹ سے معافی بھی مانگ لی ہے۔ اس نے کہا، "مجھے افسوس ہے، مجھے کچھ معلوم نہیں تھا کیونکہ میں زیر حراست تھا۔عدالتی حکم کے بعد عمران نے عدالت سے کہا کہ ملک کو کوئی نقصان نہ پہنچے اور اپنے حامیوں کو امن برقرار رکھنے کو کہا۔انہوں نے عدالت میں کہا کہ ہم صرف ملک میں الیکشن چاہتے ہیں۔

عمران خان کی سپریم کورٹ کے حکم پر رہائی​ Read More »

سوال یہ ہے کہ کیا مسلم ریزرویشن نام کی کوئی چیز ہے ؟

کرناٹک اسمبلی انتخابات میں جس طرح سے 4؍فیصد مسلم ریزرویشن کے معاملے کو اٹھایا گیا اور بار بار اس کو مسلم ریزرویشن کہا گیا اس کا مقصد واضح طور پر پولرائزیشن تھا ۔ ریزرویشن ختم ہی اسی لیے کیا گیا تھا تاکہ اکثریتی طبقہ کی خوشنودی حاصل کی جا سکے ، یہ کہا جا سکے کہ ہم مسلمانوں کے ریزویشن کو ختم کر دیا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ 4؍فیصد ریزرویشن مذہب کی بنیاد پر نہیں دیا گیا تھا بلکہ پسماندگی کی بنیاد پر دیا گیا تھا ۔

سوال یہ ہے کہ کیا مسلم ریزرویشن نام کی کوئی چیز ہے ؟ Read More »

مایوس کن اور تشویشناک حالات کا حل؛ تعلیم ہے

دین ہمارا اساس ہے اسے نظر انداز کر کے ہم اپنے معاشرے بالخصوص نئی نسل کی حقیقی اور مکمل تعمیر وترقی نہیں کر سکتے ہیں۔ دراصل دین اور دنیا میں تفریق زوال کی اہم وجہ ہے۔ اسی لئے تعلیم کا ہدف فقط تعلیم اور روزگار کا وسیلہ ہی نہیں تربیت بھی ہونا چاہیے۔‌ تعلیم یافتہ لڑکے اور لڑکیوں کی چال ڈھال سے دینی تربیت جھلکنا چاہیے بالعموم مسلمانوں کے اخلاق اور معاملات دین اسلام کا متعارف کرانے والے ہوں اسے یقینی بنانے کے لئے ہر حلقہ میں کام کرنا چاہیے۔

مایوس کن اور تشویشناک حالات کا حل؛ تعلیم ہے Read More »

اوپر تک سکرول کریں۔